کیا بیرون ملک جانے والے افراد کو دوبارہ کرونا ویکسین لگوانی پڑے گی؟

سعودی عرب سمیت دیگر ممالک نے بیرون ملک سے آنے والوں کے لیے ایسٹرا زینیکا یا فائزر کمپنی کی کرونا ویکسین لگوانے کی شرط عائد کر رکھی ہے، جس سے پہلے سے ویکسین لگوا چکے بیرون ملک سفر کرنے کے خواہش مند پاکستانی تذبذب میں ہیں۔

اسلام آباد کے ایک ویکسی نیشن سینٹر میں ایک خاتون ویکسین لگوا رہی ہیں (اے ایف پی فائل)

ملک میں کرونا (کورونا) وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی گذشتہ ہفتے قلت پیدا ہونے کی شکایات سامنے آئیں تو عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی، خاص طور پر وہ لوگ جنہیں ویکسین کی دوسری خوراک لگوانی تھی یا وہ جنہیں بیرون ملک سفر کرنا تھا۔

یاد رہے کہ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک نے بیرون ملک سے آنے والوں کے لیے ایسٹرا زینیکا یا فائزر کمپنی کی کرونا ویکسین لگوانے کی شرط عائد کر رکھی ہے۔ پاکستان میں بیرون ملک سفر کرنے والوں کو ایسٹرا زینیکا ویکسین لگائی جا رہی ہے جبکہ فائزر ویکسین صرف ان افراد کو لگائی جا رہی ہے جو مختلف بیماریوں کا شکار ہیں۔

پنجاب کے کرونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کے اہم رکن اور کنسلٹنٹ پلمونالوجسٹ ڈاکٹر جاوید حیات نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’یہ ایک بہت سیاسی مسئلہ ہے اور بیرون ملک سفر کرنے والوں کے لیے مسئلہ بن رہا ہے۔ اس حوالے سے حکومت کوشش کر رہی ہے کہ وہ ویکسینز جو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے منظور شدہ ہیں، انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی مانا جائے، ان میں چینی کمپنیوں کی بنائی گئی ویکسینز بھی ہیں اور یہ سب عالمی ادارہ صحت سے منظور شدہ ہیں۔‘

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے 15 جون کو اعلان کیا تھا کہ بیرون ملک جانے والے 40 سال سے کم عمر پاکستانیوں کو 16 جون سے ایکسپو سینٹر لاہور میں ایسٹرا زینیکا ویکسین لگانے کا آغاز ہو جائے گا۔

صوبائی وزیر نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ ’پنجاب کے پاس ویکسینز کی کوئی کمی نہیں، تمام اضلاع میں 16 لاکھ کرونا ویکسین کی خوراکیں تقسیم کی جا چکی ہیں اور صوبے بھر میں دو لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد کی ویکسی نیشن کی جارہی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’پنجاب میں ایسٹرا زینیکا کی 13 ہزار خوراکیں موجود ہیں جبکہ فائزر کی ویکسین صرف مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو ترجیحی بنیادوں پر لگائی جارہی ہے۔‘

اس موقع پر ڈاکٹر یاسمین راشد نے بتایا تھا کہ صوبے میں اب صرف اگلے تین روز کا سٹاک موجود ہے، لیکن اس کے بعد مختلف مراکز سے ویکسین نہ ملنے کی شکایات موصول ہونا شروع ہوگئیں، یہاں تک کہ گذشتہ ہفتے اور اتوار کو ایکسپو سینٹر لاہور کے باہر ایسٹرا زینیکا لگوانے والوں نے احتجاج بھی کیا، جبکہ اتوار کو پنجاب ویکسی نیشن سینٹرز بند کر دیے گئے تھے۔

چین سے کرونا ویکسین کی 15 لاکھ سے زائد خوراکیں اتوار کی رات خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچیں جبکہ یہ بھی کہا گیا کہ آئندہ 10 روز میں مزید 50 لاکھ خوراکیں پہنچ جائیں گی۔

ویکسین کی قلت کیوں ہوئی؟

اس سوال کے جواب میں پنجاب کرونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کے رکن ڈاکٹر جاوید حیات نے بتایا: ’ویکسین وافر تعداد میں موجود تھی، لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ حکومت نے 18 سال والوں کے لیے بھی ویکسی نیشن کا آغاز کردیا اور بھارت میں کرونا وائرس کے بگڑتے حالات دیکھ کر عوام یہاں خوف میں مبتلا ہوگئے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’ہم کب سے عوام پر زور دے رہے تھے کہ وہ ویکسین لگوا لیں لیکن کم لوگ آتے تھے۔ مگر پھر خوف کے مارے لوگوں نے ویکسی نیشن سینٹرز کا رخ کیا لیکن اب صورت حال جلد نارمل ہو جائے گی۔ عوام کو گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے کیونکہ ویکسین کی وافر تعداد اب موجود ہے اور مزید بھی آرہی ہے۔‘

ویکسین کی اس قلت کے سبب زیادہ پریشانی ان لوگوں کو ہوئی، جنہیں ویکسین کی دوسری خوراک لگوانی تھی، یا وہ جنہیں بیرون ملک جانے کے لیے ایسٹرا زینیکا لگوانی تھی۔

تاہم پیر (21 جون) کو ڈپٹی کمشنر لاہور مدثر ریاض نے ایک بیان میں کہا کہ ’ایسٹرا زینیکا ویکسین لگوانے کے خواہشمند افراد ابھی انتظار فرمائیں، جیسے ہی ایسٹرا زینیکا دستیاب ہوگی فوری طور پر انہیں اطلاع دے دی جائے گی۔‘

اس حوالے سے ڈاکٹر جاوید حیات نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ایسٹرا زینیکا اور فائزر بھی جون کے آخری ہفتے یا جولائی کے پہلے ہفتے میں پہنچ جائیں گی، اس لیے بیرون ملک جانے والوں کو انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔‘

دوسری جانب محکمہ صحت پنجاب کے ترجمان سید حماد رضا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا: ’پنجاب کو سائنو ویک کی مزید سات لاکھ خوراکیں موصول ہوگئی ہیں۔ اب ہمارے پاس ویکسین کا وافر سٹاک موجود ہے اور صوبے میں ویکسین کی کوئی قلت نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ بیشتر ممالک نے بیرون ملک سے آنے والوں کے لیے ایسٹرا زینیکا کی شرط عائد کی ہے لیکن یہاں تو ایسٹرا زینیکا موجود ہی نہیں تو اس پر ان کا کہنا تھا: ’یہ غلط بیان ہے۔ دنیا بھر میں تمام ویکسینز کو قبول کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی ایسٹرا زینیکا اور فائزر لگوانے کا صرف اس لیے کہہ رہے ہیں تاکہ انہیں بیرون ملک جا کر 15 دن قرنطینہ میں نہ رہنا پڑے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت ایسٹرا زینیکا کی خوراکیں بھی بھیج دے گی۔

دوسری جانب فیس بک پر ’کرونا ریکورڈ واریئرز‘ نامی ایک گروپ (جس کے ساڑھے تین لاکھ ممبر ہیں) پر بھی لوگوں نے ویکسین نہ ملنے کی شکایت کی۔ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں ویکسین کی دوسری خوراک لگوانی تھی اور کچھ وہ جنہیں ملک سے باہر جانے کے لیے ایسٹرا زینیکا لگوانی تھی مگر وہ انہیں کہیں دستیاب نہیں ہو رہی تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ کچھ صارفین اس حوالے سے بھی جاننا چاہ رہے تھے کہ اگر وہ ویکسین کی دونوں خوراکیں لے چکے ہیں تو کیا اب انہیں بیرون ملک جانے کے لیے ایسٹرا زینیکا ویکسین دوبارہ لگوانی پڑے گی؟ اور اس کا کیا ری ایکشن ہوسکتا ہے؟

بیرون ملک جانے والے افراد دوبارہ ویکسی نیشن کروا سکتے ہیں؟

اس حوالے سے ڈاکٹر جاوید حیات نے بتایا: ’ابھی جو ٹرائلز چل رہے وہ مکس کرکے چل رہے ہیں کہ اگر آپ نے پہلی خوراک ایسٹرازینیکا کی لگائی تو دوسری خوراک فائزر کی لگا دی۔ ابھی اس حوالے سے صرف تجربہ چل رہا ہے، اس کے حوالے سے ڈیٹا ابھی تیار نہیں ہوا۔ نظریاتی طور پر دیکھا جائے تو میرے خیال میں یہ ممکن ہے کہ ویکسین کی دو خوراکیں مکس کرکے لگا دی جائیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اگر کسی نے پہلے سے کسی ویکسین کی دونوں خوراکیں لے لی ہیں لیکن بیرون ملک جانے کے لیے کیا وہ دوبارہ ایسٹرا زینیکا یا فائزر کی ویکسین لگوائے؟ اس حوالے سے کچھ بھی کہنا بہت مشکل ہے کیونکہ ہمارے پاس اس حوالے سے فی الوقت کوئی ڈیٹا موجود نہیں ہے کہ دو بار ویکسی نیشن کروانے کا کوئی ری ایکشن ہوگا یا نہیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے بتایا: ’لیکن میرے خیال میں نظریاتی طور پر کوئی ری ایکشن ہونا تو نہیں چاہیے لیکن میں ڈیٹا کی غیر موجودگی میں کوئی تبصرہ نہیں کر سکتا۔‘

ڈاکٹر جاوید حیات کے مطابق لوگ یہی سوال لے کر ہمارے پاس بھی آ رہے ہیں لیکن انہیں کچھ بھی مشورہ دینا اس وقت مشکل ہے۔

’ہمارے پاس ڈیٹا ٹرائلز سے آتا ہے اور جب ویکسین کے ٹرائلز کیے گئے اس وقت ایسی کوئی شرائط نہیں تھیں اور نہ ہی حالات تھے کہ ایک ویکسین کو دوسرا ملک سفر کے لیے مسترد کر دے یا پھر ایسے حالات کے لیے تجربہ کیا جاتا کہ اگر کسی کو دو بار ویکسین لگائی جائے تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ ابھی کچھ لوگ اس حوالے سے تجربے کر رہے ہیں، دیکھتے ہیں کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، البتہ ہمارے ہاں حکومت کی جانب سے ابھی کوئی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی کہ جن کو ویکسین لگ چکی ہے انہیں دوسری ویکسین لگا دی جائے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’جو لوگ بیرون ملک سے فائزر لگوا کر آئے تھے اور اب دوسری خوراک یہاں سے لینا چاہ رہے ہیں ان کے بارے میں ہدایات آئی ہیں کہ انہیں ویکسین لگا دی جائے۔ اس کے علاوہ جو لوگ باہر جانا چاہ رہے ہیں اور انہوں نے پہلے کوئی ویکسین نہیں لگوائی وہ ایسٹرا زینیکا لگا کر چلے جائیں۔ جہاں تک سعودی عرب کی بات ہے تو انہوں نے غیرملکی افراد کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایک خوراک لگوا کر آجائیں تو دوسری خوراک سعودی عرب آکر لگوا سکتے ہیں۔‘

کرونا ویکسین کی دوسری خوراک اگر وقت پر نہ لی جائے تو کیا ہوگا؟

ڈاکٹر جاوید حیات نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’کرونا ویکسین کے حوالے سے پہلے جو تجربات / ٹرائلز ہوئے ان میں دونوں خوراکوں کے درمیان تین سے چار ہفتے کا وقفہ تھا۔ اب جو تجربات کیے گئے اور ان سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے مطابق کسی بھی کرونا ویکسین کی دوسری خوراک کو پہلی خوراک کے تین مہینے بعد تک لگوایا جاسکتا ہے۔ اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ویکسین کی پچھلے ہفتے جو قلت سامنے آئی وہ بہت محدود وقت کے لیے تھی لیکن اب وافر تعداد میں ویکسین آگئی ہے، اس لیے جنہوں نے دوسری خوراک لینی تھی انہیں آرام سے مل جائے گی۔ عوام دوسری خوراک کے لیے بالکل بھی نہ ڈریں کیونکہ اس کو لگوانے میں تین ماہ کی تاخیر کی جا سکتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ویکسین کی پہلی خوراک آپ کو وائرس کے خلاف قوت مدافعت دیتی ہے جبکہ دوسری خوراک ایک بوسٹر کے طور پر لگائی جاتی ہے۔ دوسری خوراک میں تاخیر کا صرف ایک نقصان ہوگا کہ آپ دوسری خوراک لینے تک پوری طرح وائرس کے خلاف قوت مدافعت پیدا نہیں کرپائیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی صحت