پاکستان میں صحافت خطرناک پیشہ کیوں؟

 پاکستان میں خطرہ اب صرف کارکن صحافیوں کو نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے انقلاب کے بعد بلاگرز اور یو ٹیوبرز کو بھی ہے۔

20 نومبر، 2007 کی اس تصویر میں کراچی پریس کلب کے باہر پولیس اہلکار احتجاج کرنے والے صحافی کو مار رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان میں میڈیا سیفٹی پر پچھلے دس پندرہ سال میں بہت کام ہوا ہے۔ پاکستان بھر میں شاید ہی کوئی صحافی ایسا رہ گیا ہو جسے مختلف این جی اوز، صحافتی تنظیموں اور پریس کلبوں کی جانب سے آگاہی نہ دی گئی ہو کہ انہوں نے تنازعات کو کیسے رپورٹ کرنا ہے مگر اس کے باوجود گذشتہ سال پاکستان میں سات صحافی قتل ہوئے۔

انٹرنشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ کی 2020 کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ 30 سالوں میں دنیا بھر میں جو صحافی قتل ہوئے ان میں پاکستان، عراق، میکسیکو اور فلپائن کے بعد چوتھے نمبر پر ہے جہاں اس عرصے میں 138 صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔

فریڈم نیٹ ورک پاکستان میں صحافیوں کو درپیش خطرات کی جانچ کرتا ہے، اس کے مطابق مئی 2020 سے اپریل 2021 کے دوران صحافیوں کو درپیش خطرات اور حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے اور صرف ایک سا ل کے دوران 148 ایسے واقعات ہوئے ہیں۔

اب صحافیوں کے لیے خطرناک ترین جگہ بلوچستان یا قبائلی علاقے نہیں بلکہ اسلام آباد ان کے لیے خطرناک ترین شہر بن چکاہے۔ کیونکہ صحافیوں کے خلاف 148 واقعات میں سے 51 اسلام آباد میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

اس دوران سات صحافی قتل ہوئے سات پر قاتلانہ حملے ہوئے، پانچ کو اغوا کیا گیا اور 25 گرفتار ہوئے، 15 کو زدو کوب کیا گیا جبکہ 27 پر مقدمات درج کئے گئے۔

 دو روز پہلے صحافی اسد طور کو ان کے فلیٹ میں زد وکوب کیا گیا۔ پانچ ہفتے پہلے سینیئر صحافی ابصار عالم کو اسلام آباد میں ان کے گھر کے سامنے گولی ماری گئی۔ پچھلے سال جولائی میں مطیع اللہ جان کو اغوا کیا گیا۔

یہ سارے واقعات اسلام آباد میں ہوئے۔ کیمروں میں ریکارڈنگ کے باوجود ملزمان ابھی تک قانون کی گرفت سے دور ہیں۔ ان تینوں حالیہ واقعات کے پیچھے کون ہے اس حوالے سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پاکستان میں کام کرنے والے ہر وہ صحافی جو ابھی تک بچا ہوا ہے اسے معلوم ہے کہ کون سی فالٹ لائن ہیں جو کراس نہیں کرنی، لیکن چند ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی قلم اور آواز کی حرمت پر لبیک کہتے ہیں بس ایسے صحافی ہی طاقتور اداروں اور مافیا کا نشانہ بنتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’صرف بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی شورش میں اب تک 40 سے زائد صحافی اپنی جانوں سے جا چکے ہیں۔ 24 کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

’خضدار پریس کلب کے سابق صدر ندیم گرگناری کے دو جواں سال بیٹوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ 12 سے 14 صحافی اور کیمرہ مین اپنے فرائض کے ادائیگی کے دوران بم دھماکوں یا کراس فائرنگ کا نشانہ بنے۔

’پی ایف یو جے کی کاوشوں سے جرنلسٹ پروٹیکشن بل قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے لیکن اس بل پر ہمیں تحفظات ہیں کیونکہ جو کمیشن صحافیوں کے درپیش خطرات کے حوالے سے کام کرے گا اسے زیادہ با اختیار ہونا چاہیے، اس لیے ہم اس بل کی مشروط حمایت کر رہے ہیں۔‘

شہزاد ذوالفقار نے کہا کہ ’پاکستان میں پی ٹی آئی کے دور حکومت میں آزادی اظہار کی عالمی رینکنگ میں تین درجے کی تنزلی آئی ہے پہلے پاکستان 142 ویں نمبر پر تھا جبکہ اب 145 ویں نمبر پر چلا گیا ہے۔‘

پاکستان میں گذشتہ 30 سالوں میں جو صحافی ہلاک ہوئے ان کی وجوہات میں طالبانائزیشن، فرقہ واریت، بلوچستان میں جاری عسکریت پسندی، جبکہ سندھ میں جاگیردارانہ سماج، ہزارہ کے پی میں ڈرگ مافیا کا کردار بھی شامل ہے۔

لیکن عموماً دیکھا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی صحافیوں کے قتل کے حوالے سے تفتیش کو آگے نہیں بڑھا پاتے کیونکہ ان کے پیچھے جو ہاتھ ہوتے ہیں وہ اتنے واضح ہوتے ہیں کہ قانون کو اپنی گرفت کمزور ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

ایک سال پہلے نوشہرو فیروز میں ایک صحافی عزیز میمن کو قتل کر کے ان کی لاش کو نہر میں بہا دیا گیا۔ پولیس نے پہلے تو اسے خود کشی قرار دے دیا لیکن صحافتی تنظیموں کی دباؤ پر جب لاش کا پوسٹ مارٹم ہوا تو ڈی این اے کی مدد سے پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی۔

اگرچہ اس قتل کی وجہ ذاتی عناد سامنے آئی تاہم عزیز میمن کو چند روز پہلے ایک سٹوری کرنے پر دھمکیں ملی تھیں جوبلاول بھٹو کے ایک جلسے میں پیسے دے کر خواتین کی شرکت سے متعلق تھی۔

تاہم بعض صحافی ایسے بھی ہیں جو قتل اپنی سٹوریوں کی وجہ سے نہیں ہوئے بلکہ ان کے متعلقہ اخبار کے ڈیسک نے ان کی سٹوریوں کی ایسی ہیڈ لائن دی جو ان کی موت کی وجہ بن گئی۔

اس حوالے سے ڈاکٹر چشتی مجاہد کا نام لیا جا سکتا ہے جو اخبار جہاں میں کوئٹہ کی ہفتہ وار ڈائری لکھا کرتے تھے۔ ان دنوں ایک کالعدم تنظیم کے کمانڈر بالاچ مری پاک افغان بارڈر پر سکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن میں زخمی ہو گئے جو بعد ازاں افغانستان کے ایک ہسپتال میں ہلاک ہو گئے۔

ڈاکٹر چشتی مجاہد نے اپنے اخبار کو سٹوری بھیجی جو اس ہیڈ لائن کے ساتھ چھپی کہ ’آزادی مانگنے والوں کو اپنی زمین پر دفن ہونے کے لیے دو گز زمین بھی نصیب نہ ہوئی۔‘

سٹوری میں یہ جملہ شامل نہیں تھا اور نیوز ڈیسک نے از خود یہ سرخی جمائی تھی، لیکن یہ سرخی ڈاکٹر چشتی مجاہد کی زندگی پر سرخ لائن لگا گئی۔ یہ نو فروری 2008 کا واقعہ ہے۔

یکم نومبر 2006 کو اسلام آباد میں ایک سینیئر صحافی ملک محمد اسماعیل خان کو پارلیمنٹ ہاؤس سے چند قدم دور ایف سکس کے پارک میں گولی مار کرہلاک کر دیا گیا۔

ان کے بارے میں آج تک معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کا قصور کیا تھا۔ انہوں نے ایسی کوئی خبر بھی نہیں دی تھی جس سے کسی کو گلہ ہوتا ہاں یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ ان کی رسائی کسی ایسی خبر تک ہو گئی ہو جو ان کی موت کی وجہ بن گئی ہو۔

حال ہی میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے اپنی جدوجہد کے 70 سال پورے ہونے پر ایک کتاب شائع کی ہے جس کے صفحہ 183 پر پی ایف یو جے اور نیشنل پریس کلب کے سابق صدر افضل بٹ لکھتے ہیں کہ ’2007 سے 2013 صحافت کے لیے پر خطر دور تھا۔

’اس دور میں آئی ایس آئی کی جانب سے ہم سے رابطہ کیا گیا کہ ہم آپ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ جس پر ہم نے جواب دیا کہ اگر یہ روابط ناگزیر ہیں تو یہ شخصی سطح پر نہیں بلکہ ادارہ جاتی سطح پر ہوں گے۔

’اس سلسلہ میں ایک ملاقات اسلام آباد میں ہوئی تو انہوں نے ہمیں کہا کہ اس وقت پاکستان کے مفاد کے لیے ہمیں صحافیوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ لوگ انڈین ایمبیسی میں بڑے فخر سے جاتے ہیں لیکن ہمارے پاس نہیں آتے۔

’یہ وہ دور تھا جب عدلیہ بحالی تحریک اور جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف عوام کے غم و غصہ کی وجہ سے فوج کو حکم تھا کہ وہ بازاروں میں وردی پہن کر نہیں جائیں گے۔

’میں نے کہا کہ کوئٹہ میں ہمارے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہیں آپ کے ادارے سے خطرہ ہے۔ انہوں نے اگلی ملاقات میں کہا کہ ٹھیک ہے۔

’جب کوئٹہ میں ہماری ایف ای سی ہوئی تو میں نے یہ معاملہ سب کے سامنے رکھا جس پر ہمارے لوگ روایتی جمہوری کلچر کے مطابق جذبات اور غصے سے لال پیلے ہو گئے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم جمہوری ملک میں آئی ایس آئی سے براہ راست رابطے کریں۔

’میرا موقف تھا کہ اب جب ہمارا کوئی بندہ اغوا ہوتا ہے تو ہم زیادہ سے زیادہ وزیر داخلہ کے پا س شکایت کرنے جاتے ہیں تو وہ بگنگ کے خطرے کے پیش نظر ہمیں کاندھے کے بیجوں کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ وہ لے گئے ہیں۔

’اس لیے اگر ہمیں اپنے لوگوں کی جانیں بچانی ہیں تو پھر ہمیں براہ راست بات چیت کرنی ہو گی۔ اس دلیل پر ایف ای سی نے اجازت دے دی اور ہم نے انہیں بتایا کہ ہمارے دوست بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

’دوسرے روز ہماری ملاقات طے پا گئی۔ ملاقات کا طے شدہ وقت آدھے گھنٹے کا تھا جمعے کا دن تھا لیکن یہ ملاقات چھ گھنٹے پر محیط رہی۔ ملاقات میں پاکستان بھر کی تمام یو جیز کا ایک ایک نمائندہ شامل تھا۔ دوسری جانب سے کمانڈر سدرن کمانڈ، آئی ایس آئی کا نمایندہ اور ایف سی بلوچستان کا سربراہ بھی تھا۔

’میں نے گفتگو کا آغاز کیا تو میں نے بتایا کہ بلوچستان میں ہمار ے 40 لوگ بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو چکے ہیں۔ کئی اغوا اور معذور ہوئے دھمکی آمیز کالز روزمرہ کا معمول ہیں۔

ہمارے دوستوں کا خیال ہے کہ جس طرح وہ ریاست مخالف قوتوں کی نشانے پر ہیں اسی طرح ریاستی ادارے بھی انہیں نہیں بخشتے۔ میں نے بتایا کہ ہمارا کوئی بندہ اگر خضدار میں رہتا ہے اس کی جرات ہے کہ وہ ریاست مخالف لوگوں کا فون نہ سنے یا کوئٹہ میں کہے کہ میں یہ خبر نہیں لگاؤں گا؟

’میں نے کہا کہ جنرل صاحب ذرا پوچھیں کہ وہ کس چیز کے عوض غداری کر رہا ہے جس کے گھر کھانا بھی نہیں ہے؟ وہ غدار ہے یا مجبور ہے کیونکہ غدار تو ویگو ڈالوں پر گھومتے ہیں اور ڈالروں میں شاپنگ کرتے ہیں۔

’اسی طرح باہر سے اگر کوئی غیر ملکی صحافی آتا ہے تو اسے ویزا حکومت دیتی ہے لیکن جب ہمارا ساتھی اس کے ساتھ سٹنگر بنتا ہے تو وہ تو واپس چلا جاتا ہے مگر پیچھے ہمارے بندے کو گرفتار کر لیا جاتا ہے کہ آپ نے جاسوسی کی۔

’جس پر جنرل ناصر نواز جنجوعہ نے کمیٹی بنا دی اور اس میں ہمارے چار ساتھی بھی رکھ لیے کہ آج کے بعدکسی صحافی کو خبر یا ٹیلی فون ٹیپ کرنے پر نہیں اٹھایا جا ئے گا۔ اس کے بعد بلوچستان کے صحافیوں کو ریلیف ملنا شروع ہوا۔‘

کیا اسلام آباد جیسے شہر میں صحافیوں کے خلاف حالیہ بڑھتے ہوئے واقعات بھی سکیورٹی اداروں اور صحافتی تنظیموں کے درمیان عدم رواداری کا نتیجہ ہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس حوالے سے فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جو لوگ خود کو قانون سے ماورا سمجھتے ہیں وہ اس کی وجہ ہیں۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ صحافیوں کے قتل، اغوا یا تشدد کے حوالے سے نہ کوئی پکڑ اجاتا ہے اور نہ ہی کسی کو سزا ملتی ہے اس لیے ایک تاثر بن گیا ہے کہ جو نہیں مانتا اسے سبق سکھا دیا جائے۔

’انہوں نے کہا کہ معاشرہ اور پارلیمنٹ دونوں ہی یہ نہیں سمجھ پائے کہ یہ جو لوگ مارے جا رہے ہیں یہ ان تک سچ پہچانے کی راہ میں مارے گئے ہیں اس لیے ان کے حق کے لیے آواز اٹھانا ان کا فریضہ ہے۔

’انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے کو جس طرح رگڑا لگایا گیا ہے اس کی وجہ سے جمہوری اقدار پامال ہو رہی ہیں۔‘

 پاکستان میں خطرہ اب صرف کارکن صحافیوں کو نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے انقلاب کے بعد بلاگرز اور یو ٹیوبرز کو بھی ہے۔

بلکہ اب تو بعض ایسے لوگوں کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے جو ٹوئٹر پر متحرک نظر آتے ہیں اور ریاستی بیانیے کو چیلنج کرتے ہیں۔ بہت سے ایسے لوگوں کے خلاف غداری اور توہین مذہب کے قانون کے تحت بھی مقدمات درج ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں آزادی اظہار رائے ہر آنے والے دن کے ساتھ پابند ہوتی جا رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ