شہباز شریف کی تقریر مکمل، عدم اعتماد کی لٹکتی تلوار ہٹ گئی

حزب اختلاف کے مطابق تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ گذشتہ تین روز کے دوران قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ہنگامہ آرائی کے دوران سپیکر کے مبینہ یک طرفہ اور متنازع رویے اور اقدامات کی وجہ سے کیا گیا۔ 

(پی آئی ڈی)

پاکستان میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں بغیر کسی رکاوٹ کے بجٹ تقریر مکمل کی۔ 

شہباز شریف کی تقریر ختم ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی حزب اختلاف نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف داخل کی گئی عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس واپس لے لیا۔ 

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کامیاب معاہدے اور ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد واپس لینے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے سر پر سے تحریک اعتماد کی تلوار کا خطرہ ختم ہو گیا ہے۔ 

واضح رہے کہ حزب اختلاف کے مطابق تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ گذشتہ تین روز کے دوران قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ہنگامہ آرائی کے دوران سپیکر کے مبینہ یک طرفہ اور متنازع رویے اور اقدامات کی وجہ سے کیا گیا۔  

پاکستان مسلم لیگ کے رہنما رانا ثنا اللہ کا اس سلسلے میں کہنا تھا کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر ’ایوان کے نگران‘ (کسٹوڈین آف دا ہاوس) کا کردار ادا کرتے ہیں، اور انہیں ایوان کی صدارت کرتے ہوئے ہر صورت غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔   

انہوں نے کہا: ’سپیکر اسد قیصر ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں، اور اس لیے ایوان کا اعتماد کھو چکے ہیں۔‘  

معاملہ شروع کیسے ہوا؟  

پاکستان کی موجودہ پارلیمان میں حکومتی اور اپوزیشن بینچز کے درمیان خوشگوار تعلقات کم ہی دیکھنے میں آئے ہیں، جس کے لیے دونوں اطراف ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں۔  

موجودہ بحران کے شروع کرنے میں پہلا پتھر مارنے والوں کی نشاندہی تو مشکل ہے، تاہم اس کا آغاز اسی ہفتے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی بجٹ تقریر سے ہوا، جب دونوں طرف کے اراکین نے نہ صرف بجٹ کی کتابیں ایک دوسرے پر اچھالیں بلکہ گالم گلوچ بھی کی۔  

حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان اس ’لڑائی‘ کا سلسلہ دو روز تک جاری رہا، جس دوران  کم از کم دو اراکین اسمبلی (ملیکہ بخاری اور اکرم چیمہ) کتابیں اور بوتلیں لگنے سے زخمی بھی ہوئے۔  

سپکیر اس قیصر نے تحقیقات کرنے کے بعد تحریک انصاف، مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سات اراکین قومی اسمبلی کی ایوان میں داخلے پر پابندی لگا دی، جو جمعرات کے روز واپس لے لی گئی۔  

بدھ کے روز حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمیعت علما اسلام (فضل الرحمان) نے ایک اجلاس میں سپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔  

اجلاس میں اس سے قبل ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف داخل کی گئی عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔  

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے جمعرات (10 جون) حکومت نے ایوان میں کئی قانونی بل پیش کیے جو حزب اختلاف کے احتجاج اور شور و غوغا کے باوجود منظور کروا لیے گئے۔  

حزب اختلاف نے اس روز ایوان کی صدارت کرنے والے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس قومی اسمبلی سیکریٹیریٹ میں جمع کروا دیا تھا۔  

کیا تحریک کامیاب ہو سکتی تھی؟  

آئین پاکستان کے آرٹیکل 53(7)(c)کے تحت قومی اسمبلی کے سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کو ایوان کے کل اراکین کی اکثریت تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ ڈال کر ان کے عہدوں سے ہٹا سکتی ہے۔  

قومی اسمبلی کے رولز کے مطابق سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل ہونے کی صورت میں وہ تحریک پر حتمی فیصلے تک ایوان کی صدارت نہیں کر سکتے۔ 

اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا حزب اختلاف کی جماعتوں کے پاس قومی اسمبلی میں اتنی اکثریت حاصل ہے کہ سپیکر اسد قیصر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب کروا سکتے تھے؟  

صحافی مظہر عباس کا کہنا تھا: ’اپوزیشن نے نہایت ہی جذباتی انداز میں یہ فیصلہ کیا ہے، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔‘  

انہوں نے مزید کہا کہ حزب اختلاف کے پاس ایوان میں کافی تعداد میں اراکین کی اکثریت کی حمایت حاصل نہیں ہے اس لیے ان کی کامیابی ممکن ہی نہیں۔  

ان کا کہنا تھا کہ حذب اختلاف کو قومی اسمبلی میں اپنی حمایت کا اندازہ کرنے کے لیے پہلے ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد لانا چاہیے۔ ’انہیں اندازہ ہو جائے گا کہ صورت حال کیا ہے۔‘  

صحافی اور اینکر پرسن منیب فاروق کا اس سلسلے میں کہا تھا کہ یہ نمبر گیم ہے جس میں اپوزیشن کو اکثریت کا حاصل ہونا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ ’میرا نہیں خیال کہ اپوزیشن کی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو سکتی ہے۔‘  

قومی اسمبلی میں اراکین کی حمایت میں کمی کے باوجود حزب اختلاف کے رہنما پراعتماد نظر آرہے ہیں، اور اس سلسلے میں بدھ کو ہونے والے ایک اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔  

حزب اختلاف کے ایک ایم این اے کے مطابق اپوزیشن جماعتیں تحریک عدم اعتماد کی حمایت کے لیے ناراض حکومتی اراکین سے رابطے کرنے کا سوچ رہی ہیں۔  

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور متحوہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) سے رابطوں کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔  

تاہم اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ سپیکر اسد قیصر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیابی کے سو فیصد امکانات کے بغیر داخل نہیں کی جائے گی، کیونکہ ناکامی کی صورت میں اپوزیشن کی صفوں میں دراڑ پڑنے کا خطرہ ہے۔  

قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کی تعداد میں کم از کم 20 کا فرق ہے، جو حزب اختلاف کے لیے پورا کرنا مشکل نظر آتا ہے۔  

رانا ثنا اللہ سے جب قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی قوت سے متعلق دریافت کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتی ہے یا ناکام یہ زیادہ اہم نہیں ہے، کیونکہ حکومت کو ہمیشہ زیادہ اراکین کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔  

ان کے خیال میں: ’قومی اسمبلی کے سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا آنا ہی ثابت کرتا ہے کہ وہ اعتماد کھو بیٹھے ہیں۔‘  

مسلم لیگ نواز کے رینما کا کہنا تھا کہ سپیکر یا ڈپٹی سپیکر کے عہدے پر موجود افراد صرف دونوں اطراف کے اعتماد سے ہی چل سکتے ہیں، اور کسی ایک فریق کا اعتماد کھو دینے کی صورت میں انہیں اس عہدے پر رہنا ہی نہیں چاہیے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان