پشاور: بجلی کے جھٹکے دے کر جنات نکالنے والے ’جعلی پیر‘ دوبارہ گرفتار

’پیر محمداللہ جنات بھگانے کا کہہ کر لوگوں کو کرنٹ دینے والے آلے ’ٹیزر‘ کا استعمال کرتے تھے۔ کئی لوگ ان کو بہت مانتے تھے لیکن میں نے ان کا کبھی یقین نہیں کیا۔‘

(پکسابے)

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے اچینی میں ایک  مبینہ جعلی پیر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد تھانہ سربند پولیس نے انہیں گرفتار کرکے ان کے خلاف ابتدائی معلوماتی رپورٹ (ایف آئی آر) درج کر لی ہے۔

تھانہ سربند پولیس کے مطابق، مبینہ جعلی پیرکے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے دفعہ 420، 419، 468، 471 اور 440 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جو کہ جعل سازی اور کسی کی جان ومال کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے دفعات ہیں۔

متعلقہ پیر کے خلاف مقدمہ درج کروانے والے اے ایس آئی سہیل خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں عوام کی جانب سےشکایات موصول ہوئی تھیں کہ حاجی محمد اللہ آفریدی ایک عرصے سے نہ صرف جعل سازی کے ذریعےسادہ لوح لوگوں سے پیسے بٹورنے میں مصروف ہیں بلکہ لوگوں کی جانوں سے کھیلتے ہوئے جنات بھگانے کے نام پر بجلی کے کرنٹ دے کر ان پر تشدد بھی کرتے ہیں۔

تھانہ سربند پولیس حکام نے بتایا کہ محمداللہ نامی اس شخص کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کے بعد سنٹرل جیل پشاور منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان سے تفتیش جاری ہے۔

ایف آئی آر کی جملہ تفصیلات کے مطابق، اچینی گاؤں سے تعلق رکھنے والے پیر ایک مرتبہ پہلے بھی عوام کی شکایات پر گرفتار ہو چکے ہیں، تاہم بعد میں ان کی ضمانت کے بعد انہیں سختی سے ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ ناجائز طور پر لوگوں سے پیسے بٹورنا، جعلی تعویزات دینا اور لوگوں کو کرنٹ دینے جیسے افعال میں دوبارہ کبھی ملوث نہیں ہوں گے۔

ایف آئی آر میں مزید لکھا گیا ہے کہ جب عوام کی جانب سے پولیس کو دوبارہ شکایات موصول ہوئیں اور پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو انہیں معلوم ہوا کہ محمد اللہ نے دوبارہ کرنٹ لگوانا اور دھوکہ دہی کے ذریعے پیسے بٹورنا شروع کیا ہے۔

محمد اللہ آفریدی کے حوالے سے ان کے گاؤں کے ایک ٹیکسی ڈرائیور شکیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ سچ ہے کہ حاجی محمداللہ جعلی تعویز گنڈے کا کام کرتے تھے،اور علاج کے نام پر دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں سے پیسے بٹورتے تھے۔

’پیر محمداللہ جنات بھگانے کا کہہ کر لوگوں کو کرنٹ دینے والے آلے ’ٹیزر‘ کا استعمال کرتے تھے۔ کئی لوگ ان کو بہت مانتے تھے لیکن میں نے ان کا کبھی یقین نہیں کیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنات کا سایہ دور کرنے کے لیے مشہور تقریبا چالیس سالہ پیر محمداللہ اس سے قبل سعودی عرب میں روزگار کے سلسلے میں مقیم تھے اور وہاں کافی عرصہ گزارنے کے بعد وطن واپسی پر اپنے علاقے میں پیری مریدی کا کام شروع کیا، دیکھتے ہی دیکھتے دم درود کے حوالے سے دور دور تک مشہور ہونے لگے۔

 علاقہ مکینوں کے مطابق، وہ آنے والے تمام عقیدت مندوں سے کم سے کم پانچ ہزار اور زیادہ سے زیادہ دس ہزار روپے وصول کرتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے مالی حالات اس قدر اچھے ہوئے کہ گاؤں کا کچا گھر ایک عالیشان گھر و حجرے میں تبدیل ہو گیا۔

علاقہ مکینوں نے مزید بتایا کہ ‘پیر صاحب ‘ نے اپنا یوٹیوب چینل بھی کھول رکھا ہے جہاں وہ ہر آنے والے متاثرہ شخص کی ویڈیو بنا کر اپلوڈ کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس چینل کے چالیس ہزار سے زائد سبسکرائبرز ہیں اور اس پر حالیہ ایک ویڈیو صرف تین دن قبل اپلوڈ کی گئی ہےجس میں وہ ایک نوجوان لڑکے کو ٹیزر سے کرنٹ دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اچینی کے ایک رہائشی شیر رحمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پیر محمد اللہ اس سے قبل بھی گرفتار ہو چکے ہیں تاہم انہوں نے پیسے کی لالچ میں آکر دوبارہ پرانی روش اختیار کر لی۔

پولیس کے ایک اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پیر پچھلی مرتبہ بھی گرفتار ہونے کے بعد ایک ہفتے سے بھی کم عرصہ پولیس کی حراست میں رہے لیکن نظام میں خامیوں کی وجہ سے ایسے افراد بہت جلد قانون کی گرفت سے چھوٹ جاتے ہیں، جو دوبارہ اپنے جرائم میں ملوث ہو کر عوام اور معاشرے کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان