عبدالولی خان یونیورسٹی پاکستانی جامعات میں سرفہرست کیسے؟

دو ستمبر کو ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے دنیا کے 93 ممالک کی 1527 یونیورسٹیوں کی درجہ بندی جاری کی تھی جس میں لندن کی اکسفورڈ یونیورسٹی نے عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔

(سوشل میڈیا)

دنیا کی یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کرنے والی معروف ویب سائٹ ’ٹائمز ہائر ایجوکیشن‘ نے عبدالولی خان یونیورسٹی کو پاکستان کی بہترین جامعہ قرار دیا ہے، یہی نہیں بلکہ مردان میں واقع اس یونیورسٹی نے دنیا بھر میں بھی 510ویں پوزیشن حاصل کی۔

تازہ ترین رینکنگ میں قائداعظم یوینورسٹی اسلام آباد نے ملک کی دوسری اور نسٹ یونیورسٹی نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

2 ستمبر کو ٹائمز ہائر ایجوکیشن نے دنیا کے 93 ممالک کی 1527 یونیورسٹیوں کی درجہ بندی جاری کی تھی جس میں لندن کی اکسفورڈ یونیورسٹی نے عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ٹائمز ہائیر ایجوکیشن کی ویب سائٹ کے مطابق درجہ بندی کے لیے پاکستان سے 17 یونیورسٹیوں نے درخواست دی تھی۔

پاکستان کی ٹاپ یونیورسٹی کا اعزاز حاصل کرنے والی عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرظہورالحق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ٹائمز ہائیر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ کو دنیا میں ’گولڈ رینکنگ‘کہا جاتا ہے کیونکہ یہ یونیورسٹیوں کی ریسرچ کے حوالے سے درجہ بندی کرتی ہے۔ 

انہوں نے بتایا: ’یونیورسٹیوں کا اصل کام تحقیق کرنا ہوتا ہے اورریسرچ ہی ایک یونیورسٹی کو اسے دوسرے اداروں سے منفرد بناتی ہے۔ ٹائمز ہائر ایجوکیشن سکوپس انڈیکس خود یونیورسٹیوں کا ریسرچ ڈیٹا جمع کرتا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’بین الاقوامی سطح پر سکوپس انڈیکس جرنل میں آرٹیکل شائع ہونا ہی رینکنگ کا معیار ہوتا ہے اور پاکستان میں سب سے زیادہ آرٹیکل ہمارے فیکلٹی ممبرز یعنی پی ایچ ڈی سکالرز کے شائع ہوئے ہیں جس کی بنیاد پر ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی تازہ ترین رینکنگ میں دنیا میں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان نے دنیا بھر میں 510ویں اور پاکستان میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹرظہورالحق نے مزید بتایا کہ ’عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے پاس دوسو سے زیادہ پی ایچ ڈیز سکالرز ہیں۔ معاشی مسائل کے باوجود فیکلٹیز کے شاندار کام کی وجہ سے عبدالولی خان یونیورسٹی نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہمیں پتہ چلا ہے کہ سبجیکٹ کی بنیاد پر ہونے والی سائیٹیشن رینکنگ میں بھی عبدالولی خان یونیورسٹی پوری دینا کے ٹاپ 200 اداروں میں شامل ہے اور یہ اعزاز پاکستان کی کسی اور یونیورسٹی کو حاصل نہیں ہوا۔ اس سب کا کریڈٹ ہمارے فیکلٹی ممبرز کو جاتا ہے۔‘

جب انڈپینڈنٹ اردو نے پوچھا کہ انتہاپسندی، بدعنوانی اورکرپشن کے سکینڈلز کے باوجود یونیورسٹی نے کس طرح یہ بہتر پوزیشن حاصل کی جس کے جواب میں قائم مقام وائس چانسلر نے کہا کہ ’ملک میں اکثر اداروں کو زوال اور عروج کا سامنا ہوتا ہے اور کارکردگی کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے کے لیے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ وسائل اور مسائل کے درمیان فرق کی وجہ سے اکثرادارے آگے نہیں بڑھ پاتے لیکن عبدالولی خان یونیورسٹی کی انتظامیہ ہائر ایجوکیشن کے تعاون سے اپنی محنت جاری رکھتے ہوئے ادارے کو آگے لے جانے میں کامیاب رہی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ آنے والے سال میں بیرون ملک سے مزید 100 پی ایچ ڈی کی ڈگریز مکمل کرنے والے اساتذہ  یونیورسٹی میں شامل ہو جائیں گے جس کے بعد یونیورسٹی میں 300 کے لگ بھگ پی ایچ ڈی پروفیسرز ہوں گے اور یہ پروفیسر اپنی محنت سے ادارے کو مزید آگے لے جائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یونیورسٹی کو معاشی مسائل کا سامنا تھا اور تنخواہوں تک پیسے نہیں تھے؟ اس کا جواب دیتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ ’یونیورسٹی کو رواں سال اپریل  اورمئی کے مہینوں میں معاشی مشکلات کا سامنا تھا اور تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی تھی لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے دیے گئے خصوصی فنڈز سے تنخواہوں کا مسلہ حل ہوا اور اب کنسٹرکشن کے لیے بھی رقم جاری کی گئی ہے جس پر ہم صوبائی حکومت کے مشکور ہیں۔’

عبدالولی خان یونیورسٹی کے پروفیسرڈاکٹرحاضررحمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ عبدالولی خان یونیورسٹی نے پہلی مرتبہ ورلڈ رینکنگ کے لیے ڈیٹا جمع کرایا تھا اور پہلی بار ہی یہ پاکستان کی بہترین یونیورسٹی قرار پائی۔ انہوں نے کہا کہ عبدالولی خان یونیورسٹی سال 2009میں قائم ہوئی تھی جب کہ سنہ 2017 اور 2018 میں اسے نیشنل ہائیرایجوکیشن کی رینکنگ میں بھی پہلی پوزیشن حاصل ہو گئی تھی۔

عبدالولی خان یونیورسٹی نے کیسے ملک کے دوسرے بڑے یونیورسٹیوں کو پیچھے چھوڑ دیا؟

اس کا جواب دیتے ہوئے روفیسرڈاکٹرحاضررحمان نے کہا کہ یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی ہولڈراساتذہ کی اکثریت یورپ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک سے فارغ التحصیل ہیں جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے اساتذہ کو بیرون ملک پروفیسرز کے ساتھ کولیبریشن بھی حاصل ہے جس سے پبلیکشن اورسائیٹیشن میں مدد ملتی ہے اور اسی وجہ سے انٹرنیشنل رینکنگ، انٹرنیشنل آوٹ لک اور سائیٹیشن کی وجہ سے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد اور نسٹ جیسے اداروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

سائیٹیشن کیا ہے؟

پروفیسر ڈاکٹرحاضررحمان نے کہا کہ سائیٹیشن ایسی قابل بھروسہ پبلیکشن ہوتی ہیں کہ دنیا میں دوسرے لوگ بھی ان کا حوالہ دیتے ہوں۔

’ہماری یونیورسٹی میں ایسے اساتذہ کی تعداد زیادہ ہے جنہوں نے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈیز کی ہوئی ہے۔  ان کی تعداد 160 سے زیادہ ہے جبکہ یونیورسٹی میں کل 436 فیکلٹی میں سے پی ایچ ڈیز کی تعداد 226 ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اس رینکنگ سے حکومت کی طرف سے فنڈنگ کے حوالے سے آسانی ہوگی اور اس طرح ایچ ای سی بھی مزید یہاں پر توجہ دے گا جبکہ انٹرنیشنل سطح پر یونیورسٹی کی ریپوٹیشین بہترہونے سے طلبہ اور فیکلٹی کے لیے پراجیکٹ آئیں گے جس سے یونیورسٹی اور علاقے کا انفراسٹرکچر بھی بہتر ہوگا۔

عبدالولی خان یونیورسٹی میں پڑھنے والے ایک طالب علم علی رضا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یونیورسٹی کی ورلڈ رینکنگ میں بہتر پوزیشن پر انہیں خوشی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'اس رینکنگ نے یونیورسٹی کے بارے میں لوگوں کی سوچ بدل دی ہے اور اب فیکلٹی کوانٹرنیشنل اداروں سے پراجیکٹ ملیں گے جس سے طلبہ کو بھی معاشی فائدہ ہو گا۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان