افغانستان: ’طالبان کی پیش قدمی کابل پردباؤ ڈالنےکی کوشش‘

افغانستان کے معاملات پر ںظر رکھنے والے تجزیہ کار پروفیسر ڈاکٹر فضل رحیم مروت کا کہنا ہے کہ طالبان چاہتے ہیں صوبوں کے دارالحکومت کو دیہات سے کاٹ دیا جائے، تاکہ کابل پر دباؤ بڑھایا جائے۔

24 مئی کی اس تصویر میں افغان سکیورٹی فورسز لغمان صوبے میں ایک آپریشن کے دوران (اے ایف پی)

دہائیوں سے خانہ جنگی کے شکار افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا اب ناگزیر ہے تاہم کئی ہفتوں سے ملک کے مختلف علاقوں میں لڑائی کی خبریں آرہی ہیں۔

طالبان کی طرف سے جاری ایک حالیہ ویڈیو میں ایک طالب افغان فورسز کو ہتھیار ڈالنے کا کہہ رہا ہے، تاہم اس میں یہ واضح  نہیں کہ یہ افغانستان کا کونسا علاقہ ہے۔ اسی طرح چند تصاویر سامنے آئی ہیں، جن میں افغان شہریوں کو اسلحہ اٹھائے دیکھا جاسکتا ہے، جن کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے مقابلے میں افغان فورسز کی مدد کریں گے۔ 

ان حالات میں افغان صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ امریکہ کے دورے پر ہیں، جہاں وہ امریکی صدر جو بائیڈن سے افغانستان کی صورت حال اور امن کے عمل کے بارے میں بات کریں گے۔ 

افغان صدر اشرف غنی کا دورہ امریکہ کے دوران ایجنڈا کیا ہے؟ وہ امریکی صدر سے کن معاملات پر بات کریں گے؟ اس سلسلے میں جب ہم نے کابل میں مقیم سینیئر تجزیہ کار نجیب اللہ آزاد سے جاننا چاہا تو انہوں نے بتایا کہ افغان صدر تین اہم امور پر بات کریں گے۔ 

نجیب اللہ آزاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ افغان حکومت کے پہلے ایجنڈے میں افغان فورسز کی لاجسٹک سپورٹ انخلا کے بعد بھی جاری رکھنا شامل ہے۔ دوسرا وہ حکومت کی منتقلی کو انتخابات کے ذریعے کرانے پر زور دیں گے۔ 

نجیب آزاد نے بتایا کہ اس دورے کے دوران افغان صدر کا تیسرا اور اہم نقطہ پاکستان کے حوالے سے ہے۔ ان کے بقول اشرف غنی یہ مطالبہ کریں گے کہ پاکستان افغانستان کے امن کے عمل میں اہمیت کا حامل ہے اور وہ اہم کردار ادا کرسکتا ہے، جس کے لیے وہ امریکہ کی طرف سے دباؤ بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ 

انہوں نے بتایا کہ امریکہ کی طرف سے  یہ موقف سامنے آسکتا ہے کہ افغانستان میں عالمی حمایت سے ایک ایسی حکومت آجائے جس میں افغان حکومت اور طالبان کی رضامندی ہو اور اس میں تمام دھڑے شامل ہوں۔ 

نجیب آزاد سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں، جس طرح لوگوں کو بتایا جاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے 380 اضلاع ہیں، جن میں صرف 37 پر طالبان قابض ہیں۔ ان میں بھی سے کچھ کو افغان فورسز نے چھڑا لیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ وہ اضلاع ہیں جن پر گذشتہ 18سالوں سے قبضے کی جنگ چل رہی ہے۔ 

انہوں نے  بتایا کہ رہی بات افغان فورسز کی تربیت اور طاقت کی تو وہ اس وقت ہر طرح کے حالات کا سامنے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ گذشتہ 20 سالوں سے دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ 

نجیب کے بقول: ’افغان فورسز کے پاس اسلحہ کافی تعداد میں ہے۔ اگر کسی صورت حال میں جنگ شروع ہو جائے تو طالبان 24 گھنٹے لڑتے رہیں تو یہ دو سال تک لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘ 

وہ مزید کہتے ہیں کہ افغانستان فورسز کو نیٹو اور امریکن فورسز کی طرف سے لاجسٹک مدد مل رہی ہے، جس کے لیے 2007، 2014 اور2016 میں معاہدات ہوئے تھے اور جس کے تحت اسلحہ انہیں مل رہا ہے۔ 

نجیب کے مطابق: ’افغانستان کے  بلوچستان سے متصل بڑے علاقوں جیسے قندھار، زابل اور ہلمند  میں کچھ علاقوں میں لڑائی ہو رہی ہے، لیکن یہ انتہائی محدود پیمانے پر ہے۔ شہر طالبان سے محفوظ ہیں۔‘ 

انہوں نے کہا کہ اس تمام صورت حال کے حوالے سے مہینے دو مہینے میں کوئی قابل قبول لائحہ عملے سامنے آنے کا امکان ہے۔ 

افغانستان میں بگڑتے حالات پر سب کو تشویش ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس میں پاکستان سمیت دوسرے ممالک میں بیٹھے لوگوں کو بھی پریشانی ہے، لیکن وہ سب اس کو پرانے آئینے میں دیکھ رہے ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغانستان کے معاملات پر ںظر رکھنے والے باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کے سابق وائس چانسلر اور تجزیہ کار پروفیسر ڈاکٹر فضل رحیم مروت سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے حالات کو سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی اور حال دونوں کو دیکھنا ہوگا۔ 

انہوں نے کہا کہ روس کے افغانستان سے نکلنے کے دور کی کتابوں میں لکھا ہے کہ یہاں کے بعض حکام نے دعویٰ کیا کہ افغانستان کو ہم نے فتح کر لیا۔ ’مجاہدین اور مہاجرین بھی خوش ہوکر کہتے تھے کہ ہم نے روس کو شکست دے کر نکال بھگا دیا۔ گلبندین حکمت یار سمیت دوسروں کے بیانات ہیں جو ریکارڈ پر ہیں کہ انہوں نے بعد میں یہ کہنا شروع کیا کہ وہ بخارا سمرقند تک اپنا جھنڈا لہرائیں گے۔‘ 

’اس کو بدقسمتی کہیں یا خوش قمستی کے افغانستان سے نکلنےکے بعد روس خود کئیں حصوں میں تقسیم ہوکر ٹوٹ گیا جس کی وجہ افغانستان نہیں تھی۔ اس کا ڈھانچا اندر سے کھوکھلا ہوکر ختم ہوگیا۔ اس وقت کی صورت حال کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔‘ 

ڈاکٹر فضل کہتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں بھی لوگ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ شکست خوردہ ہوکر افغانستان سے نکل رہا ہے۔ لیکن اگر ہم دیکھیں تو وہ اپنی مرضی سے جارہا ہے۔ ’جب برطانیہ یہاں سے نکل رہا تھا تو اس کو ہم نے باہر نکالا تھا یا وہ خود گیا تھا؟‘ 

 ان کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ بات سامنے آرہی ہے کہ امریکہ کے نکلنے کے بعد خلا ہے۔ یہ صرف فورسز کی وجہ سے نہیں ہے۔ ’امریکی فورسز افغانستان میں بون کانفرنس میں ہونے والے فیصلےکے بعد آئی تھیں، جس کو یو این کونسل کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس کے ساتھ نیٹو فورسز اور دیگر اتحادی بھی اس کے ہمراہ تھے۔‘ 

وہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں جنگ کے علاوہ امریکی فورسز نے تعمیر و ترقی میں بھی حصہ لیا، جس میں ایران، پاکستان، بھارت کو بھی حصہ ملا۔ ’اب صورت حال یہ ہے کہ افغانستان کے ہر پتھر کے پیچھے پاکستان کو بھارت کا چہرہ نظر آتا ہے۔ اسی طرح ایران کو بھی کسی کا چہرہ نظر آتا ہے۔‘

ڈاکٹر فضل کے مطابق: ’کافی لوگوں کا خیال ہے کہ جب امریکی فورسز یہاں سے نکل جائیں گی تو طالبان افغانستان کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گے، لیکن ان لوگوں کو افغانستان کے جغرافیہ کے حوالے سے معلومات ہی نہیں ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں طالبان کی کوشش ہے کہ انہوں نے جس طرح پچھلے دنوں شیر خان بندر پر قبضہ کرلیا اور تاجکستان کو ملانے والے پل پر کنٹرول حاصل کرلیا۔ اسی طرح وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح صوبوں کے دارالحکومت کو دیہات سے کاٹ دیا جائے۔ تاکہ اس کے ذریعے وہ کابل پر دباؤ بڑھائیں۔‘ 

دوحہ معاہدہ  

ڈاکٹر فضل رحیم سمجھتے ہیں کہ حالات کی خرابی میں امریکہ کی طرف  سے طالبان کے ساتھ ہونےوالا معاہدہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ جس طرح بلوچ اور پشتون قبائل میں کسی لڑائی کو بند کرانے اور صلح کرانے کے لیے پہلے جنگ بندی کراتےہ یں۔ پھر اس کے بعد باقی معاہدے ہوتے ہیں، مگر دوحہ  معاہدے میں جنگ بندی شامل نہیں تھی۔

دوسری جانب امریکہ نے طالبان کو تسلیم کیا لیکن معاہدے میں افغان حکومت کو شامل نہیں کیا گیا جس سے طالبان کو تقویت ملی اور وہ سمجھنے لگے کہ وہ سب کچھ حاصل کرسکتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ اگر طالبان اب طاقت کے زور پر کابل پر قبضہ کرلیں تو یہ الگ بات ہے۔ اگر ان کو کوئی دھکا دے دے، جس طرح کسی دور میں افغانستان کو پانچواں صوبہ قرار دینے کی باتیں ہوئی لیکن وہ تجربہ ناکام ہوگیا۔‘

انہوں نے کہا: ’اب پاکستان کو چاہیے کہ وہ غیر جانبدار رہے۔ وہ کہتا ہے مگر ہے نہیں۔ اسی طرح  یہ حقیقت ہے کہ ایران اور بہت سے ممالک بھی نہیں۔‘ 

روسی اور امریکی فوجی انخلا میں فرق 

ڈاکٹر فضل رحیم مروت کہتے ہیں کہ جہاں تک بات روسی فوج اور موجودہ امریکہ فوجیوں کے انخلا کی بات ہے، تو ان میں مماثلت ہے اور نہیں بھی ہے۔ 

 انہوں نے کہا: ’میرے حساب سے ڈاکٹر نجیب منتخب نمائندے نہیں تھے بلکہ وہ کسی اور طریقے سے منتخب ہوکر آئے تھے۔ خلق ڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر نے ملک کر انہیں منتخب کیا تھا، جب کہ موجودہ افغان صدر اشرف غنی تو باقاعدہ انتخابات کے نیتجے میں منتخب ہوئے ہیں۔‘  

وہ مزید کہتے ہیں کہ طالبان کو چاہیے کہ وہ افغانستان کے آئین اور جھںڈے کو تسلیم کرکے انتخابات کی طرف جائیں اور لوگوں سے ووٹ حاصل کریں پھر اگر ان کو لوگ منتخب کرتے ہیں تو حکومت کریں۔ 

طالبان کی طاقت 

ڈاکٹر فضل رحیم کے بقول:’ یہ حقیقت ہے کہ طالبان اکیلے نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ مدرسے ہیں، جو پاکستان میں ہیں اورچندہ جمع کرکے ان کو بھیجتے ہیں۔ لوگ بھرتی کرتے ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق  اندرونی اور بیرونی مدرسوں کو ساتھ ملا کر طالبان کے ساتھ 50 لاکھ لوگ شامل ہیں۔ اس کے باوجود کہ افغانستان اور پاکستان میں اکثر مدرسے ان کے ساتھ نہیں ہیں۔‘

 ان کہنا تھا کہ ’50 لاکھ لوگ اگر جنگجو نہ بھی ہوں تو بڑی طاقت ہے۔ اس کے ساتھ افغانستان کے معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی کی جارہی ہے، جس میں حالیہ دنوں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رہنما عثمان کاکڑ کا واقعہ بھی شامل ہے۔‘

انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ امن عمل میں کردار ادا کرے۔

افغان صدارتی وفد کا دورہ امریکہ  

افغان صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ اپنا کیس پیش کرنے امریکی صدر جو بائیڈن کے پاس گئے ہیں۔ ڈاکٹر فضل کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس کے لیے اچھی تیاری ہے کہ وہ امریکہ کو اصل خطرے سے آگاہ کرکے قائل کریں۔ دوسری طرف اگر طالبان معاہدے پر عمل نہیں کررہے تو امکان ہے کہ امریکہ افغانستان کے معاملے پر بھی یوٹرن لے سکتا ہے۔  

ان کے بقول یہ بات واضح  ہےکہ سابقہ ادوار کی نسبت امریکہ کے پاس افغانستان کے حوالے سے بہت سے معلومات اور علاقوں کے نقشے میسر ہیں۔  

انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا مسئلہ کابل حکومت میں یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ بعض لوگ جو اقتدار میں ہیں وہ تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوں گے کیونکہ کہ کوئی بھی ایسا نہیں جو سیاسی قوت سے دستبردار ہوجائے۔ 

انہوں نے کہا کہ ’میری تجویز ہے کہ صورت حال کےحوالے سے افغانستان میں لویہ جرگہ بلایا جائے جو فیصلہ کرے کہ انتخابات کرانے ہیں یا کسی اور طریقے سے اس مسئلے سے نمٹا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی بھی قوت یا گروہ افغانستان کو بندوق کے زور پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، تو اس کی حمایت یا مدد کسی  کو بھی نہیں کرنی چاہیے۔‘ 

طالبان کی عوامی حمایت میں کمی 

فضل رحیم مروت بھی سمجھتے ہیں کہ اس بار صورتح ال طالبان کے لیے اس وجہ سے بھی  مختلف ہے کہ سابقہ ادوار میں جب یہ مجاہدین بن کر آئے تھے تو انہوں نے لوگوں کو کہا تھا کہ ہم انہیں بندوق برداروں سے نجات دلانے آئے ہیں۔  

’لیکن ہم نے دیکھا کہ جب انہوں نے کابل پر قبضہ کر لیا تو انہوں نے لوگوں کو بےدردی سے قتل کرنا شروع کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار افغان عوام کی حمایت ان کے حق میں سابقہ ادوار کے مقابلےمیں بہت کم ہے۔‘

پاکستان کا سرکاری موقف

دوسری جانب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر افغان طالبان حکومت پر قابض ہوئے تو پاکستان ان کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کرے گا مگر اپنی سرحد ضرور بند کردے گا۔

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ طالبان کے فوجی کارروائی کے ذریعے افغانستان پر قابض ہونے کی صورت میں ہونے والی خانہ جنگی افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی نقصان دہ ہوگی۔

 وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں اور نائن الیون کے بعد بھی اس نے امریکی کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ ’اب جب امریکہ افغانستان سے جا رہا ہے تو پاکستان امریکہ کے ساتھ مہذب تعلقات چاہتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ ایسے ہی تعلقات چاہتا ہے جیسے امریکہ اور برطانیہ کے ہیں، یا امریکہ اور بھارت کے جو برابری کے تعلقات ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں توازن نہیں رہا کیونکہ امریکہ پاکستان کو امداد فراہم کرتا رہا ہے اور اسے لگتا رہا ہے کہ اس وجہ سے پاکستان کو اس کا کہا ماننا ہوگا، اور اس طرح امریکہ پاکستان سے ڈو مو کہتا رہا اور ماضی کی حکومتیں اپنی صلاحیت سے زیادہ کرتی رہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا