قومی اسمبلی: دنگل، گالی گلوچ اور سیٹیاں

قومی اسمبلی کے اجلاس میں آج شہباز شریف کی تنقید سے بھرپور تقریر نامکمل رہی، دوران تقریر حکومتی اراکین سیٹیاں بجاتے رہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بجٹ دستاویزات اُچھالی گئیں جو تحریک انصاف رکن اسمبلی ملیکہ بخاری کے چہرے کو زخمی کر گئیں۔

(ویڈیو سکرین گریب: شیزا فاطمہ، رکن قومی اسمبلی، مسلم لیگ نواز)

منگل کے روز ہونے والی قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی تنقید سے بھرپور تقریر نامکمل رہی، دوران تقریر حکومتی اراکین سیٹیاں بجاتے رہے جبکہ اپوزیشن اراکین کی جانب سے بجٹ دستاویزات اُچھالی گئیں جو تحریک انصاف کی رکن اسمبلی ملیکہ بخاری کے چہرے کو زخمی بھی کر گئیں۔

اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران تحریک انصاف کے رکن اسمبلی علی نواز اعوان کی ن لیگ کے اراکین  کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی اور بات انتہائی نازیبا الفاظ اور گالی گلوچ تک جا پہنچی۔

علی اعوان نے ن لیگ کے رکن روحیل اصغر پر کتابیں بھی پھینکیں۔ جس کا کچھ اراکین اسمبلی دفاع کرتے نظر آئے جبکہ کچھ نے اسے باعث شرم قرار دیا۔

وفاقی وزیر فواد چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اپوزیشن بھی حکومتی تقریر کے دوران شور کرتی رہی ہے اس لیے حکومتی اراکین ایسا کر رہے ہیں۔ مشاورت میں اپوزیشن اراکین کو کہا تھا کہ لکھ کر دیں کہ وہ حکومتی تقاریر کے وقت شور نہیں مچائیں گے تو حکومتی بینچوں سے بھی کوئی شور نہیں کرے گا لیکن اپوزیشن نے لکھ کر یقین دہانی نہیں کرائی۔‘

جبکہ تحریک انصاف کے ہی رکن اسمبلی رمیش کمار نے ایوان کے اندر ہونے والے ہنگامے کو باعث شرم قرار دیا۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 'شیم آن آل آف دس' سب اراکین کے لیے یہ شرم کی بات ہے کہ عوامی نمائندے اسمبلی کے اندر ایسا ماحول بنائیں چاہے کوئی بھی غلطی کرے یہ کہتے ہیں انہوں نے کیا تو ہم بھی کریں گے تو یہ پریکٹس کب تک چلے گی؟ اگر اپوزیشن نے کوئی غلط کام کیا ہے تو ہمیں بھی وہی غلطی دُہرانی چاہیے؟

اس دوران قومی اسمبلی کے اجلاس میں چار بار وقفے کیے گئے، دو نماز کے وقفے اور دو بار حالات قابو سے باہر ہونے پر وقفہ لینا پڑا۔

یہاں تک کہ قومی اسمبلی اجلاس میں شور شرابے اور اراکین کے مابین ہاتھاپائی کے خدشے کے تحت قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ نے سینٹ سیکرٹریٹ سے رابطہ کر کے مزید سیکیورٹی ایوان میں منگوا لی۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی دارخوست پرسینیٹ سیکرٹریٹ نے اضافی سارجنٹ ایٹ آرمز کی خدمات قومی اسمبلی کے سپرد کردیں۔

 اپوزیشن اور حکومتی اراکین ایک دوسرے کو کتابیں مارتے رہے جبکہ حکومتی اراکین سیٹیاں بھی لائے ہوئے تھے تاکہ مسلسل شور جاری رکھ سکیں۔

کتابیں اچھالنے کے عمل میں ایوان میں موجود سیکیورٹی سٹاف بھی زخمی ہوا۔ ایک حکومتی رکن نے شہبازشریف کی طرف بجٹ کتاب اچھال دی لیکن کتاب شہبازشریف کو نہیں لگی بلکہ شہبازشریف کے ڈائس پر گر پڑی۔

شہبازشریف کی تقریر جاری تھی کہ اس دوران حکومتی رکن فہیم خان اور لیگی رکن افتخار نذیر آپس میں الجھ پڑے۔ حکومتی اراکین نے شہباز شریف پر بجٹ دستاویزات کے کاغذ بھی پھاڑ کر پھینکے جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے برہمی کا اظہار کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیگی ارکان حکومتی ارکان کے احتجاج کی ویڈیو بنانے لگے تو سپیکر اسد قیصر نے ویڈیو بنانے والوں سے موبائل ضبط کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ ویڈیو نہ بنائیں لیکن اراکین وڈیو بنا بنا کر میڈیا کے ساتھ شئیر کرتے رہے اور سوشل میڈیا پر بھی لگاتے رہے۔ جبکہ کچھ لیگی ارکان نے شہبازشریف کے گرد حفاظتی حصار بنا لیا تاکہ اُن کو کوئی کتاب زخمی نہ کر سکے۔

اسی دوران سینئر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود ایوان میں شیریں مزاری اور زرتاج گُل کو بجٹ دستاویز سے ڈیسک بجانے کے طریقے سکھاتے رہے جبکہ وزیر خارجہ پاس کھڑے خاموش تماشائی بنے رہے۔

یہ سب ہنگامہ دیکھتے ہوئے سپیکر نے ایوان سے بجٹ دستاویزات نکلوا دیں۔ ایوان کے عملے نے قومی اسمبلی ہال کی صفائی کی اور تمام بھاری دستاویزات ہٹا دیں تاکہ اراکین ایک دوسرے کو کتابیں پھینک کر مزید زخمی نہ کر سکیں۔ ایوان کی مزید کارروائی بدھ کو چار بجے ہو گی اور اپوزیشن لیڈر اپنی تقریر مکمل کریں گے۔

لڑائی کیسے شروع ہوئی

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا کہ 'لڑائی درحقیقت علی گوہر بلوچ کے نعروں سے شروع ہوئی تھی۔ نون لیگ کے اراکین نے تمام پارلیمانی اقدار کو بالائےپشت ڈال کر ننگی گالیاں دیں اس پر نوجوان اراکین جذباتی ہو گئے اور یوں پھر بجٹ کی کتابیں پھینکنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔'

اس حوالے سے انہوں نے سوشل میڈیا پر ٹویٹ بھی کی۔

جبکہ دوسری جانب علی گوہر بلوچ نے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری جھوٹ کا سہارا لے رہے ہیں انہوں نے کہا کہ وہ صرف شہباز شریف کے ارد گرد کھڑے تھے تاکہ اُن کو بجٹ کتابوں کے حملوں سے مخفوظ رکھ سکیں۔ جبکہ شہباز شریف کی تقریر کے آغاز سے ہی حکومتی بینچوں سے طوفان بدتمیزی شروع ہو چکا تھا۔ انہوں نے کہا جو میرے نعروں والی وڈیو دکھائی جا رہی ہے وہ میں نے اختتام پر لگائے تھے'۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان