کشمیری کرتب باز جو رونالڈو بننے کے خواب دیکھ رہا ہے

حزیب جموں و کشمیر کا سب سے کم عمر ٹرِک شاٹ آرٹسٹ ہے جو ابھی دسویں جماعت میں پڑھتا ہے مگر اس کچی عمر ہی سے رونالڈو اور ڈیوڈ بیکم بننے کے خواب دیکھنے لگا ہے۔

تصویر:شاہ حزیب/ انسٹاگرام

حزیب جموں و کشمیر کا سب سے کم عمر ٹرِک شاٹ آرٹسٹ ہے جو ابھی دسویں جماعت میں پڑھتا ہے مگر اس کچی عمر ہی سے رونالڈو اور ڈیوڈ بیکم بننے کے خواب دیکھنے لگا ہے۔

وہ برصغیر کے کروڑوں نوجوانوں کی طرح کرکٹ کے شیدائی تھے لیکن اچانک فٹبال کی جانب راغب ہو کر بہترین شاٹس کھیلنے لگے اور دوستوں اور سکول میں سب کی توجہ کا باعث بن گئے۔ گو اس وقت نوجوانوں کی عسکری مزاحمت عروج پر ہے مگر بیشتر نوجوانوں میں کچھ اور کر دکھانے کی جستجو بھی ہے۔ ان میں چرار شریف کے نوعمر حزیب شاہ شامل ہیں جو آج کل میڈیا کے خاصا موضوع بنے ہوئے ہیں۔

والدین نے جب حزیب کو لگاتار فٹ بال کھیلتے دیکھا تو وہ پریشان ہوگئے۔ وہ حزیب کو پڑھائی کی طرف مائل کرنے کے بہانے ڈھونڈنے لگے لیکن انہوں نے جب والدین کو دنیا کے نامور ٹرکسٹروں کے فوٹو اور کرتب دکھائے تو وہ بیٹے کے ٹیلنٹ سے واقف ہوئے اور انہیں پریکٹس کرنے کی اجازت دے دی۔ حزیب نے اپنے فٹبال شاٹس کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر ڈالے ہیں اور تب سے میڈیا والے ان کے کرتب دیکھنے چرار شریف پہنچ جاتے ہیں۔ 

ان شاٹس میں حزیب لڑھکتے ہوئے پہیے کے اندر سے فٹبال گزارنے، بغیر دیکھے دور بیٹھے دوست کے سر پر رکھی بوتل فٹ بال سے گرانے، ٹینس بال کو پاؤں سے ٹھوکر مار کر موم بتی بجھانے اور ٹوکری میں گیند ڈالنے جیسے دلچسپ کرتب دکھا رہے ہیں۔

میں نے حزیب سے پوچھا کہ آپ نے یہ کرتب کیسے سیکھے تو وہ بتانے لگے: ’میں نے فٹبال سیکھنے کے بارے میں کافی ویڈیوز دیکھے جن میں ٹرک شاٹس کے نامور کھلاڑیوں کینٹونا، زیڈان اور ریوالڈو کے ویڈیوز بھی موجود تھے۔ مجھ پر یہ شاٹس سیکھنے کا جنون پیدا ہوا اور میں دن رات مشق کرتا رہا۔ میں نے ابتدائی شارٹس سیکھنے کا مرحلہ طے کیا ہے اب میں ان کو ایڈوانس لیول تک لے جانا چاہتا ہوں‘۔

جموں و کشمیر میں فٹبال کھیلنے کا اتنا رحجان نہیں جتنا کرکٹ کا ہے، البتہ حزیب کہتے ہیں کہ جب سے انہوں نے ٹی وی پر یوروپیئن فٹبال میچ  دیکھے، کشمیر میں بھی اس کی ٹیمیں بننے لگی ہیں اور ریاستی سطح پر اب مقابلے بھی کروائےجاتے ہیں۔ 

حزیب نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’جموں و کشمیر کا ہر نوجوان امن اور سکون کی تلاش میں ہے اور وہ تبھی ممکن ہے جب کشمیر کا مسئلہ حل ہو گا۔ ہم بھی دوسرے نوجوانوں کی طرح کھیلنا چاہتے ہیں، آگے بڑھنا چاہتے ہیں، عالمی مقابلوں میں کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں مگر ہمارے لیے ہر سو جیسے پہرے بٹھائے گئے ہیں۔ کبھی گھر سے باہر جانا مشکل لگتا ہے تو اپنا ٹیلنٹ کیسے دکھائیں۔‘

کیا آپ کو لگتا ہے کہ فٹبال شاٹس کا کوئی مستقبل ہے؟ اس سوال کا جواب حزیب نے کچھ یوں دیا: ’کیوں نہیں! فٹبال ایک بڑی انڈسٹری ہے اور شاٹس اس کو انتہائی دلچسپ کھیل بنا دیتے ہیں۔ میرا خواب ہے کہ میں اس کو جموں و کشمیر میں متعارف کرا کے اسے مستقبل کا ایک مقبول کھیل بناؤں جس کے لیے مقامی حکومت اور فٹبال ایسوسی ایشن کو ہماری حوصلہ افزائی کرنی ہو گی‘۔

میں نے حزیب کی آنکھوں میں جو خواب دیکھا اس میں مجھے جموں و کشمیر کے لاکھوں نوجوانوں کے بہترین مستقبل کی امید نظر آ رہی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ابھرتے ستارے