فیس بک مونیٹائزیشن کے لیے خیبرپختونخوا میں کوششیں تیز

پی ٹی آئی رکن صوبائی اسمبلی ضیا اللہ بنگش کے مطابق حکومت فیس بک مونیٹائزیشن میں دلچسپی لیتے ہوئے اقدامات کر رہی ہے اور اب فیس بک پر منحصر ہے کہ وہ کب ہامی بھرتے ہیں۔

فیس بک مونیٹائزیشن کا آپشن اس وقت دنیا کے 48 ممالک میں موجود ہے اور اس میں 26 زبانیں شامل ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

پاکستان میں فیس بک کو کمائی کا ذریعہ بنانے یعنی اس پر مونیٹائزیشن کھولنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کی کوششوں کے جواب میں فیس بک نے اس معاملے پر غوروفکر کرنے کے لیے مہلت مانگ لی ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان کے سابق مشیر برائے ٹیکنالوجی اور پی ٹی آئی رکن صوبائی اسمبلی ضیا اللہ بنگش نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل انہوں نے صوبائی اسمبلی میں اس حوالے سے ایک قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کر لی ہے، جس پر بحث کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے تجویز دی کہ وسیع ترین ملکی مفاد کی خاطر صرف فیس بک ہی نہیں بلکہ تمام سوشل میڈیا فورمز کو پاکستان میں مونیٹائزیشن کھول دینی چاہیے۔

ضیا اللہ بنگش نے بتایا: ’کچھ عرصہ قبل جب خطے میں فیس بک کی قیادت سے ہماری بات ہوئی تو انہوں نے پاکستان میں سوشل میڈیا کے لیے بنائی گئی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان تحفظات کو دور کرنے کے لیے ہم نے ان کی سپیکر قومی اسمبلی سے ایک آن لائن میٹنگ منعقد کروائی، جس میں فیس بک ٹیم کو ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا گیا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اسی ملاقات میں فیس بک مونیٹائزیشن کا راستہ ہموار کرنے کے لیے صوبائی اسمبلیوں سے قرارداد منظور کرنے پر بھی اتفاق ہوا تھا۔

بقول ضیااللہ بنگش: ’قرارداد پیش کرنا اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، جس کا خیبر پختونخوا نے آغاز کیا اور باقی صوبوں کے ساتھ بھی ہم رابطے میں ہیں جبکہ قومی اسمبلی سے تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔ ہم پاکستان میں سوشل میڈیا پالیسی میں ہر طرح کی ترامیم لانے کو بھی تیار ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت فیس بک مونیٹائزیشن میں دلچسپی لیتے ہوئے اقدامات کر رہی ہے اور اب فیس بک پر منحصر ہے کہ وہ کب ہامی بھرتے ہیں۔

فیس بک مونیٹائزیشن کا آپشن اس وقت دنیا کے 48 ممالک میں موجود ہے اور اس میں 26 زبانیں شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں مختلف وقتوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مختلف وجوہات کے تناظر میں پابندیاں لگتی رہی ہیں، جو کہ مونیٹائزیشن کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہیں۔

ضیااللہ بنگش نے بتایا کہ انہوں نے فیس بک ٹیم کو یقین دہانی کروائی کہ وہ ایسی پالیسی بنائیں گے کہ فیس بک پر پاکستان میں پابندی نہیں لگے گی۔ تحریک انصاف کی ماضی میں کوشش رہی ہے کہ فیس بک کو پاکستان میں دفتر کھولنے پر مائل کیا جائے۔ 

انہوں نے بتایا: ’اگر دیکھا جائے تو مونیٹائزیشن سے پاکستان کو بہت بڑا فائدہ ہو گا۔ اس سے غربت اور بیروزگاری ختم کرنے میں مدد ملے گی اور نوجوان آسودہ حال ہوں گے۔ پاکستان میں چار کروڑ فیس بک صارفین ہیں اور محتاط اندازے کے مطابق اگر ان میں سے صرف 50 لاکھ کو بھی مونیٹائزیشن کی اجازت مل جائے تو لاکھوں خاندانوں کو مالی فائدہ ہو گا۔‘

ضیااللہ بنگش نے کہا کہ مختلف پاکستانی کمپنیاں بھی اپنے اشتہارات دینے کے لیے ابھی سے کوشش کر رہی ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں فیس بک مونیٹائزیشن کھلنے کی صورت میں مواد کی نگرانی ویب سائٹ خود کرے گی۔

آئی ٹی کی فیلڈ سے تعلق رکھنے والے خیبر پختونخوا کے ایک نوجوان محمد تیمور نے اس حکومتی اقدام کو سراہتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اگر پاکستان کو مونیٹائزیشن کی اجازت ملی تو اس سے بہت سارے بے روزگار نوجوانوں کو گھر سے ہی کمانے کا موقع مل جائے گا۔

ان کا کہنا تھا: ’میں کئی ایسے نوجوانوں کو جانتا ہوں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہیں۔ وہ یا تو ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں یا پھر شدید ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ فیس بک مونیٹائزیشن سے ان کا مواد مفت میں اپ لوڈ ہوگا اور پیسے بھی ملیں گے۔‘

محمد تیمور نے مزید بتایا کہ یو ٹیوب مونیٹائزیشن کا طریقہ کار بہت لمبا اور وقت طلب ہے جبکہ اس کے برعکس فیس بک مونیٹائزیشن کا طریقہ کار آسان ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان