’میرا دوست کل یونیفارم میں گیا تھا آج کفن میں واپس آیا‘

اگلے ماہ اپنی شادی کی فکر میں وہ عامر سے بس یہی کہہ کر رخصت ہوگیا کہ ’یار مجھے ڈیوٹی پر جانا ہے تم میرے پیچھے سب سنبھال لینا۔‘

گھوٹکی میں تباہ ہونے والا ایک انجن (اے ایف پی)

گھوٹکی حادثے میں ہلاک ہونے والے 25 سالہ ریلوے پولیس اہلکار علی ناصر شاہ کی اگلے ماہ شادی تھی۔

دو دن قبل وہ اپنے کزن اور جگری دوست عامر حسین شاہ کے ساتھ شادی کی تمام تیاریوں، شیروانی اور بارات کی دھوم دھمک کے بارے میں گفتگو کر رہا تھا۔

عامر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ناصر کی اگلے روز سر سید ایکسپریس میں خانیوال سے روہڑی تک ڈیوٹی تھی۔ ریلوے میں تین سال تک ملازمت کرنے کے بعد ناصر وقت کا بےحد پابند ہوگیا تھا۔ ان کے والد بھی سکول ٹیچر ہیں اور انہیں دیر رات تک ناصر کا باہر بیٹھنا پسند نہیں تھا۔

اگلے ماہ اپنی شادی کی فکر میں وہ عامر سے بس یہی کہہ کر رخصت ہوگیا کہ ’یار مجھے ڈیوٹی پر جانا ہے تم میرے پیچھے سب سنبھال لینا۔‘ مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ جگری دوست آخری بار ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے ہیں۔

علی ناصر شاہ بھی ان 50 سے زائد افراد میں شامل ہیں جو اس حادثے میں جان سے چلے گئے۔ حکام کے مطابق زخمیوں کی تعداد سو سے زائد ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گھوٹکی میں ریلوے حادثے کے بعد عامر اپنے رہائشی علاقے کبیر والا، خانیوال سے ناصر کی لاش لینے سول ہسپتال گھوٹکی آئے۔ انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو ٹیلی فون پر بتایا: ’مجھے اسے جانے ہی نہیں دینا چاہیے تھا، ہم تو کل ہی بیٹھ کر اس کی شادی کی تیاریوں کی باتیں کر رہے تھے۔ لیکن آج وہ میرے سامنے ایک میت کی طرح لیٹا ہوا تھا۔‘

عامر کے مطابق ناصر یاروں کا یار تھا اور بہت محبت کرنے والا تھا۔ ’ہم دوست کبھی ناراض ہوجاتے تھے تو اگلے دن منانے آجاتا تھا اور کبھی وہ ناراض ہو جائے اور ہم اگر نہ بھی منائیں تو اگلے دن خود ہی بات کرنے لگتا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ناصر کی ہونے والی دلہن کو اب تک یقین ہی نہیں ہے کہ وہ اس خوفناک حادثے میں ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہوگیا ہے۔

’میرا دوست کل یونیفارم میں گیا تھا آج کفن میں واپس آرہا ہے۔‘

پیر کی صبح ہونے والے اس حادثے میں کراچی سے سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس کی آٹھ بوگیاں کو تین بج کر اڑتیس منٹ پر اپنی پٹری سے اتر کر دوسری پڑی پر آگری اور ٹھیک دو منٹ بعد سرسید ایکسپریس ڈی ریل ہونے والی بوگیوں سے ٹکرا گئی۔

ڈپٹی کمشنر گھوٹکی عبداللہ عثمان کے مطابق حادثے کے وقت دونوں ٹرینوں کے ڈرائیوروں کو اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہوا ہے۔ اس وقت یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ حادثہ کسی ڈرائیور کی لاپرواہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ اصل وجہ تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

ڈی ٹی او سکھر حمید لشاری نے تحقیقات کے حوالے سے بتایا کہ فیڈرل گورنمنٹ انسپیکٹر آف ریلویز (ایف جی آئی آر) کی ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر اور شواہد اکھٹے کر لیے۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس حادثے کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر پیر کی شام وزیر ریلوے اعظم سواتی نے ہنگامی طور پر جائے حادثہ کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔

انہوں نے  یقین دہانی کروائی کہ ریسکیو آپریشن اور زخمیوں کے علاج معالجے کی نگرانی وہ خود کریں گے۔ مستعفی ہونے کے حزب اختلاف کے مطالبہ کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اگر اس سے کوئی فرق پڑے گا تو وہ تیار ہیں۔

پاکستان میں پچھلے 20 سالوں میں اب تک 27 بڑے ٹرین حادثات پیش آچکے ہیں۔ یہ اس سال کا دوسرا ٹرین حادثہ تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان