خواتین کا لباس: ’وزیراعظم غیرذمہ دارانہ بیان دے گئے‘

کئی خواتین نے اپنے تلخ تجربات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ریپ یا ہراسانی کا خواتین کے لباس سے یا ان کی عمر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

کئی مردوں نے بھی وزیراعظم کے انہیں  ’روبوٹ‘ کہنے کا مذاق  اڑایا اور خواتین کے متعلق بیان پر کافی برہمی کا اظہار کیا ہے(فائل فوٹو: اے ایف پی )

19 سالہ وانیہ پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا ہو۔ ہنستی کھیلتی گھر کی رونق، اچانک چند دنوں کے لیے خاموش ہی ہوگئی کیوں کہ ہر بار وہ کچھ کہتی تو لوگ اس سے پوچھتے تھے کہ ’اب کیسی ہو؟‘

 وہ کیا بتاتی لوگوں کو کہ اس کے دل و دماغ میں غصہ، ندامت، کراہت اور نہ جانے کون کون سے احساسات ابھر رہے تھے، مگر سب سے بڑھ کر اسے اس بات کی حیرانی تھی کہ ایک انتہائی ڈھیلے ڈھالے، کالے رنگ کے عبائے اور سر پر اوڑھے بڑے سے دوپٹے کے باوجود بھی وہ بائیک سوار کیسے، وانیہ کے اپنے گھر کے نیچے ہی اسے روک کر اس کا موبائل چھین کر، اس کا دوپٹہ سینے سے ہٹا کر اسے زبردستی ہاتھ لگا کر چلا گیا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے وانیہ نے کہا: ’جب میرے ساتھ یہ ہوا تو میں کیوں اچانک سکتے میں چلی گئی؟ میں نے کچھ کیوں نہیں کیا؟ میرے کپڑے تو اتنے ڈھیلے ڈھالے تھے مگر اس نے مجھے ہی کیوں ہاتھ لگایا؟ وہ مجھے اس وقت تک گھورتا رہا، جب تک وہ چلا نہیں گیا اور میں وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔‘

حال ہی میں امریکی ٹی وی چینل ایچ بی او کے پروگرام ’ایکسیوس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان کے خواتین کے لباس اور ہراسانی سے متعلق خیالات کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طویل بحث چھڑ گئی ہے۔

کئی خواتین نے اپنے تلخ تجربات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ریپ یا ہراسانی کا خواتین کے لباس سے یا ان کی عمر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

 ان کے علاوہ کئی مردوں نے بھی وزیراعظم کے انہیں ’روبوٹ‘ کہنے کا کافی مذاق اڑایا اور خواتین کے متعلق بیان پر کافی برہمی کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے کیا کہا تھا؟

 ایکسیوس کے میزبان جوناتھن سوان نے جب وزیراعظم عمران خان سے ان کے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے یہ پوچھا کہ ’کیا ان کے مطابق خواتین کا لباس مردوں کو ریپ کرنے کی ترغیب دیتا ہے؟‘ تو انہوں نے جواب دیا تھا: ’اگر خواتین مختصر کپڑے پہنیں گی تو مردوں پر اس کا اثر تو ہوگا، اگر وہ روبوٹ نہ ہوئے تو۔‘

یہاں روبوٹ سے مراد ایک ایڈوانس ٹیکنالوجی کی مشین ہے، جو انسان کی طرح ہو اور کمپیوٹر کی سی ذہانت رکھتی ہو مگر نہ تو اس کے سینے میں دل ہو اور نہ ہی کوئی احساسات۔ خاص طور پر ایسے احساسات جو خواتین کو مختصر کپڑے دیکھ کر ان کا ریپ یا انہیں ہراساں کرنے پر مجبور کریں، یعنی وزیراعظم کے بیان کے تناظر میں جو ایسے جذبات رکھتے ہیں وہ مرد ہیں اور جو نہیں رکھتے ان کا شمار روبوٹ میں ہوتا ہے۔

پاکستانی خواتین اور مرد کہتے ہیں: ’Absolutely not‘

وزیراعظم عمران خان کے خیالات سننے کے بعد ٹوئٹر پر طوبیٰ سید نے ایک ٹرینڈ شروع کیا، جس میں انہوں نے خواتین سے اپنے ان کپڑوں کی تصاویرشیئر کرنے کا کہا جو انہوں نے تب پہنے ہوئے تھے جب انہیں ہراساں کیا گیا، تاکہ یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ کیا ان کپڑوں کا شمار بھی وزیراعظم کے مطابق ’مختصر کپڑوں‘ میں ہوتا ہے، جن کی وجہ سے مرد خواتین کو ہراساں کرتے ہیں۔

طوبیٰ پیشے کے لحاظ سے ایک ڈینٹسٹ ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ کی سیکریٹری اطلاعات اورعوامی ورکرز پارٹی کی رکن بھی ہیں۔

ان کی ٹویٹ پر کئی خواتین نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کو بیان کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ریپ یا ہراسانی سے خواتین کے کپڑوں کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک صارف نے بنت کے ٹوئٹر ہینڈل کے ساتھ لکھا: ’میں چھ سال کی تھی، شلوار قمیص پہنی ہوئی تھی۔ میرے سر پر اور ارد گرد چادر لپٹی ہوئی تھی۔ میرے ہاتھوں میں قرآن تھا اور وہ میرے قرآن پڑھانے والے استاد تھے۔‘

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی مہرین کھوکھر نے بتایا کہ وہ چار سال کی تھیں جب انہیں پہلی بار ہراساں کیا گیا، اس وقت انہوں نے ٹراؤزر اور ٹاپ پہنا ہوا تھا۔ اگلی بار 28 سال کی عمر میں جب انہوں نے شلوار قمیص پہنی ہوئی تھی۔ اس کے بعد 31 سال کی عمر میں جب میں ڈھیلی سی لمبی ٹی شرٹ اور ڈھیلا پاجامہ پہنے ہوئی تھی اور شام میں چہل قدمی کر رہی تھی۔

26 سالہ رابعہ ایوب کہتی ہیں کہ وہ خانہ کعبہ کے صحن میں طواف کر رہی تھیں۔ ڈھیلا سا عبایا، سکارف اور کالا چشمہ پہنے ہوئی تھی، جب پیچھے سے ایک آدمی نے انہیں چٹکی سے نوچا۔ رابعہ کے پلٹنے پر وہ اپنی حرکت پر مسکرانے لگا۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ایک اور خاتون عائشہ شاہد نے بتایا: ’ایف ٹین کے ایک ریستوران کے باہر جہاں میں اپنے والدین کے ساتھ آئی ہوئی تھی اور فون پر بات کرنے کے لیے کونے میں کھڑی ہوئی تھی۔ ایک گاڑی میں موجود کچھ مردوں نے مجھ پر انتہائی نازیبا جملے کسے، جب کہ میں ڈھیلی ڈھالی شلوار قمیص اور بڑی شال پہنے ہوئی تھی۔‘

طوبیٰ کی ٹویٹ پر کچھ مردوں نے بھی وزیراعظم کے بیان پر افسوس کا اظہار کیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ ریپ یا ہراسانی کا کپڑوں سے نہیں بلکہ مردوں کی ذہنیت سے تعلق ہوتا ہے۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے محمد عباس نقوی نے لکھا: ’پانچ سے چھ سال پہلے، میں پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر رہا تھا۔ میں ڈرائیور کی پٹائی لگانے والا تھا جب میں نے دیکھا کہ وہ ایک معصوم کالج کی لڑکی، جس نے سفید شلوار قمیص اور دوپٹہ پہنا ہوا تھا، کو ہراساں کر رہا تھا۔ یہ دیکھ کر میں نے سوچھا کہ ان خواتین پر کیا گزرتی ہوگی جو روز اس طرح سفر کرتی ہیں۔‘

دیگر مرد و خواتین کا اس حوالے سے کیا کہنا ہے؟

پاکستانی صحافی جویریہ صدیق نے زندگی میں پہلی بار اپنے ساتھ ہونے والی ہراسانی کا ذکر کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’میری عادت ہے کہ میرا لباس ہمیشہ مکمل ہوتا ہے۔ سردیوں کے دن تھے۔ میں نے لمبی قمیص شلوار، لمبی چادر جو کہ میرے پیروں تک جا رہی تھی، بند جوتے، سر پر دوپٹہ پہنا ہوا تھا۔ میں کپڑوں کے ایک بہت بڑے برانڈ کی دکان میں شاپنگ کر رہی تھی۔ میرے ہاتھ میں کئی ہینگرز تھے۔ اس دکان کے ایک ورکر نے مجھے انتہائی نامناسب طریقے سے چھوا اور کہنے لگا کہ غلطی سے ہوا ہے۔‘

جویریہ نے مزید بتایا کہ انہیں اس دکان دار کہ اس حرکت کے بعد ’انتہائی شرمندگی، غصے اور تکلیف کا احساس ہوا۔‘ اس لیے بھی کیوں کہ ان کے ساتھ چھوٹی چھوٹی بھانجیاں موجود تھیں۔ جویریہ کہتی ہیں: ’میں نے زندگی میں کبھی کسی کو نہیں مارا، لیکن اس کی حرکت نے مجھے مجبور کیا کہ اس کی ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی! میرے ہاتھ میں کئی لکڑی کے ہینگر تھے، میں نے اسے لکڑی کے ہینگر سے مارا۔ میں دوبارہ اس سٹور میں کبھی نہیں گئی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا: ’میں اس وقت 27 سال کی، شادی شدہ اور ورکنگ ویمن تھی۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ اس طرح ہاتھ لگانے سے انہیں کون سی تسکین ملتی ہے۔ وہاں کھڑے ہو کر میں اسے کوئی دعوت تو نہیں دے رہی تھی ناں، میں تو کپڑے خرید رہی تھی اور مکمل طور پر ڈھکے ہوئے لباس میں تھی۔‘

اسی طرح کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر اپنے ساتھ مختلف عمر میں پیش آنے والے واقعات کو یاد کرتے ہوئے بتایا: ’میں جب 11 سال کی تھی تو گھر پر مولوی صاحب قرآن پڑھانے آتے تھے۔ میں ہمیشہ شلوار قمیص پہن کر اور سکارف پہن کر بیٹھتی تھی۔ وہ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر مجھے سبق یاد کرواتے تھے اور کچھ سمجھانے کے بہانے میرے قریب آجاتے تھے۔ وہ میرے گھر والوں سے نظریں بچاتے ہوئے، میری ٹانگوں کے بیچ میں اپنا ہاتھ لے جایا کرتے تھے اور بار بار میرے سینے کو چھوتے تھے۔ میں امی اور ابو کو بتانے سے ڈرتی تھی لیکن جس دن میری چھوٹی بہن نے بھی ان سے پڑھنا شروع کیا، میں برداشت نہیں کرسکتی تھی کہ میری بہن کے ساتھ بھی ایسا ہو تو اس دن میں نے اپنے والدین کو سب کچھ بتا دیا۔‘

اس حوالے سے ہم نے سندھ ہائی کورٹ کے وکیل بیرسٹر علی طاہر سے بات کی تاکہ یہ جانا جا سکے کہ مردوں کی اس معاملے پر کیا رائے ہے؟ جس پر ان کا کہنا تھا: ’اس انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان ایک غیر ذمہ دارانہ بیان دے گئے۔ وزیراعظم کو بین الااقوامی میڈیا پر بیٹھ کر خواتین کے کپڑوں پر تبصرہ نہیں کرنا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ وزیراعظم کو انٹرویو میں اتنا کیژول (آرام دہ) بھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان کے پاس لازمی گفتگو کے پوائنٹس ہونے چاہیے تھے جو کہ پاکستانی حکومت کے بیانیے اور ہماری بین لااقوامی پالیسی کی بہترعکاسی کرتے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل