قومی اسمبلی میں قرارداد: چھ سوالات

کیا حکومت کے سامنے کوئی لائحہ عمل اور فلسفہ حیات بھی موجود ہے یا ساری حکومت مل کر اپنی ساری کوشش اسی بات پر صرف کر دیتی ہے کہ آج کا دن کیسے گزارنا ہے؟

رواں ہفتے کی اس تصویر میں پولیس کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان کے دھرنے کو آنسوگیس پھینک کر منتشر کرنے کی کوشش کر رہی ہے (اے ایف پی فائل)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے نیچے کلک کیجیے

 

 

قومی اسمبلی میں پیش کردہ قرارداد کا حاصل چند اہم سوالات ہیں۔ آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔

پہلا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ یہ قرارداد حکومت نے کیوں پیش نہیں کی، پرائیویٹ ممبر کی جانب سے کیوں پیش کی گئی؟ تحریک لبیک کے ساتھ مذاکرات کسی رکن اسمبلی نے نجی حیثیت میں تو نہیں کیے تھے۔ یہ مذاکرات حکومت نے کیے تھے۔ پارلیمان میں قرارداد لانے کا وعدہ حکومتی شخصیات نے کیا تھا۔ اب اس کے اعادے کا فیصلہ بھی حکومت ہی کو کرنا پڑا۔ لاہور میں کارروائی اور تحریک لبیک کو کالعدم قرار دینے کے بعد اس سے دوبارہ مذاکرات بھی کسی رکن پارلیمان نے نجی حیثیت میں نہیں کیے۔ یہ بھی حکومت نے کیے۔

انہی مذاکرات کے بعد وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ حکومت قرارداد پیش کرے گی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ حکومت کی بجائے ایک رکن پارلیمان سے نجی حیثیت میں قرارداد پیش کروائی گئی؟ حکومت معاہدے کر سکتی ہے تو قرارداد پیش کرنے میں اسے کیوں تامل تھا؟ حکومت دیگر معاملات میں تو پارلیمان تو گھاس نہیں ڈالتی اور معاملات صدارتی آرڈیننسوں سے چلائے جاتے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہ معاملہ کابینہ کی بجائے پارلیمان کے سامنے رکھا گیا؟ یہ پارلیمان کی اجتماعی دانش کا احترام تھا یا اپنا بوجھ پارلیمان پر ڈالنے کی کوشش تھی؟

قرارداد میں کہا گیا کہ بین الاقوامی معاملات کے حوالے سے فیصلہ ریاست کو کرنا چاہیے اور کسی گروہ کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ بین الاقوامی معاملات کے حوالے سے دباؤ ڈالے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی گروہ کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا تو پھر اس قرارداد کی شان نزول کیا ہے؟ کیا یہ درست نہیں کہ یہ قرارداد اسی دبائو کے تحت پیش کی جا رہی تھی جس کی نفی مقصود ہے؟

پہلی بار جب یہ وعدہ کیا گیا وہ بھی دباؤ کا نتیجہ تھا اور اب اس وعدے پر عمل بھی اسی دباؤ کی وجہ سے کرنا پڑا؟ جب شان نزول دباؤ ہی تھا تو یہ قول زریں کی گرہ لگانے کا کیا فائدہ؟ یہ ایوان کی کارروائی تھی یا غلطی ہائے مضامین کا دیوان لکھا جا رہا تھا؟

سوموار کو وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کیا۔ اس خطاب میں انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا کہ سفیر کو نہیں نکالا جا سکتا۔ اس خطاب کی بازگشت ابھی فضا ہی میں تھی کہ یہ قرارداد پیش کرنا پڑی۔

تیسرا سوال گویا یہ ہوا کہ ایک ہی دن میں موقف میں اتنی تبدیلی کیسے آ گئی؟ وزیر اعظم صاحب ایوان میں تو موجود نہیں تھے، اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ انہیں قرارداد کے بارے میں کچھ علم تھا یا انہیں اس کی اطلاع بھی ٹی وی سے ہوئی؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چوتھا سوال حکومت کے ویژن، صلاحیت اور عزم سے متعلق ہے۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کے سامنے کوئی لائحہ عمل اور فلسفہ حیات بھی موجود ہے یا ساری حکومت مل کر اپنی ساری کوشش اسی بات پر صرف کر دیتی ہے کہ آج کا دن کیسے گزارنا ہے؟

راولپنڈی میں دھرنا ہوا تو معاہدہ کر لیا کہ قرارداد لائیں گے۔ معاہدے کی مدت مکمل ہونے لگی تو کہا قرارداد لانا تو ممکن نہیں چنانچہ سعد رضوی کو گرفتار کر لیا گیا۔ احتجاج ہوا تو تحریک لبیک کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ کالعدم قرار دی گئی تنظیم سے پھر مذاکرات کیے گئے اور اب وہی قرارداد پیش بھی کر دی گئی ہے۔ سوموار کو قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیا گیا اور کہا گیا یہ اجلاس ہم جمعرات یعنی 22 اپریل تک ملتوی کر رہے ہیں، لیکن پھر اگلے ہی روز اجلاس بلا لیا گیا اور قرارداد پیش کر دی گئی۔

حکومت نے تو قرارداد پیش نہیں کی۔ قرارداد تو ایک رکن نے نجی حیثیت میں پیش کی ہے۔ تو کیا کسی رکن کی نجی حیثیت میں قرارداد پیش کرنے کے لیے دنیا کی معلوم پارلیمانی تاریخ میں کبھی اس طرح اجلاس بلایا گیا؟ قرارداد میں دباؤ کی تو نفی کی گئی ہے تو اب کیا یہ بصیرت تھی جو اس سب کی شان نزول بنی؟ اس سارے عمل میں کچھ ایسا بھی ہے جس کے نام بصیرت اور مستقل مزاجی کی تہمت دھری جا سکے؟

پانچواں سوال اہل اقتدار کے اسلوب بیان سے ہے۔ کیا انہیں کچھ اندازہ ہے کہ ان کے اپنے طرز گفتگو سے معاشرے میں کس طرح انتہا پسندانہ طرف فکر جنم لے رہا ہے اور کیا وہ خود نفرت آمیز تقاریر اور بیانات کی مبادیات سے کچھ واقفیت رکھتے ہیں؟ نور الحق قادری وفاقی وزیر مذہبی امور ہیں۔ حزب اختلاف کے بارے میں انہوں نے ایوان میں کہا کہ ’ہم نے آپ کے ختم نبوت کے جذبے کو دیکھا ہے، یہاں انتخابی قوانین میں ختم نبوت کو ختم کیا جا رہا تھا، جب ممتاز قادری کو پھانسی دی جا رہی تھی۔‘

اس اہم موقعے پر کیا یہ اسلوب گفتگو ایک وفاقی وزیر کو زیب دیتا ہے؟ وہ یہاں معاملہ سلجھانے آئے تھے یا آگ کو مزید بھڑکانے؟ کل جناب وزیر اعظم حزب اختلاف پر برس پڑے حالانکہ حزب اختلاف نے اس موقعے کو حکومت کے خلاف استعمال نہیں کیا۔ مولانا فضل الرحمٰن بھی بروئے کار آئے تو وضاحت کر دی کہ وہ پی ڈی ایم کے سربراہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ مجلس عمل کے رہنما کی حیثیت سے بات کر رہے ہیں۔ پھر انہوں نے کوئی کال نہیں دی نہ ہی اپنے کارکنان کو باہر نکالا۔ لیکن وزیر مذہبی امور کیا کچھ کہہ گئے؟ یعنی جس مذہبی کارڈ کی نفی حکومت کو مقصود ہے سیاسی حریفوں پر اسی کارڈ کا استعمال کرنے میں اسے کوئی تامل نہیں؟

چھٹا سوال حکومت کی معاملہ فہمی سے متعلق ہے۔ کیا حکومت کو اس وقت امور خارجہ کی نزاکتوں کا علم نہ تھا جب وہ تحریک لبیک سے معاہدہ کر رہی تھی؟ اسی وقت قوم سے خطاب کر کے سفارتی نزاکتیں بتا دی جاتیں تو زیادہ بہتر نہ ہوتا؟ اچھی طرز حکومت دیانت اور سچائی سے معاملات نبٹانے کا نام ہے یا چالاکی سے موخر کر دینے کا؟ کیا حکومتوں کو اپنے اخلاقی وجود کا خیال بھی رکھنا چاہیے یا یہ ایک اضافی بوجھ ہے؟ حکومت اور عوام کا رشتہ اعتماد سے مضبوط ہوتا ہے یا سیاسی چالوں سے؟

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ