بین الاقوامی رینکنگ میں 16 پاکستانی جامعات شامل: حقیقت کیا ہے؟

برطانیہ کے ایک معروف ادارے ’ٹائمز ہائیر ایجوکیشن یونیورسٹی رینکنگ‘ نے 2021 کے لیے دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست جاری کی ہے۔

اس بین الاقوامی رینکنگ میں اسلام آباد کی  قائداعظم یونیورسٹی 100ویں نمبر  پر ہے (قائد اعظم یونیورسٹی/ فیس بک)

برطانیہ کے ایک معروف ادارے ’ٹائمز ہائیر ایجوکیشن یونیورسٹی رینکنگ‘ نے 2021 کے لیے دنیا کی بہترین جامعات کی فہرست جاری کی ہے، جس میں ایشیا کی یونیورسٹیوں کی درجہ بندی میں پاکستان کی 16 جامعات کو  شامل کیا گیا ہے۔

ادارے نے 2021 میں 93 ممالک سے 1500 یونیورسٹیو ں کےکام کو  پرکھا جس میں ساڑھے پانچ سو  سے زائد صرف براعظم ایشیا کی یونیورسٹیاں شامل ہیں۔

دو جون کو  جاری کی جانے والی اس فہرست میں شامل یونیورسٹیوں کو  تدریس، تحقیق، علم کی ترسیل اور  بین الاقوامی نقطہ نظر کی بنیاد پر  منتخب کیاگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ایشیا کی ساڑھے پانچ سو سے زائد جامعات کی اس رینکنگ میں پاکستان کی 16 یونیورسٹیوں کو جگہ دی گئی ہے، جس میں اسلام آبادکی قائداعظم یونیورسٹی 100ویں نمبر  پر، خیبرپختونخوا کی عبدالولی خان یونیورسٹی 124 ویں جبکہ اسلام آباد کی کام سیٹس یونیورسٹی 171 ویں نمبر کے ساتھ بتدریج پاکستان میں پہلے دوسرے اور تیسرے نمبر پر  ہیں۔

باقی یونیورسٹیوں میں پشاور یونیورسٹی پاکستان میں چوتھے اور ایگریکلچر  یونیورسٹی آف فیصل آباد پانچویں نمبر پر ہے۔

واضح رہے کہ ایشیا سے ٹاپ یونیورسٹیوں کی اس فہرست میں چین، سنگاپور، ہانگ کانگ، جاپان اور جنوبی کوریا کی یونیورسٹیاں ٹاپ ٹین میں شامل ہیں۔

یہ رینکنگ کتنی اہمیت کی حامل ہے؟

ملکی یا بین الاقوامی سطح پر کی گئی بہترین جامعات کی رینکنگ کو  خصوصی طور  پر طلبہ میں بہت اہمیت حاصل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ داخلوں کے وقت وہ ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ وہ ان ہی یونیورسٹیوں کا حصہ بنیں۔

تاہم، ایک پاکستانی سائنسدان پروفیسر  پرویز ہود بھائی اپنی ایک یوٹیوب ویڈیو میں تنقید کرتے ہیں کہ ایک اچھی یونیورسٹی اپنی معیاری ریسرچ اور تدریس کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر کوئی یونیورسٹی اپنی معیاری ریسرچ کی وجہ سے کسی رینکنگ میں اپنا نام بنانے میں کامیاب ہوتی ہے تو ٹھیک ورنہ غیر معروف کانفرنسز میں غیر معیاری کام سے انتخاب کے پیمانوں پر  پورا اترنا کوئی قابل ذکر بات نہیں۔‘

جب صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں واقع عبدالولی خان یونیورسٹی کے شعبہ ریسرچ سے انڈپینڈنٹ اردو  نے رابطہ کیا اور  ان سے یہ پوچھا کہ بین الاقوامی رینکنگ میں 124 واں نمبر حاصل کرنے پر وہ کیا کہیں گے تو  شعبہ ریسرچ  کے ترجمان شاہ حسین نے بتایا کہ ان کی یونیورسٹی کو یہ رینکنگ ان کی محنت کے بل بوتے پر ملی ہے۔

شاہ حسین کہتے ہیں کہ ’ٹائمز ہائیر ایجوکیشن یونیورسٹی رینکنگ ایک معروف برطانوی ادارہ ہے۔ وہ کبھی کسی مالی فائدے کی خاطر  ایسی فہرست جاری نہیں کرتے، بلکہ انہوں نے ہمارا کام دیکھا ہے۔ جنرل رینکنگ میں ہم ایشیا میں 124 ویں نمبر پر جب کہ سائٹیشن میں ہم نے پاکستان میں پہلا نمبر حاصل کر لیا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ 2015 تک پاکستان میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی جانب سے ایسی سالانہ فہرست جاری ہوتی تھی لیکن جب یہ سلسلہ رک گیا تو  ان کی یونیورسٹی نے بین الاقوامی سطح کی فہرست میں اپنا نام شامل کرنے کے لیے کام شروع کیا۔

’مشین لرننگ‘ کے موضوع پر  پی ایچ ڈی سکالر  و  محقق کاشف احمد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ٹائمز ہائیر ایجوکیشن یونیورسٹی رینکنگ ادارے کے مطابق اگر ایک یونیورسٹی پانچ سال کی مدت میں ایک ہزار  اکیڈیمک پیپرز شائع کرے تو وہ رینکنگ میں حصہ لینے کی اہل ہوجاتی ہے۔

انہوں نے حالیہ رینکنگ میں پوزیشن حاصل کرنے والی ایک یونیورسٹی کو منتخب کرکے اس کا آن لائن ڈیٹا نکالتے ہوئے وضاحت کی ’اس یونیورسٹی کی 16 ہزار سے زائد سائٹیشنز  ہیں۔ ادارے کے محقیقین کی اکثریت نے سالانہ100 ریسرچ پیپرز شائع کیے ہیں۔اگر  آپ معیاری کام کریں تو یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک شخص سال میں 100 پیپرز شائع کرے۔‘

کاشف خان نے کہا کہ زیادہ تر لوگوں نے اپنے ہی پیپرز کو سائٹ کیا ہوتا ہے تاکہ مطلوبہ ہدف حاصل کر سکیں۔

 انہوں نے کہا ’یونیورسٹیاں اپنا نام رینکنگ میں شامل کرنےکی خاطر  اکثر  غیر معیاری ریسرچ غیر معروف کانفرنسز میں شامل کر لیتی ہیں، جس کی تفصیل میں ٹائمز  یا کوئی بھی ادارہ نہیں جاتا۔ وقت آگیا ہے کہ جامعات معیاری ریسرچ کریں تاکہ انڈسٹری کو فائدہ مل سکے۔‘

دنیا میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق 18 ہزار سے زائد یونیورسٹیوں کی سطح کے تعلیمی ادارے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتیں، سرمایہ کار، مقامی آبادی، والدین، طلبہ اور  میڈیا میں جامعات کی رینکنگ کو  بہت اہمیت حاصل ہے۔

لہذا وہ تعلیمی ادارے جو پانچ سو کی فہرست میں آجائیں ان کا شمار  دنیا کے تین فیصد اداروں میں کیا جاتا ہے۔

جو  ادارے پہلی پوزیشن سے 100 تک کی فہرست میں شامل ہو جائیں وہ تعلیمی ادارے دنیا کے بہترین ادارے کہلائے جاتے ہیں۔

تاہم ناقدین کے مطابق، اس رینکنگ سے اداروں کو  مالی فوائد تو مل سکتے ہیں لیکن اس کا معاشرے اور  طالب علموں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس