دو بار سڑکیں جام کرنے والے خادم حسین رضوی ضمانت پر رہا

دو بار دھرنا دے کر ملک جام کرنے اور پاکستانی فوج کے جرنیلوں سمیت اعلیٰ عدالت کے ججوں کے خلاف بیان بازی پر معافی مانگنے کے بعد پیر افضل قادری اور خادم حسین رضوی کی ضمانت پر رہائی کا پروانہ جاری کر دیا گیا ہے۔

تصویر: اے ایف پی

دو بار دھرنا دے کر سڑکیں جام کرنے اور پاکستانی فوج کے جرنیلوں سمیت اعلیٰ عدالت کے ججوں کے خلاف بیان بازی پر معافی مانگنے کے بعد پیر افضل قادری اور خادم حسین رضوی کی ضمانت پر رہائی کا پروانہ جاری کر دیا گیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس قاسم خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔

عدالت عالیہ کے دو رکنی بنچ نے دونوں مذہبی رہنماؤں کی ضمانت کی درخواستوں پر کارروائی مکمل ہونے پر دس مئی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ دونوں مذہبی رہنماؤں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمات زیر سماعت ہیں اور ان پر قومی اداروں کے بارے میں تضحیک آمیز الفاظ استعمال کرنے، دھرنا دے کر ملک جام کرنے اور توڑ پھوڑ کا الزام ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے تحت خادم رضوی اور پیر افضل قادری کو رہائی کے لیے پانچ، پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے ہوں گے۔ عدالت نے پیر افضل قادری کی 15 جولائی تک ضمانت منظور کی ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کو گذشتہ سال اکتوبر میں آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف دھرنا دے کر مرکزی شاہرائیں بند کرنے کے بعد دوبارہ دھمکی پر کریک ڈاون کے ذریعے حراست میں لیا گیا تھا۔
تاہم 15 روز قبل جیل سے تحریری اور ویڈیو پیغام کے ذریعے عسکری قیادت، سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف تضحیک آمیز بیان بازی پر معافی مانگی اور تحریک لبیک پاکستان سے مستعفی ہو کر علیحدگی کا اعلان کیا۔ دونوں رہنماؤں کی جانب سے معافی نامہ بھی عدالت میں جمع کرایا گیا۔

تحریک لبیک کی جانب سے پہلی بار سابقہ دور حکومت میں اراکین اسمبلی کے حلف نامے میں ناموس رسالت سے متعلق مبینہ تبدیلی پر فیض آباد سمیت ملک بھر کی مرکزی شاہراؤں کو دھرنے دے کر بلاک کر دیا تھا۔ کئی دن نظام زندگی معطل ہونے کے بعد تحریک لبیک کے مطالبہ پر سابقہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔

اسی بارے میں مزید پڑھیے

کیا تحریک لبیک بھی این آر او چاہتی ہے؟

مطالبہ تسلیم ہونے کے بعد دھرنوں کے اختتام پر فیض آباد میں شرکا کو پاک فوج کے ایک اعلیٰ افسر کی جانب سے ایک، ایک ہزار روپے تقسیم کرنے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ اس مذہبی جماعت نے الیکشن کمیشن سے رجسٹریشن کے بعد 2018 کے عام انتخابات میں حصہ لیا اور سیاسی طور پر چوتھی بڑی جماعت بن کر ابھری اور کراچی میں ان کے دو صوبائی اسمبلی کے اراکین بھی منتخب ہوئے۔

ٹی ایل پی قیادت نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کاقتل کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا پانے والے پولیس کانسٹیبل ممتاز قادری کو ’شہید‘ قرار دیا اور جب سپریم کورٹ نے آسیہ مسیح کو مقدمہ سے بری کیا تو تحریک لبیک پاکستان نے دوسری بار ملک بھر میں دھرنے دے کر نظام زندگی مفلوج کر دیا اس بار تحریک کے سربراہ پیر افضل قادری اور خادم رضوی مال روڑ لاہور دھرنے میں بیٹھ کر ملک بھر کے مختلف شہروں میں دھرنا دینے والے کارکنوں کو ہدایات جاری کر رہے تھے۔ اسی دوران آسیہ مسیح کی رہائی پر پیر افضل قادری اور خادم رضوی نے مبینہ طور پر جوش خطابت میں جرنل فیض چشتی سمیت پاک فوج کے دیگر افسران پر دھرنا ختم کرانے کے لیے سنگین دھمکیاں دینے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

واضح رہے کہ توہین رسالت کے کیس میں عدالت سے بری ہونے کے بعد آسیہ مسیح بیرون ملک جاچکی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان