ٹوئٹر جان بوجھ کر مقامی قوانین پر عمل نہیں کر رہا: بھارت

بھارتی حکومت کے ساتھ تناؤ کے شکار ٹوئٹر کو اب پولیس نے ایک بزرگ مسلمان شخص پر تشدد کی ایک ویڈیو شیئر ہونے کے بعد مجرمانہ شکایت کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

بھارت کے وزیر برائے آئی ٹی روی شنکر پرساد (بائیں) اور وزیر اطلاعات پرکاش جوادیکر فروری 2021 میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے نئے قواعد کا اعلان کرتے ہوئے  (اے پی)

انٹرنیٹ کے نئے قواعد و ضوابط پر پہلے ہی بھارتی حکومت کے ساتھ تناؤ کے شکار مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ٹوئٹر کو اب پولیس نے ایک بزرگ مسلمان شخص پر تشدد کی ایک ویڈیو شیئر ہونے کے بعد مجرمانہ شکایت کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔

ٹوئٹر طویل عرصے سے استدلال پیش کر رہا ہے کہ وہ بطور ایک ناشر کام نہیں کرتا یعنی وہ صارفین کی جانب سے شائع کردہ مواد کے لیے مجرمانہ طور پر ذمہ دار نہیں۔

لیکن منگل کو شمالی ریاست اتر پردیش میں پولیس نے ایک مقدمے میں ٹوئٹر اور متعدد دیگر افراد پر مختلف برادریوں یا مذاہب کے مابین اشتعال کے ذریعے بدامنی پھیلانے کا شبہ ظاہر کیا ہے۔

ٹوئٹر پر پوسٹ کی جانے والی دو ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ ایک بزرگ مسلمان شخص کو جوانوں کے ایک گروپ نے تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی داڑھی مونڈھ ڈالی۔

بعد میں متاثرہ شخص نے واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ تشدد کے دوران انہیں ہندو مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔

مرکزی دھارے میں شامل بھارتی میڈیا نے اس واقعے کی وسیع پیمانے پر رپورٹنگ کی لیکن غازی آباد ضلع میں، جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا، پولیس کا کہنا ہے کہ مذہب اس حملے کا محرک نہیں تھا اور یہ ان افراد کے درمیان ایک لین دین کے تنازعے کے بعد شروع ہوا۔ اس واقعے کے بعد تین ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔

ٹوئٹر کے خلاف پولیس کیس ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آئی ٹی کے نئے قوانین پر حکومت اور یہ پلیٹ فارم آمنے سامنے کھڑے ہیں کیوں کہ حکام نے آن لائن مواد کے حوالے سے پولیس کو زیادہ اختیارات فراہم کیے ہیں۔

ان قوانین میں سوشل میڈیا کمپنیوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسے مواد کو فوری طور پر ہٹانے کے پابند ہیں جسے حکام غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ 

حکومت کے احکامات کی تعمیل میں پولیس تفتیش میں مدد اور ’شرانگیز معلومات‘ پھیلانے والوں کی شناخت کرنا بھی شامل ہے۔

نئے قواعد ہندو قوم پرست نریندر مودی کی حکومت نے فروری میں متعارف کروائے گئے تھے جو 26 مئی سے نافذ العمل ہو گئے ہیں۔

 گذشتہ ماہ ٹوئٹر نے ان قوانین پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قواعد اظہار رائے کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں۔

لیکن بھارتی حکومت نے انہیں خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے حکم کی تعمیل میں ناکامی کے نتیجے میں سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز پر مواد کے حوالے سے بطور ’ثالث‘ اپنا سٹیٹس کھو سکتی ہیں، اس سٹیٹس سے انھیں شائع کردہ مواد پر قانونی تحفظ ملتا ہے۔

مسلمان بزرگ شہری کی ویڈیو پر ہونے والے تازہ ترین تنازعے کے رد عمل میں بھارت کے وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی روی شنکر پرساد نے بدھ کو کہا کہ ’اتر پردیش میں جو کچھ ہوا وہ جعلی خبروں کے حوالے سے ٹوئٹر کی نااہلی کی مثال ہے۔‘

روی شنکر پرساد نے مزید کہا کہ ’اگرچہ ٹوئٹر اپنے حقائق کی جانچ کے طریقہ کار کے بارے میں ضرورت سے زیادہ پرجوش ہے لیکن یوپی جیسے متعدد معاملات میں ناکامی سے انہیں حیرت ہوئی ہے اور یہ غلط معلومات سے لڑنے میں اس کمپنی کے دعوؤں کی عدم مطابقت کی نشاندہی کرتی ہے۔‘

ٹوئٹر کے ’ضرورت سے زیادہ پرجوش‘ ہونے کا حوالہ مئی کے ایک واقعے سے شروع ہوتا ہے جب سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ٹویٹس کو ’جوڑ توڑ میڈیا‘ کے طور پر فلیگ کیا تھا جن پر مبینہ طور پر حکومت کی کچھ شخصیات نے اعتراض کیا۔

بدھ کو ہی روی شنکر پرساد، جو بھارت کے وزیر انصاف بھی ہیں، نے کئی ٹویٹس میں کہا کہ ٹوئٹر کو نئے رہنما قوانین کی تعمیل کرنے کے لیے متعدد مواقع فراہم کیے گئے تھے لیکن اس نے ‘جان بوجھ کر عدم تعمیل کے راستے کا انتخاب کیا۔‘

انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں لکھا: ’بھارت کی ثقافت اس کے بڑے جغرافیہ کی طرح مختلف ہے۔ کچھ مخصوص صورت حال میں، سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی ایک چھوٹی سی چنگاری بھی بڑی آگ کا سبب بن سکتی ہے، خاص طور پر جعلی خبروں کی لعنت سے۔

’ثالثی رہنما قواعد لانے کا ایک مقصد یہ بھی تھا لیکن حیرت کی بات ہے کہ ٹوئٹر جو خود کو آزادی رائے کا علم بردار ظاہر کرتا ہے، نے جان بوجھ کر انحراف کا راستہ چنا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارتی وزیر نے خبردار کرتے ہوئے کہا: ’اگر کوئی غیر ملکی ادارہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی آزادی رائے کے علم بردار کی حیثیت کو بھارت کے قانون پر عمل درآمد نہ کرنے کے لیے بطور عذر پیش کرسکتا ہے تو یہاں ایسی کوششیں رائیگاں جائیں گی۔‘

ٹوئٹر نے منگل کو کہا تھا کہ وہ بھارت کے نئے قواعد و ضوابط کی تعمیل کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ نئے قواعد و ضوابط کے تحت اس نے بھارت میں ایک عبوری چیف کمپلائنس افسر مقرر کیا ہے جو جلد ہی حکومت کو درکار دوسرے اقدامات پر اپنی پیش رفت سے آگاہ کرے گا۔

ڈیجیٹل رائٹس کی متعدد تنظیموں نے پہلے ہی عدالتوں میں نئے رہنما اصولوں کو چیلنج کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ غیر آئینی ہیں۔

دریں اثنا جب کچھ مقامی میڈیا نے بتایا کہ نئے قانون کی تعمیل کرنے میں ناکامی پر ٹوئٹر اپنے ’ثالث‘ کا سٹیٹس کھو بیٹھا ہے۔

انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن‘ (آئی ایف ایف) نے اس طرح کے اقدامات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اپنی کئی ٹویٹس میں آئی ایف ایف نے وضاحت کی کہ ٹوئٹر کو مقدمے کی کارروائی سے حاصل استثنیٰ کو عدالتوں کے فیصلے کے علاوہ کسی اور طاقت کے ذریعے منسوخ نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ فوری طور پر کوئی سزا نہیں ہے۔

آئی ایف ایف نے ٹویٹ میں مزید کہا عدالتوں کی جانب سے ثبوتوں اور قانونی گزارشات کے تحت طے شدہ استثنیٰ کو عدم تعمیل کی شکایت پر فوری طور پر کوئی سزا نہیں دی جا سکتی۔

(اس رپورٹ کی تیاری میں ایجنسیز کی اضافی معاونت بھی شامل ہے۔)

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل