ایک طرف فوجی انخلا اور دوسری جانب امن مذاکرات

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور افغان طالبان سے امن مذاکرات پر معروف کارٹونسٹ صابر نذر نے کچھ یوں نظر ڈالی ہے۔

(صابر نذر)

امریکی فوج کا افغانستان سے طویل عرصے بعد انخلا جاری ہے جہاں آخری مرحلے میں امریکہ دہائیوں سے اپنے زیر استعمال ملک کے سب سے اہم اڈے بگرام ایئر بیس کو افغان حکومت کے حوالے کرنے والا ہے۔

جبکہ دوسری جانب افغان طالبان سے مذاکرات کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔

اپریل میں صدر جو بائیڈن نے انخلا کے لیے ستمبر کا ہدف مقرر کیا تھا۔ اس دوران افغانستان میں مقیم تمام 2500 امریکی فوجیوں اور 16 ہزار کے قریب سویلین کنٹریکٹرز کو ملک سے باہر نکالنا ہے تاکہ امریکی فوج کو دو دہائیوں پر مشتمل اس جنگ سے نکالا جا سکے۔

اس دوران چند روز قبل اقوام متحدہ نے دعویٰ کیا کہ طالبان افغانستان سے شورش ختم کرنے اور کابل حکومت سے مذاکرات کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب افغان طالبان بھی اب تک امن مذاکرات کے حوالے سے کچھ زیادہ خوش اور مطمئن دکھائی نہیں دے رہے ہیں اور آئے دن ان کی جانب سے بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔

حال ہی میں افغان طالبان کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ہمسایہ ممالک کا اپنی زمین پر امریکہ کو اڈے فراہم کرنا یا کام کرنے کی اجازت دینا ایک ’تاریخی غلطی‘ ہوگی۔

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا اور افغان طالبان سے امن مذاکرات پر معروف کارٹونسٹ صابر نذر نے کچھ یوں نظر ڈالی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کارٹون