طالبان کا ترکی کانفرنس میں افغان حکومت کے ساتھ ملاقات سے انکار

افغان طالبان کے ترجمان محمد نعیم کا کہنا ہے کہ اس ہفتے ترکی میں امن کانفرنس میں شرکت اور امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن کی امن تجویز پر غور کیا جا رہا ہے اور حتمی فیصلے سے آگاہ کر دیا جائے گا۔

طالبان کے مذاکرات کار عباس ستانکزئی 12 ستمبر 2020 کو قطری دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور کے لیے آتے ہوئے۔ (اے ایف پی)

افغان طالبان نے کہا ہے کہ وہ اس ہفتے ممکنہ طور پر ترکی میں منعقد ہونے والی ایک امن کانفرنس میں شرکت نہیں کریں گے۔

طالبان کے ترجمان کا یہ بیان پیر کو سامنے آنے کے بعد امریکہ کی جلد ہی کوئی امن منصوبہ لانے کی کوششیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

طالبان ترجمان محمد نعیم نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو ایک آڈیو پیغام ارسال کیا جس میں انہوں نے کہا کہ اسلامی امارت (طالبان اپنی حکومت کو یہ نام دیتے ہیں) منصوبے کے مطابق اس ہفتے ترکی میں ہونے والی امن کانفرنس میں شرکت کے لیے تیار نہیں ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند گروپ ابھی تک امریکہ کے تجویز کردہ امن معاہدے پر بات چیت میں مصروف ہیں۔ ترجمان نے بعد میں آڈیو پیغام کو ایک وٹس ایپ گروپ میں بھی شیئر کیا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا ہے کہ امن کانفرنس میں شرکت اور امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن کی امن تجویز پر غور کیا جا رہا ہے ’اور جب بھی غور کا عمل مکمل ہو گا، ہم اپنے حتمی فیصلے سے آگاہ کر دیں گے۔‘

دوسری طرف کابل میں امریکی سفارت خانے نے پیر کو کہا کہ افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے افغان دارالحکومت میں چار دن گزارے۔ انہوں نے حکومتی عہدے داروں اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی جن میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیا گیا۔ 

امریکی سفارت خانے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ زلمے خلیل زاد کی تمام ملاقاتوں کے پیچھے استنبول کانفرنس کا مشترکہ ویژن تھا جس کا مقصد افغانستان میں دیرپا امن کے مواقعے بڑھانا ہے۔

اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ترکی کی میزبانی میں ہونے والی کانفرنس، جس میں طالبان اور افغان حکومت دونوں کے اعلیٰ عہدے دار شرکت کریں گے، میں افغانستان کے متحارب فریق کسی امن معاہدے کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہو جائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی اور ترک حکام کا کہنا تھا کہ ان کا ارادہ ہے کہ کانفرنس کا جمعے سے آغاز ہو جائے۔ یہ کانفرنس 10 روز جاری رہنی تھی۔ اس کانفرنس کے لیے کوئی نئی تاریخ طے نہیں کی گئی لیکن ایک سال سے زیادہ عرصہ پہلے ٹرمپ انتظامیہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق افغانستان سے امریکی اور نیٹو کی فوج کے انخلا کے لیے یکم مئی کی آخری تاریخ کا وقت گزرتا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ طالبان واضح کر چکے ہیں کہ وہ صدراشرف غنی کی سربراہی میں حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے تاہم انہوں نے امریکی وزیر خارجہ کی تجویز کے متبادل کوئی تجویز نہیں دی۔

بلنکن نے صدر اشرف غنی اور دوسرے رہنماؤں کو دوٹوک الفاظ میں خط لکھ کر ترکی امن کانفرنس کا اعلان کیا تھا۔ اس خط میں انہوں نے خبر دار کیا تھا کہ کسی سیاسی تصفیے کے بغیر امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی کے نتیجے میں غنی حکومت کمزور ہو جائے گی جس کا فائدہ طالبان کو ہو گا۔

خط میں ان کا کہنا تھا: ’مجھے تشویش ہے کہ سلامتی کی صورت حال خراب ہو جائے گی اور طالبان کو مختلف علاقوں میں قدم جمانے کا موقع مل جائے گا۔‘

انہوں نے گذشتہ ماہ افغان حکومت اور طالبان کو ایک مجوزہ امن منصوبہ بھی دیا تھا، جو دنوں فریقین نے نظرثانی کرنے کے بعد استنبول آنا تھا کہ کوئی معاہدے طے پایا جا سکے۔ 

ان کے منصوبے میں خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا شامل تھا اور آئین میں ترامیم کی تجویز تھی۔ اس میں ایک عبوری حکومت قائم کرنے کا بھی کہا گیا تھا جس کا نام ’امن حکومت‘ ہوگا۔ منصوبے کے مطابق ایک اسلامی مشاورتی کونسل بھی قائم ہوگی جو تمام قواتین کو اسلامی عقائد کے مطابق رکھنے کے حوالے سے تجاویز دینے کی ذمہ دار ہوگی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا