پاکستان: ’امن و امان‘ کے لیے معطل سوشل میڈیا سروسز بحال

حکومت پاکستان نے جمعے کو ملک بھر میں تقریباً چار گھنٹے تک سوشل میڈیا سروسز معطل رکھنے کے بعد بحال کر دیں۔

وزرات داخلہ کے ذرائع نےسوشل میڈیا پر عارضی  پابندی کی تصدیق تو کی تاہم وجہ بتانے سے گریز کیا(اے ایف پی)

حکومت پاکستان نے جمعے کو ملک بھر میں تقریباً چار گھنٹے تک سوشل میڈیا سروسز معطل رکھنے کے بعد بحال کر دیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے مطابق ملک میں ’عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے‘ کے لیے سوشل میڈیا کے مخصوص پلیٹ فارمز بند کیے گئے۔

پی ٹی اے کی ہدایت کے بعد انٹرنیٹ مہیا کرنے والی کمپنیوں (آئی ایس پیز) نے اپنے صارفین کو پیغامات کے ذریعے مطلع کیا کہ ملک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بند ہیں۔ 

ان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 11 بجے پابندی شروع ہوئی جو دوپہر تین بجے تک جاری رہی۔ تین بجے کے بعد یہ سروسز بتدریج بحال ہونے لگیں۔

پابندی کی زد میں آنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز میں فیس بک، یوٹیوب، ٹوئٹر، گوگل، انسٹا گرام اور واٹس ایپ شامل تھے۔

پی ٹی اے کے ایک سینیئر عہدے دار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ پابندی وفاقی وزارت داخلہ کے کہنے پر عائد کی گئی۔

وزرات داخلہ کے ذرائع نے پابندی کی تصدیق تو کی تاہم وجہ بتانے سے گریز کیا۔

وزارت داخلہ کے ایک اور سینیئر اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ پابندی تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ممکنہ احتجاج کے پیس نظر لگائی گئی۔

انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا: ’آج جمعہ ہے اور پورا امکان اور اطلاعات ہیں کہ ٹی ایل پی کے کارکن اور ہمدرد نماز جمعہ کے بعد احتجاج کریں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ٹی ایل پی کے گذشتہ چار روز کے ملک گیر احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد جانوں سے گئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔

وفاقی حکومت نے بدھ کو ٹی ایل پی پر انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت پابندی عائد کی تھی، جس کے جواب میں پارٹی نے جمعے کو ملک بھر میں احتجاج کی کال دی۔

جمعرات کی رات سے ٹی ایل پی کے کئی عہدے دار اور ورکرز نماز جمعہ کے بعد تنظیم پر پابندی کے خلاف احتجاج کی کال اور ورکرز کو مختلف مقامات پر اکٹھا ہونے کے پیغامات دے رہے تھے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل