ایمزون کی پاکستان کے حوالے سے تصدیق نہ ہی تردید

وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت رزاق داؤد کے مطابق ایمزون ویب سائٹ اپنی 'سیلر' لسٹ میں پاکستان کا نام شامل کرے گی۔ تاہم ایمزون کی جانب تاحال اس حوالے سے نہ تو تصدیق کی گئی ہے نہ ہی تردید۔

ایمزون آن لائن خریداری کے لیے دنیا کی سب سے بڑی، قابل اعتبار اور مشہور ویب سائٹس میں شمار کی جاتی ہے(ا ےایف پی)

وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت رزاق داؤد نے جمعرات کو اپنی ایک ٹویٹ میں اعلان کیا کہ ایمزون ویب سائٹ اب اپنی 'سیلر' لسٹ میں پاکستان کا نام شامل کرے گی۔

ایمزون آن لائن خریداری کے لیے دنیا کی سب سے بڑی، قابل اعتبار اور مشہور ویب سائٹس میں شمار کی جاتی ہے۔

رزاق داؤد کے دعوے کے مطابق پاکستان میں اس صنعت سے وابستہ لوگ اب اپنی مصنوعات پاکستان کے نام سے ایمزون پر فروخت کر سکتے ہیں، جس سے ملک کی معیشت میں بہتری آنے کے امکانات ہیں۔

مشیر برائے صنعت و تجارت رزاق داؤد جمعہ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بارے میں بات کرتے ہوئے چند تفصیلات بھی بتائی ہیں۔

ان کا کہنا تطا کہ ایمزون نے کوالٹی سٹینڈرڈز کے بارے میں پوچھا اور چھان بین کرنے کے بعد ایکسپورٹرز کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی۔

انہوں نے کہا کہ ایمزون نے گذشتہ روز اس حوالے سے اعلان کرنے کی اجازت دی تھی اور کہا تھا کہ وہ خود بھی چند دنوں میں اس حوالے سے اعلان کر دیں گے کہ پاکستان اب ایمزون کی سہولیات استعمال کر سکے گا۔

تاہم انڈپینڈنٹ اردو نے اس حکومتی دعوے کی تصدیق کے لیے ایمزون سے رابطہ کیا جس پر پہلے تو انہوں نے صرف اتنا ہی کہا کہ وہ اس خبر کا جائزہ لے رہے ہیں اور تصدیق یا تردید کے لیے دوبارہ رابطہ کریں گے۔

ایمزون  کے ترجمان الیکزینڈر کویات کوسکی نے ای میل میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ ’میں اس خبر کا جائزہ لے رہا ہوں۔ انڈپینڈنٹ اردو کو ہمارا موقف بھیج دیا جائے گا۔ موقف دینے کے لیے ہمیں وقت درکار ہے۔‘

جس کے بعد ایمزون کی جانب سے ایک اور ای میل موصول ہوئی جس میں اس نے بظاہر ایک مبہم جواب دیتے ہوئے پاکستان کو اپنی سیلر لسٹ میں شامل کرنے کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی ہے۔

ایمزون نے اپنے جواب میں کہا ہے کہ ’ہم ہمیشہ نئی نئی چیزیں متعارف کرواتے رہتے ہیں تاکہ ہمارے شراکت دار تاجروں کو دنیا بھر میں اپنا کاروبار پھیلانے کا موقع ملے۔‘

اس کے علاوہ ایمزون نے اپنے جواب میں مزید کہا کہ ’ہم مستقبل کے بارے میں قیاس آرائی نہیں کرتے اور اس بارے میں ہمارے پاس مزید کہنے کو کچھ نہیں ہے۔‘

رزاق داؤد نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’ایمزون چند دنوں میں پاکستان کا نام سیلر لسٹ میں شامل کرے گا۔ اس نام کو شامل کرنے کے لیے ہم پچھلے ایک سال سے کوشش کر رہے تھے۔

’اب یہ نام شامل ہونے والا ہے۔ یہ ہمارے نوجوانوں، چھوٹی صنعتوں سے وابستہ لوگوں اور انٹر پرینئورز کے لیے زبردست موقع ہے۔‘

رزاق داؤد سے پہلے پاکستان میں ای کامرس یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے  صنعت و تجارت سے وابستہ ماہرین کی ’ایکسٹریم کامرس‘ نامی تنظیم نے اپنے فیس بک پیج پر یہ اعلان کیا تھا کہ ایمزون آئندہ 48 گھنٹے تک پاکستان کا نام سیلر لسٹ میں شامل  کرے گا۔

اس تنظیم نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ پاکستانی اب ایمزون پر بطور سیلر یا فروخت کنندہ رجسٹریشن کروا سکتے ہیں، جہاں وہ اپنی مصنوعات فروخت کر سکیں گے۔

تاہم اس پوسٹ کو24 گھنٹے گزر گئے لیکن انڈپینڈنٹ اردو نے چیک کیا تو ابھی تک ایمزون ویب سائٹ پر موجود سیلر لسٹ میں پاکستان کا نام شامل نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب رزاق داؤد نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں نام شامل کر لیا جائے گا۔

پاکستان کا نام ایمزون سیلر لسٹ میں کب شامل ہوگا، اس کی تصدیق ابھی باقی ہے۔ تاہم حکومت نے دعویٰ ضرور کیا ہے کہ پاکستان کا نام شامل کیا جائے گا۔

اس لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے صنعت کاروں اور عام لوگوں کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ نیز سیلر لسٹ میں رجسٹریشن کرنے کا طریقہ کار کیا ہے؟ ہم ان دو سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کریں گے۔

ایمزون سیلر لسٹ کیا ہے؟

ایمزون کمپنی کا صدر دفتر امریکہ  کے دارالحکومت واشنگٹن میں واقع ہے۔ اس کمپنی کے امریکہ میں 600 کے قریب فزیکل سٹورز موجود ہیں جہاں لوگ خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔

کمپنی کی ویب سائٹ پر ’سیلر‘ نامی ایک لسٹ موجود ہے جس میں مختلف ممالک کے نام شامل ہیں۔

اس لسٹ میں اب تک بھارت، ترکی، بنگلہ دیش، آذربائیجان، ملائشیا، نیپال سمیت دنیا کے 104 چھوٹے بڑے ممالک شامل ہیں۔

اس لسٹ میں شامل ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر آپ اس لسٹ میں شامل کسی ملک کے شہری ہیں تو ایمزون پر آپ اپنے نام یعنی اپنے شناختی کارڈ سے رجسٹریشن کر سکتے ہیں اور وہاں پر کوئی بھی چیز بیچ سکتے ہیں۔

ایمزون ویب سائٹ پر رجسٹریشن کا طریقہ

ایمزون کی سیلر لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے کی صورت میں آپ پاکستان کے اندر سے ایمزون پر اکاؤنٹ بنا کر رجسٹر ہوں گے۔

تاہم ایمزون پر رجسٹریشن مفت نہیں ہے بلکہ جس طرح آپ کو ایک دکان کا کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے اسی طرح آپ کو ایمزون پر رجسٹریشن کر کے پراڈکٹس بیچنے کے 40 ڈالرز ماہانہ دینا پڑیں گے، تب ہی آپ ایمزون پر اپنی مصنوعات بیچ سکتے ہیں۔

ماہانہ پیکج کے علاوہ بھی ایک پلان آپ لے سکتے ہیں جس میں آپ سے ایمزون والے فی پراڈکٹ فروخت ہونے پر اپنی فیس وصول کریں گے۔

ایمزون ویب سائٹ پر رجسٹریشن کا طریقہ اتنا مشکل نہیں۔ ویب سائٹ پر بطور سیلر رجسٹر ہونے کے لیے سب سے پہلے آپ کو اوپر بتائے گئے دو پلان میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔

ان دوپیکجز میں ایک کو ’انفرادی‘ اور دوسرے کو ’پروفیشنل‘ پیکج کہا جاتا ہے (ایک سٹینڈرڈ اور دوسرا پریمیم پیکج ہے)۔

سٹینڈرڈ پیکج زیادہ تر چھوٹے صنعت کاروں کے لیے ہوتا ہے جس کی فی یونٹ فروخت پر ایک ڈالر فیس وصول کی جاتی ہے۔

اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ اگر کسی موبائل سے وابستہ صنعت کار نے ایمزون پر رجسٹریشن کے بعد کوئی موبائل  10 ہزار روپے میں فروخت کیا تو انہیں 10 ہزار روپے میں سے ایک ڈالر ایمزون کو ادا کرنے ہوں گے۔

دوسرے پیکج یعنی پروفیشنل پلان میں بطور سیلر رجسٹر ہونے کے بعد آپ کو ماہانہ 40 ڈالرز ایمزون کو ادا کرنے پڑیں گے۔

اب صنعت کار کو کیسے پتہ لگے گا کہ وہ کون سے پیکج کے لیے خود کو رجسٹرڈ کرے؟ اسی کو آسان بنانے کے لیے ایمزون پر ایک کتابچہ موجود ہے جس میں رجسٹریشن کے خواہش مند افراد کی رہنمائی کی گئی ہے۔

اس کتابچے میں لکھا ہے کہ اگر کوئی صنعت کار مہینے میں 40 سے کم پراڈکٹس بیچتے ہیں تو وہ انفرادی پیکج کا انتخاب کریں، لیکن اگر وہ 40 یونٹ سے زیادہ مہینے میں فروخت کرتے ہیں تو پروفیشنل پیکج کا انتخاب کریں۔

انفرادی پیکج میں آپ کی پراڈکٹ ایمزون کی ویب سائٹ پر نمایاں جگہ نہیں لگ سکے گی، یہ وضاحت ساتھ موجود ہے۔ جب کہ پروفیشنل پیکج میں آپ کو واضح ڈسپلے بھی دیا جائے گا۔

رجسٹریشن سے پہلے آپ کے پاس کیا ہونا چاہیے؟

رجسٹریشن کے لیے آپ کو ایمزون ویب سائٹ پر جانا پڑے گا۔ تاہم رجسٹریشن سے پہلے آپ کے پاس بینک اکاؤنٹ، کریڈٹ کارڈ، شناختی کارڈ، ٹیکس جمع ہونے کے ثبوت (این ٹی این نمبر) اور موبائل نمبر ہونا لازمی ہے کیونکہ رجسٹریشن کے دوران آپ سے یہ معلومات پوچھی جائیں گی۔

رجسٹریشن کے بعد ایمزون کی طرف سے آپ ’سیلر سینٹرل‘ نامی ایک ڈیٹا بیس میں رجسٹر ہو جاتے ہیں۔

ایمزون پر موجود کتابچے میں لکھا ہے کہ سیلر سینٹرل سیکشن میں آپ اپنے سیلر اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں اور وہاں اپنا اکاؤنٹ مینیج کر سکتے ہیں۔

اسے یوں سمجھا جا سکتا ہے جیسے ایک دکان دار کسی دکان میں مختلف اشیا پر قیمت اور دیگر تفصیلات کا ٹیگ لگا دیتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی طرح سیلر اکاؤنٹ ہولڈر سیلر سینٹرل پر اشیا کی قیمتوں کا تعین، کتنے یونٹ بیچے گئے اور کتنے بیچنے ہیں سمیت ایسی دیگر معلومات گاہک کے لیے فراہم کرتے ہیں۔

ایمزون پر کون سی اشیا بیچی جا سکتی ہیں؟

ایمزون کو اشیا بیچنے سے پہلے کچھ ضروری باتیں دھیان میں رکھنی چاہییں۔

ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق آپ ایمزون پر اشیا کی لسٹ یا انفرادی اشیا دے سکتے ہیں جو ایمزون وزٹ کرنے والوں کو نظر آئیں گی اور وہ اپنی پسند کے مطابق وہ اشیا خرید سکیں گے۔

تاہم پراڈکٹ کو ویب سائٹ پر دینے سے  پہلے ہر ایک چیز کا گلوبل ٹریڈ آئٹم نمبر(جی ٹی آئی این یعنی یونیورسل پراڈکٹ کوڈ upc جو کسی بھی پراڈکٹ کو ٹریک کرنے کا ایک کوڈ ہوتا ہے یا کتابوں کی فروخت کے لیے آئی ایس بی این ۔ انٹرنیشل سٹینڈرڈ بک نمبر) ہونا لازمی ہے۔

اس کے علاوہ پراڈکٹ کو ایمزون پر سیل کرنے کے لیے پراڈکٹ کے ساتھ  50 الفاظ تک کا پراڈکٹ ٹائٹل، پراڈکٹ ڈسکرپشن، پراڈکٹ کی تصویر اور اس کے ساتھ متعلقہ انٹرنیٹ سرچ ٹرمز (یعنی اگر لیپ ٹاپ بیچنا ہے تو اس کے ساتھ متعلقہ ٹرمز جس طرح کمپیوٹر وغیرہ) بھی دینا لازمی ہیں۔

ایمزون کو سیلر کس طرح اپنی مصنوعات پہنچاتا ہے؟

آپ نے رجسٹریشن کر دی اور ساتھ میں پراڈکٹ بھی ویب سائٹ پر مشہتر کی۔ اب اگلا مرحلہ گاہک کو وہ چیز ڈیلیور کرنا ہے۔

اگر کسی نے آپ کے اکاؤنٹ سے کچھ خریدا ہے تو ایمزون پر دستیاب معلومات کے مطابق سیلر کے پاس اسے ڈیلیور کرنے کے لیے دو آپشن موجود ہیں۔

ایک آپشن یہ ہے کہ سیلر نے پراڈکٹ ڈیلیوری کے لیے اپنا ایک سیٹ اپ بنایا ہوا ہے اور اس کے ذریعے وہ چیزیں ڈیلیور کر دیتا ہے۔

دوسرا آپشن یہ کہ ایمیزون کمپنی خود وہ پراڈکٹ گاہک کو ڈیلیور کرے۔ اس میکنیزم کو ’فل فلمنٹ بائے ایمزون‘ کہا جاتا ہے۔

اس ڈیلیوری سسٹم میں ایمزون چیزوں کی پیکنگ، ٹیگنگ سمیت گاہک تک ڈیلیور کرنے کی ذمہ داری خود لیتا ہے جس کے لیے وہ علیحدہ سے چارجز وصول کرتا ہے۔

سیلر لسٹ میں شمولیت سے پاکستانی صنعت کاروں کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟

شہاب ہادی پاکستان میں ای کامرس سے وابستہ کمپنی ’این ایبلرز‘ کے نمائندہ برائے خیبر پختونخواہ ہیں اور ایمزون سیلر سمیت ایمزون کے ٹرینر بھی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی صنعت کاروں کو باہر ممالک کی مارکیٹس میں پراڈکٹ بیچنے کے لیے مشکل مرحلے سے گزرنا پڑتا تھا۔

زیادہ تر پاکستانی سیلر اس طرح کرتے تھے کہ بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے، ایمزون کی سیلر لسٹ میں پہلے سے موجود کسی کمپنی کے ساتھ اپنی کمپنی کا الحاق بطور ذیلی ادارہ رجسٹر کرتے تھے۔

اس پر ایک تو وہ سیلر ڈبل ٹیکس ادا کرتا تھا اور پھر اس سارے معاملے کو ہینڈل کرنا بھی ایک مشکل کام تھا۔

شہاب نے بتایا ’اب اگر پاکستان کا نام ایمزون کی سیلر لسٹ میں شامل ہوجائے گا تو ایک آسانی یہ ہوگی کہ صنعت کار پاکستان میں بیٹھ کر پاکستانی شناختی کارڈ پر ایمزون پر سیلر اکاؤنٹ بنانے کے اہل ہوں گے۔‘

انہوں نے بتایا کہ بعض صنعت کار اس طرح بھی کرتے تھے کہ باہر کسی ملک میں وہاں کے ایک شہری کے ساتھ  پارنٹر شپ کر کے کمپنی کھولتے تھے اور اپنے پراڈکٹ ایمزون پر سیل کرتے تھے۔

یہ بھی ایک مشکل کام تھا جس سے پاکستانی صنعت کار کو ٹیکسز کی مد میں بہت زیادہ پیسے دینے پڑتے تھے۔

شہاب سے جب پوچھا گیا کہ اب پاکستان میں کسی بھی کمپنی چلانے والے کو ایمزون پر رجسٹرڈ ہونے میں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ ایمزون پاکستان کے سیلر کے لیے کیا پالیسی بناتا ہے۔

شہاب نے بتایا ’ایمیزون نے ہر ملک کے سیلر کے لیے اپنی الگ پالیسی بنائی ہے۔ بنگلہ دیش ایمزون سیلر لسٹ میں موجود ہے لیکن بنگلہ دیش کے صنعت کار کو پھر بھی برطانیہ یا امریکہ میں موجود کسی بھی بینک کا اکاؤنٹ کھولنا لازمی ہے، تب ہی وہ ایمزون سیلر اکاؤنٹ میں خود کو رجسٹر کر سکتے ہیں۔‘

شہاب نے بتایا کہ اس سے زیادہ فائدہ نئے انٹرپرنئیورز کو ہو گا کیونکہ زیادہ تر چھوٹے کاروبار کرنے والے انٹرپرنئیورز کو اپنے پراڈکٹس بیرون ممالک کی مارکیٹ میں سیل کرنے کے دوران بہت مشکل پیش آتی ہے۔ اب امید ہے کہ وہ مشکل دور ہوجائے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی