عثمان کاکڑ کی موت: بلوچستان حکومت کا جوڈیشل تحقیقات کا فیصلہ  

محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے رجسٹرار بلوچستان ہائی کورٹ کو جاری کیے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا کہ ’سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ ان کی موت غیر طبعی طریقے سے ہوئی، جس کی انکوائری ہونی چاہیے۔‘

سینیٹر عثمان کاکڑ کا انتقال  21 جون کو کراچی کے ایک ہسپتال میں ہوا ( تصویر: پشتونخوا ملی عوامی پارٹی آفیشل پیج)

بلوچستان حکومت نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی موت کے معاملے پر جوڈیشل تحقیقات کا فیصلہ کرلیا ہے۔ 

محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے رجسٹرار بلوچستان ہائی کورٹ کو جاری کیے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا کہ ’سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کے خاندان کا دعویٰ ہے کہ ان کی موت غیر طبعی طریقے سے ہوئی، جس کی انکوائری ہونی چاہیے۔‘

مراسلے میں مزید کہا گیا کہ کیس کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے بلوچستان حکومت چاہتی ہے کہ بلوچستان ٹریبونلز انکوائری آرڈیننس 1969 کے سب سیکشن ون اور سیکشن تھری کے تحت جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔ 

 مراسلے میں جوڈیشل کمیشن کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس ظہیر الدین کاکڑ کے نام تجویز کیے گیے ہیں، جن کے حوالےسے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ 

 پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنما عثمان کاکڑ 17 جون کو کوئٹہ میں واقع اپنے گھر میں زخمی ہوگئے تھے، جنہیں ابتدائی طبی امداد کے لیے ایک نجی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پر ڈاکٹروں نے برین ہیمرج تشخیص کیا اور بعدازاں ان کی سرجری کی گئی۔ 

سرجری کے بعد بھی ان کی طبیعت میں بہتری نہ آسکی اور 19 جون کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت پر سندھ حکومت کی جانب سے ایئر ایمبولینس بھیج کر انہیں کراچی میں آغا خان ہسپتال لے جایا گیا، جہاں دو دن علاج کے بعد وہ 21 جون کو چل بسے۔ 

جماعت کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے ان کی تدفین کے موقع پر کہا تھا کہ ’عثمان کی موت کسی بیماری یا حادثے کا نتیجہ نہیں۔ اس حوالے سے ان کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ ان کی موت طبعی طریقے سے نہیں ہوئی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا تھا کہ اگر کسی  ادارے نے اس حوالے سے تحقیقات کے لیے رابطہ کیا تو وہ یہ ثبوت ان کو فراہم کرسکتے ہیں۔ 

اس سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے مسلم باغ میں عثمان کاکڑ کی رہائش گاہ پر ان کے بیٹے خوشحال خان کاکڑ اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی سے تعزیت کرتے ہوئے انہیں تمام معاملے کی شفاف تحقیقات کروانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

سینیٹر عثمان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کے معاملے پر چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھی 25 جون کو وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کو مراسلہ بھیجا ہے، جس میں کہا گیا کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر شفیق ترین نے سینیٹر عثمان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

 مراسلے کے مطابق اپوزیشن لیڈر یوسف رضا گیلانی اور قائد ایوان شہزاد وسیم نے بھی تحقیقات کے مطالبے کی حمایت کی۔ قائد ایوان نے سینیٹ میں کہا کہ وفاقی حکومت کو بھی انکوائری پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ 

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی وفد کے ہمراہ عثمان کاکڑ کی رہائش گاہ گئے اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’عثمان خان کاکڑ کی موت سے جو خلا پیدا ہوا، اسے پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔ ان کی طرز سیاست ہم سب کے لیے مشعل راہ  رہے گی۔‘

عثمان کاکڑ 2015 سے لے کر اپنی وفات تک سینیٹر کے عہدے پر فائز رہے۔

  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان