پشاور موٹروے: ’شاید چالان سے بچنے کے لیے اہلکار پر گاڑی چڑھائی‘

پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کا ڈرائیور مقررہ حد سے زیادہ رفتار پر گاڑی چلا رہا تھا اور لگتا ہے کہ پولیس کی جانب سے چالان سے بچنے کے لیے انہوں نے پولیس اہلکار عدیل علی شاہ کو کچل ڈالا۔

پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ موٹروے پر اسلام آباد سے پشاور آنے والی گاڑی نے ٹول پلازہ کے قریب موٹروے پولیس اہلکار کی جانب سے رکنے کا اشارہ کرنے کی پاداش میں گاڑی چڑھا کر اہلکار کو شدید زخمی کر دیا۔ زخمی پولیس اہلکار ہسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑی کا ڈرائیور مقررہ حد سے زیادہ رفتار پر گاڑی چلا رہا تھا اور لگتا ہے کہ پولیس کی جانب سے چالان سے بچنے کے لیے انہوں نے پولیس اہلکار عدیل علی شاہ کو کچل ڈالا۔

پولیس کے مطابق  ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پشاور چمکنی پولیس کے سربراہ احمد زنیر چیمہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ملزم کو تیز رفتاری کی وجہ سے پہلے مردان کے قریب اور پھر چارسدہ کے قریب موٹروے پولیس کی جانب سے روکنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

احمد زنیر نے بتایا کہ 'پشاور ٹول پلازہ میں داخل ہونے سے قبل موٹر وے پولیس اہلکار نے ان کو اشارہ کر کے روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے گاڑی اہلکار پر چڑھا دی جس سے اہلکار شدید زخمی ہوگیا اور اب ان کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہیں۔'

زنیر کے مطابق پولیس اہلکار کو سر پر چوٹیں آئی ہیں جو بہت گہری ہیں اور آئندہ چند گھنٹے بہت اہم ہیں۔ انہوں نے عوام سے زخمی پولیس اہلکار کے لیے دعاؤں کی اپیل بھی کی ہے۔

زنیر سے جب پوچھا گیا کہ ملزم نے دوران تفتیش گاڑی چڑھانے کی وجہ کیا بتائی ہے تو اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے تفتیش کے دوران بتایا  کہ گاڑی کی بریکیں فیل ہو گئی تھیں تاہم پولیس نے گاڑی کر بریک چیک کی تو سامنے آیا کہ بریک میں کوئی نقص نہیں تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زنیر نے بتایا کہ ملزم پولیس کی حراست میں ہے اور قانونی کارروائی جاری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کیس کی تفتیش شفاف طریقے سے کی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔’

پاکستان میں تمام موٹرویز پر گاڑی چلانے کی ایک حدرفتار مقرر ہے جو چھوٹی گاڑیوں کے لیے فی گھنٹہ 120 کلومیٹر اور بڑی گاڑیوں کے لیے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر ہے۔

حد رفتار سے تجاوز کرنے پر پولیس کی جانب سے گاڑی کے ڈرائیور کو قانونی طور پر چالان کیا جاتا ہے۔موٹروے پر ڈرائیونگ کے قوانین کی خلاف ورزیوں کے مختلف جرمانے مقرر ہیں۔ 

نیشنل ہائی وے سیفٹی آرڈیننس کے مطابق حد رفتار سے تجاوز کرنے پر 2500 روپے چالان دیا جاتا ہے جبکہ بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے پر 5000روپے کا چالان مقرر ہے۔اسی طرح بغیر سیٹ بیلٹ کے گاڑی چلانے پر 1500 روپے جرمانہ، رات کو بغیر ہیڈ لائٹس کے گاڑی چلانے پر 5000 جرمانہ مقرر ہے۔

موٹر وے پولیس  نے اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی جاری کر دی ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سفید رنگ کی گاڑی موٹروے لین پر آرہی ہے اور ٹول پلازہ کے قریب پہنچتے ہی موٹروے پولیس کی وردی میں ملبوس اہلکار لین کے دونوں جانب کھڑے نظر آرہے ہیں۔

جبکہ ایک اہلکار گاڑی کو رکنے کا اشارہ کر رہا ہے کہ اسی دوران ڈرائیور گاڑی لین سے دائیں جانب موڑ کر پولیس اہلکار پر چڑھا دیتا ہے جس سے اہلکار شدید زخمی ہوجاتا ہے۔

سی سی ٹی وی میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکار کو کچلنے کے بعد گاڑی ٹول پلازہ کے قریب پہنچتی ہے اور موٹروے اہلکار اس کو روکنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان