خواتین صحافیوں کو کیا کیا جھیلنا پڑا ہے!

خاتون صحافیوں کی خبروں سے زیادہ ان کے کپڑوں، میک اپ، انداز و اطوار پر کمنٹ کیے جاتے ہیں۔

اسلام آباد میں خواتین صحافیوں کی تربیت کے موقع پر لی گئی ایک تصویر۔ فائل فوٹو، روزان

سال 2004 میں جب صحافتی کیریئر کا آغاز کیا تو سب سے پہلا سبق یہ ملا کہ نیوز چینل کے ایک پروگرام کے لیے مہمان بلانے کی ڈیوٹی خاتون اسسٹنٹ پروڈیوسر کریں گی کیونکہ عمومی خیال یہ تھا کہ پروگرام ٹیم کے لڑکے جب کسی سیاسی یا سماجی سیلیبرٹی کو فون کرکے پروگرام میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں تو انکار کردیا جاتا ہے۔

صحافت میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ خواتین مشکل موضوعات اور بیٹس کی کوریج نہیں کرسکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب میں نے 2013 میں اسلام آباد میں سپریم کورٹ سے رپورٹنگ کا آغاز کیا تو صرف دو خواتین صحافی مونا خان اور رباب حسین باقاعدہ کورٹس کی کوریج کرتی تھیں۔

اب حال یہ ہے کہ اس وقت سپریم کورٹ پریس ایسوسی ایشن میں ایک بھی خاتون صحافی رجسٹرڈ نہیں۔

نیوز روم میں عموما رپورٹر خواتین کو موسم، صحت اور تعلیم کے شعبوں کی کوریج دے دی جاتی ہے۔ یہ ایک خود ساختہ پیکج ہے یعنی جو لڑکی موسمیات کور کرے گی وہی صحت، انسانی حقوق، غیر سرکاری تنظیموں اور تعلیم کے معاملات دیکھے گی۔

سب کو علم ہے کہ ہمارے میڈیا میں سیاست، عدالت اور کرکٹ پرائم ٹائم پر قابض رہتے ہیں۔ ایسے میں صحت، تعلیم اور موسم کی خبریں غیر اہم تصور کی جاتی ہیں اور ان خبروں کو فائل کرنے والی خاتون صحافی خبروں سے بھی زیادہ غیر اہم۔

مزے کی بات یہ ہے کہ اگر انہی خواتین صحافیوں کو پارلیمنٹ، عدالتیں، کرائم، وزارت خارجہ یا دفاع کے معاملات کی کوریج دے دی جائے تو نیوز روم باس تب بھی ان کی صلاحیتوں پر شک کا شکار نظر آتے ہیں۔

برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب کو صحافت میں اعلٰی کارکردگی پر کئی ایوارڈز ملے۔ وہ اپنی کامیابی کا راز اپنے وسیع حلقہ احباب کو قرار دیتی ہیں۔ منشیات کے بے تاج بادشاہ اور ان پڑھ جہادی سے لے کر وزراء اعظم تک، سکول کے ٹیچر سے امریکہ، پاکستان اور برطانیہ کے سابق فوجی جرنیلوں تک سب ان کی رابطہ لسٹ میں موجود ہیں۔

کرسٹینا ان سے صرف رابطے میں نہیں رہیں بلکہ ان سے دوستیاں بھی بنائیں۔ کرسٹینا اکلوتی مثال نہیں، ذرائع سے خبر لینا پیشہ ورانہ صحافت کا ایک اہم حصہ ہے۔

سیاست، دفاع، عدالت اور جرائم کی رپورٹنگ میں صحافی کا سب اہم ہتھیار اس کے ذرائع ہی ہوتے ہیں۔ یہ ذرائع کوئی راتوں رات بنتے ہیں نہ ہی کسی کی من موہنی صورت دیکھ کر بنتے ہیں۔ کسی بھی باخبر شخص کا اعتماد جیتنے کے بعد ہی خبر کی سن گن ملتی ہے۔ قارئین نے کبھی سوچا کہ یہ ذرائع بنانے کے لیے خواتین صحافیوں کو کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں؟

سپریم کورٹ میں آدھی سے زیادہ خبریں کمرہ عدالت کے بجائے بار کونسل، بار ایسوسی ایشن، صوبائی اور وفاقی لاء افسران کے دفاتر سے نکلتی ہیں۔

ایک بار سندھ کے ایک بزرگ لاء افسر نے مجھ سے درخواست کی کہ ’میڈم آپ کو خبر کا پوچھنا ہو تو فون کرلیا کریں ہمارے دفتر نہ آیا کریں۔ آپ کے جانے کے بعد آپ ہی کی صحافی برادری کے لوگ باتیں بناتے ہیں‘۔

یہ سن کر غصہ تو بہت آیا تھا مگر ہم ایسی ذہنیت کا کر کچھ نہیں سکتے۔ ایک لاء افسر سے عدالت میں پیش کی گئی دستاویز کی نقول مانگی تو انہوں نے شام میں سرینہ ہوٹل آنے کی دعوت دے ڈالی۔

ایسی ہی ہماری ایک ساتھی کے بارے میں کہا جاتا رہا کہ ان کو خبریں ایک بڑے اینکر صاحب فیڈ کرتے ہیں۔ ایک اور خاتون صحافی کی ہر بریکنگ کو ان کے کپڑوں کے رنگ سے جوڑا جاتا۔

خواتین صحافی اپنا کیرئیر بنانے میں اتنی سنجیدگی سے مصروف ہوتی ہیں کہ ایسی خرافات پر لعنت بھیج کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین صحافیوں میں گنتی کی چند ایک ایسی بھی ہیں جنہیں یہ خوش فہمی ہے کہ ’ایسا ویسا کچھ نہیں، فیلڈ میں صرف ان خواتین کو تنگ کیا جاتا ہے جو خود نمائی کرتی ہیں‘۔

ایسی ہی خواتین صحافی وہ ہیں جو نیوز روم میں مرد ساتھیوں اور سینیئرز کی مرضی سے کام کرتی ہیں۔ وہ کئی برسوں سے صحافت کرنے کے باوجود آج بھی ’اسٹیپنی رپورٹر‘ کے طور پر فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

میں نے ساتھی صحافیوں کی زبانی لگ بھگ ہر کامیاب خاتون صحافی کے بارے میں یہ سن رکھا ہے کہ وہ فلاں وزیر، فلاں افسر یا فلاں وکیل کے ہمراہ مری، بھوربن یا دبئی میں دیکھی گئی ہے۔

بڑی خبریں نکال لانے والی خاتون صحافیوں پر عجیب مضحکہ خیز الزامات لگنے عام ہیں۔ یہاں تک کہ ایک بہت نام ور صحافی، ساتھی خاتون رپورٹر کی بڑی خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنے لگے ’یہ خبر میریٹ ہوٹل سے شام کے وقت فائل ہوئی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ ہمارے ساتھی مرد صحافی اکثر شام کو مجلس یاراں میں بیٹھ جاتے ہیں۔ رات گئے محفل دوستاں میں علم و ادب سے لے کر حالات حاضرہ تک زیر بحث رہتا ہے۔ ان بیٹھکوں میں اعلی سرکاری افسر، ریٹائرڈ فوجی اہلکار، سینیئر صحافی اور سیاست دان دوستانہ ماحول میں بیٹھ کر گپ لگاتے ہیں، خبریں نکلتی ہیں، دوست بنتے ہیں، بلکہ یوں کہیے کہ ذرائع بنتے ہیں۔

مگر خواتین صحافی ان محفلوں میں بہت کم ہی نظر آتی ہیں، اس صحافتی پریکٹس سے خواتین صحافیوں کی ایک بڑی تعداد مکمل طور پر آؤٹ ہے۔

کوئی بھی باخبر سیاسی، سماجی یا سرکاری شخصیت کسی بھی خاتون صحافی کے ہمراہ شام کی ایک کپ چائے پینے سے پہلے سو بار سوچے گی کہ کہیں اس ملاقات کو غلط رنگ نہ دے دیا جائے۔

سوشل میڈیا کا دور ہے ایک بھی تصویر وائرل ہوگئی تو کس کس کو جواب دیتا پھروں گا۔ دوسری جانب خواتین صحافیوں کو عجب مشکل یہ درپیش ہے کہ اگر وہ اپنے ذرائع کو ایک کپ چائے کی آفر کریں گی تو کہیں موصوف خود ہی اس دعوت کو کچھ اور نہ سمجھ بیٹھیں۔

خاتون رپورٹرز کی خبروں سے زیادہ ان کے کپڑوں، میک اپ، انداز و اطوار پر کمنٹس کیے جاتے ہیں۔ کامیاب خواتین صحافیوں سے جلنے والے ان کی خبروں اور تحریروں کو ان کے قابل اور لائق فائق دوستوں کی مرہون منت قرار دیتے ہیں۔

شومئی قسمت کہ اگر کسی خاتون صحافی کا شوہر یا بھائی صحافی ہے تو خاتون کی کامیابی کا سہرا گھر کے مرد کو دیا جاتا ہے۔

تحریر کا مقصد کیچڑ اچھالنا نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ صحافت میں کامیابی کے لیے صحافی خواتین کو صلاحیت و محنت کے ساتھ ساتھ برے رویوں کا سامنا کرنے کا عزم اور اپنی پرفارمنس سے منہ توڑ جواب دینے کا حوصلہ بھی ہونا چاہیے۔

یہ سب تو چند تلخ حقیقتیں ہیں، مگر دنیا اچھے لوگوں سے خالی نہیں۔ لائق احترام ہیں وہ صحافی جو اپنی خواتین ساتھیوں کو فیلڈ میں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ان کی کامیابی پر رشک کرتے ہیں۔ سیاست و بیوروکریسی میں بھی ایسے باوقار افراد موجود ہیں جن کی نظر میں ایک صحافی صرف صحافی ہے، مرد و عورت کی تخصیص نہیں۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر