لاہور: ایک گھر سے 120 انتہائی لاغر اور بیمار بلیوں کا ریسکیو

گھر میں قائم شیلٹر کی حالت اتنی خراب تھی کہ ریسکیو ہونے والی بلیوں میں سے صرف 85 زندہ بچیں۔ مجسٹریٹ کا ساڑھے آٹھ ہزار روپے جرمانہ عائد کر کے بلیاں واپس شیلٹر کو دینے کا حکم۔

ریسکیو ہونے والی بلیوں کی فی الحال ایس پی سی اے میں دیکھ بھال کی جا رہی ہے (سکرین گریب)

کچھ دن قبل لاہور کے ایک گھر میں قائم شیلٹر سے انتہائی خراب حالت میں 120 بلیوں کو ریسکیو کیا گیا۔

ملتان چونگی وحدت روڈ کے قریب ’بے زبان‘ کے نام سے بلیوں کے لیے یہ شیلٹر یاسمین طاہر اور ان کے بھانجے فہد نے قائم کر رکھا ہے۔

’گڈ ڈاگز ایس اے گارڈنز‘ کے رضا کار اور ریسکیو آپریشن میں شامل خواجہ نعمان مقبول نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں مختلف ذرائع سے معلوم ہوا تھا کہ شیلٹر میں بلیوں کو انتہائی خراب حالات میں رکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ یونیورسٹی آف ویٹنری سائنسز میں قائم ادارہ برائے انسداد بے رحمی حیوانات (ایس پی سی اے) کی ٹیم کو ساتھ لے کر شیلٹر گئے۔

’ایس پی سی اے ایک واحد ادارہ ہے جس کے پاس قانونی حق ہے کہ اگر کہیں جانوروں پر ظلم ہو رہا ہے تو وہ چالان کریں اور متاثرہ جانور کو اٹھا کر ایس پی سی اے لے آئیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ادارہ جانور کے ساتھ ناروا سلوک رکھنے والے کو عدالت میں بھی پیش کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ریسکیو کے دوران پانچ بلیاں مری ہوئی تھیں، جن میں سے کچھ کی لاشیں کوڑے دان میں اور کچھ کی یوں ہی پڑی تھیں۔

’ایک لاش اتنی پرانی تھی کہ وہ زمین کے ساتھ چپک چکی تھی اور اسے ایک سٹیکر کی مانند زمین سے اتارنا پڑا۔ اس شیلٹر میں رہنے والی بلیاں انتہائی بری حالت میں تھیں۔‘

نعمان کے ساتھ کام کرنے والی ایک رضاکار نادیہ نے بتایا کہ انہوں نے جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کئی این جی اوز کو اس شیلٹر کے خلاف ملنے والی شکایات سے آگاہ کیا لیکن کسی نے کچھ نہیں کیا۔

انہوں نے بتایا کہ جب وہ اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ وہاں پہنچیں تو شیلٹر میں اس قدر بدبو اور گندگی تھی کہ وہاں کھڑا ہونا محال تھا۔

’جب ہم شیلٹر پہنچے تو اس کے مالک بوکھلا گئے۔ یہاں تک کہ انہوں نے 15 ریسکیو پر کال کر کے پولیس بلوا لی لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے ہم وہاں ایس پی سی اے ٹیم کے ساتھ پہنچے تھے۔‘ 

اس وقت 120 بلیوں میں سے 85 بلیاں بچ سکی ہیں جو ایس پی سی اے میں موجود ہیں۔

خواجہ نعمان نے دعویٰ کیا کہ شیلٹر لوگوں سے بلیوں کی دیکھ بھال کے نام پر عطیات وصول کر رہا تھا۔ ’جب شیلٹر پر کال آتی ہے کہ ہمارے پاس چار بلیاں ہیں اور ہم انہیں شیلٹر پر رکھوانا چاہتے ہیں تو شیلٹر والے ان سے بلیوں کے کھانے پینے اور میڈیکل کے نام پر عطیہ مانگتے ہیں۔‘

خواجہ نعمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر عطیات ٹھیک جگہ پر خرچ نہ ہوں تو پھر ایسی ہی صورتحال پیدا ہوتی ہے جیسی بے زبان شیلٹر پر پیدا ہوئی۔

مجسٹریٹ نے سو روپے فی بلی جرمانہ (کل ساڑھے آٹھ ہزار روپے) عائد کر کے بلیاں شیلٹر کی مالکن کو واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایس پی سی اے کے ڈاکٹرز نے بتایا کہ شیلٹر والے نئی جگہ لے رہے ہیں تب تک انہوں نے ہمیں بلیاں ایس پی سی اے میں رکھنے کا کہا ہے، جہاں ان بلیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس حوالے سے جب انڈپینڈنٹ اردو نے ’بے زبان‘ کی مالکن یاسمین طاہر سے رابطہ کیا تو انہوں نے بات کرنے سے صاف انکار کر دیا۔

البتہ ان کے بھانجے فہد نے بتایا کہ یاسمین کچھ عرصہ قبل ٹانگ ٹوٹ جانے کی وجہ سے بیمار ہیں اور اسی لیے وہ شیلٹر کا اس طرح خیال نہیں رکھ سکیں جس طرح وہ رکھا کرتی تھیں۔

فہد نے بتایا کہ ان کی خالہ نے اپنی ساری جمع پونجی اور زندگی ان بلیوں پر لگا دی۔

فہد نے عطیات کے حوالے سے سوال کے جواب میں واضح کیا کہ بے زبان شیلٹر ’کبھی کسی سے ڈونیشن نہیں لیتا اور اگر کبھی کسی نے کچھ دیا بھی تو وہ رقم کہاں خرچ ہوئی اس کی تمام رسیدیں ان کے پاس موجود ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بلیوں کو واپس لیں گے اور انہیں کسی نئی، بڑی اور بہتر جگہ منتقل کریں گے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا