پہلی روبوٹ کشتی بحر اوقیانوس پار کرنے کو تیار

برطانوی انجینیئرز کی بنائی گئی 'مے فلاور 400' نامی یہ کشتی خود کار نظام سے لیس ہے اور سمندر میں موجود دیگر کشتیوں کے سامنے آنے پر اپنا راستہ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

برطانیہ کے انجینیئرز نے ایک روبوٹ کشتی تیار کرلی ہے جو اسی ماہ بحر اوقیانوس پار کرکے امریکہ جانے کی کوشش کرے گی۔ یہ کشتی خود کار نظام سے لیس ہے اور سمندر میں موجود دیگر کشتیوں کے سامنے آنے پر اپنا راستہ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس پراجیکٹ پر کام کرنے والی خاتون انجینیئر میئروین جینکنگ ریس نے بتایا: 'ایسا ممکن ہے۔ فی الحال ہم صرف آزمائشی طور پر ہی کام کر رہے ہیں، اس لیے ہم نے ابھی کھلے سمندر کی لہروں میں ہوا، بارش اور تمام طرح کے خراب حالات میں اس کشتی کو نہیں آزمایا۔'

تقریباً چار سو سال پہلے مے فلاور نامی بادبانی جہاز سب سے پہلے برطانوی آباد کاروں کو لے کر بحر اوقیانوس کے راستے امریکہ پہنچا تھا۔ انجینیئرز نے اسی مناسبت سے اپنی روبوٹ کشتی کا نام 'مے فلاور 400' رکھا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کشتی میں عملے کے لیے جگہ نہیں بنائی گئی لیکن مختلف سائنسی تجربات کے لیے ایک کمرہ ضرور موجود ہے، جہاں سمندری سطح کی پیمائش اور وہیل مچھلیوں کی آبادی کا ٹریک رکھنے کے لیے آڈیو ریکارڈنگز ہوسکیں گی۔

پراجیکٹ پر کام کرنے والے انجینیئرز کا کہنا ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کو کاروباری بنیادوں پر استعمال کرنے کے خواہاں نہیں ہیں۔ تاہم اگر چار سو سال پہلے کی طرح مے فلاور 400 کا یہ سفر بھی کامیاب ہو گیا تو تاریخ میں اسے یاد رکھا جائے گا۔

مے فلاور 400 کو برطانوی ساحل سے بحر اوقیانوس پار کرکے امریکی ساحل پر پہنچنے کے لیے تین ہفتوں پر محیط سفر کرنا ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا