اچکزئی صاحب نے اردو کو ناراض ہی کر دیا، چلیے مناتے ہیں

اچکزئی صاحب کے لیے اردو کی وہی حیثیت ہے جو قائد اعظم کے لیے انگریزی زبان کی تھی۔

قائد  اعظم  اپنی بات کا ابلاغ انگریزی میں ہی کر سکتے تھے اورمحمود  اچکزئی اردو میں ہی کر سکتے ہیں (اے ایف پی)

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اپنے ایک خطاب میں کہا، ’ہم اس ملک میں سرائیکی، پشتو، ہندکو، سندھی بلوچی جیسی سب زبانوں کا احترام چاہتے ہیں۔ اردو زبان یہاں قوموں کے بیچ رابطے کی زبان ہے، ہماری زبان نہیں ہے۔‘

یہ بات ان لوگوں پر بجا طور پر ناگوار گزری جن کی مادری زبان اردو ہے۔ رد عمل سے یہ اندازہ ہوا کہ اردو بولنے والوں نے اچکزئی صاحب کی بات کو اردو زبان کا سیدھے سبھاؤ انکار سمجھ لیا ہے۔ کہا گیا، ’اگر اردو ہماری زبان نہیں تو پھر ہماری زبان کیا ہے اور ہمارے بچوں کی مادری زبان کیا ہے؟‘

اچکزئی صاحب کے جملے میں ’ہماری‘ کو اگر ’میری‘ کر کے دیکھ لیا جاتا تو شاید یہ سوال پیدا نہ ہوتا۔ لیکن سوال اگر پیدا ہو گیا ہے تو اس میں برائی بھی کیا ہے۔ مکالمہ ہی تو ہو رہا ہے۔

اس بات سے کون ذی شعور انکار کرسکتا ہے کہ مادری زبان وہی ہوتی ہے جس میں بچہ جنم لیتا ہے۔ یہ کسی ریاست کا جبر نہیں ہوتا، فطرت کا جبر ہوتا ہے۔ فطرت کے جبر سے فرار ممکن ہے، نہ انکار ممکن ہے۔ اردو زبان تو اس لیے بھی ایک زندہ حقیقت ہے کہ اس کے بولنے والے ساتوں بر اعظموں پر موجود ہیں۔ زمین نامی سیارے پر جا بجا اس زبان کے قصبے اور قریے آباد ہیں۔

برصغیر کی پوری علمی اور ادبی میراث اس زبان نے سنبھال کر رکھی ہے۔ اس قدر زندہ حقیقت اپنے ثبوت کے لیے کسی دلیل کی ضرورت رکھتی ہے اور نہ کسی گواہ کی محتاج ہوتی ہے۔ محمود خان اچکزئی جیسے رہنماؤں کے کہے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اردو بولنے والوں کے علاوہ باقیوں کی اپنی اور پہلی زبان پشتو، سرائیکی، شینا، براہوی، بلوچی، بروشسکی، پنجابی اور سندھی ہے۔

اس کے بعد اردو کی باری آتی ہے اور اس کی بنیادی وجہ رابطہ کاری ہے۔ رابطہ کاری والی بات کو بھی یہاں کوئی ریاستی تجویز پر حقیقت تسلیم نہیں کرتا۔ زمینی اور معاشرتی حقائق کی وجہ سے تسلیم کرتا ہے۔

محمود خان اچکزئی نے جو بات کہی، اس کا تعلق اردو زبان کے خلاف پیدا ہونے والی اس بحث سے نہیں جو تقسیم سے بہت پہلے ہندوستان میں پیدا ہو چکی تھی۔ اس کا تعلق اس سیاسی آلودگی سے ہے جو تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان میں پیدا ہوئی۔ اس کی بنیاد تب پڑی جب قائد اعظم محمد علی جناح نے 1948 میں بنگلہ دیش کے ریس کورس میدان میں زور دیتے ہوئے کہا، ’اردو ہماری سرکاری زبان ہو گی۔‘

قائد کی گفتگو ابھی جاری تھی کی بنگال کے نوجوان کھڑے ہوئے اور قائد کی بات سے اختلاف کیا۔ ان نوجوانوں کو اردو سے نفرت نہیں تھی، بنگلہ زبان سے محبت تھی۔ وہ کسی کی زبان سے انکار نہیں کر رہے تھے، اپنی زبان کے لیے اصرار کر رہے تھے۔ اس مارا ماری میں اگر کبھی کوئی ٹھیک فقرہ نہیں کہہ پائے تو یہ ایسی کوئی بات نہیں کہ اسے بنیادی تنازع ہی بنا لیا جائے۔  

اچکزئی صاحب کے روا روی میں کہے گئے فقرے پر جو ردعمل آیا اس میں ایک دلچسپ جملہ آپ نے سنا اور پڑھا ہو گا۔ کہا گیا، ’محمود خان اچکزئی نے کہا، اردو ہماری زبان نہیں ہے، یہ بات بھی انہوں نے اردو زبان میں کہی‘۔

آپ کو یقیناً پتہ ہوگا کہ یہ جملہ دراصل پہلی بار کب، کہاں اور کن لوگوں نے کہا تھا۔ اس جملے نے قائد اعظم محمد علی جناح کے سن اڑتالیس والے خطبے کے بعد ڈھاکہ میں ہی جنم لیا تھا۔ بنگلہ دیش کے دانشور اور سیاسی طالب علم کہا کرتے تھے، ’قائد اعظم نے کہا کہ اردو ہماری سرکاری زبان ہوگی اور یہ بات قائد نے انگریزی زبان میں کہی۔‘

آپ جانتے ہی ہوں گے کہ ہر سال 21 فروری کو دنیا میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی ہر سال اس تاریخ پر مادری زبانوں اور علاقائی بولیوں کے میلے سجائے جاتے ہیں۔ کوئی شاگرد اپنے استاد سے، قاری کسی مصنف سے، کارکن اپنے رہنما سے اور بچے اپنے والدین سے جب جب 21 فروری کا پس منظر پوچھیں گے تب تب انہیں بتایا جائے گا کہ بیٹا، سنہ 48 کے بعد بنگال کے لوگ تو ویسے ہی بے چین تھے لیکن جب وہاں ڈاک اور ریل کے ٹکٹوں پر سے بنگلہ زبان کو کھرچ کر اردو اور انگریزی میں تفصیلات لکھی گئیں تو بے چینی دو چند ہو گئی۔  

1952 میں جب اردو زبان کو سرکاری زبان قرار دے دیا گیا تو سمجھو جلتی پر تیل والا کام ہوگیا۔ صحافی، طلبا، اساتذہ، ادیبوں اور دانش وروں نے احتجاج کے لیے 21 فروری، 1952 کی تاریخ دی تو شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ 21 فروری کی صبح ڈھاکہ یونیورسٹی سے کچھ طلبا کرفیو توڑتے ہوئے باہر نکلے تو گولیاں چلا دی گئیں، جس کے نتیجے میں لگ بھگ 40 جوان جان سے گزر گئے۔

شام ڈھلی تو برکت اور اسلام جیسے شہدا کی یاد میں وہاں ایک یادگاری مینار کھڑا کیا گیا۔ منہ اندھیرے صبح سویرے حکومتی ہرکارے آئے اور اس یاد گار کو ڈھاتے ہوئے نکل گئے۔ جو بات شکوے شکایتوں سے چلی تھی رنجشوں سے ہوتی ہوئی عداوتوں میں بدل گئں اور سقوطِ ڈھاکہ کی صورت میں ہجر کی ایک لمبی رات میں ڈھل کر ختم ہو گئی۔

یہی وہ سیاسی پس منظر ہے جس کو سامنے رکھ کر محمود خان اچکزئی جیسے راہنما رواروی میں کوئی بات کہہ جاتے ہیں۔ ورنہ یہ بات واضح ہے کہ اچکزئی صاحب کے لیے اردو کی وہی حیثیت ہے جو قائد اعظم کے لیے انگریزی زبان کی تھی۔ قائد اپنی بات کا ابلاغ انگریزی میں ہی کر سکتے تھے، اچکزئی صاحب اردو میں ہی کر سکتے ہیں۔ جس طرح انگریزی سے فرار ناممکن ہو چکا ہے، اردو سے فرار اور خلاصی بھی ناممکن ہی ہے۔

سقوطِ ڈھاکہ میں جن چیزوں نے کردار ادا کیا، اس میں کوٹا سسٹم بھی ہے۔ کم و بیش چھ کروڑ کی آبادی میں چار کروڑ سے زائد بنگالی تھے۔ آبادی میں زیادہ ہونے کے باوجود انہوں نے کوٹے میں اپنے غیر مساوی حق کو بھی تسلیم کر لیا۔ اس طرح سے بھی بات نہ بنی تو انہوں نے برتن الگ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

بنگلہ دیش تو چلا گیا، مگر پاکستان میں کوٹے کا ستم اپنی حشر سامانیوں کے ساتھ باقی رہ گیا۔ آج بھی تعلیم کے کوٹے میں اپنے حق کا سوال لے کر بلوچ طلبا بلوچستان سے پیدل چل کر لاہور پہنچے ہیں۔ رسوائی کے بازاروں سے گزرتا ہوا یہ قافلہ اپنی آبلہ پائی لے کر اسلام آباد کی طرف چلنے والا ہے۔ رستے میں مرہم ہے، دارو ہے، شنوائی ہے اور نہ اشک شوئی ہے۔ یہ کوئی آج کی بات تو نہیں ہے۔

جب جب خیراتی کوٹے میں اپنے حق کا سوال آیا تو ریاستی بیانیے نے یہ اصرار کیا کہ لوگ سندھی پشتون سرائیکی بلوچ بنے پھرتے ہیں، یہ ایک پاکستانی کیوں نہیں بن جاتے؟ اگر کسی اور کو نوکری مل گئی ہے یا داخلہ مل گیا ہے تو کیا حرج ہے، وہ بھی تو پاکستانی ہیں۔ پنجاب بھی تو آخر آپ ہی کا صوبہ ہے۔

جواب میں سیاسی رہنماؤں کو یہ کہنا پڑا کہ پنجاب ہمارا صوبہ نہیں۔ یہ کہنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ پنجاب پاکستان کا صوبہ نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ تمام قوموں نے پنجاب کو ہمیشہ بڑا بھائی کہہ کر ہی گلے شکوے کیے ہیں۔ ان کی مراد ہمیشہ یہ رہی کہ ہمارا اپنا صوبہ اپنی زمین اور اپنے وسائل ہیں۔ ہمیں اپنا حق اور اختیار چاہیے۔

اٹھارویں ترمیم نے صوبوں کو جو اختیارات سونپے ہیں تعلیم ان میں سر فہرست ہے۔ اسی اختیار کے بعد یہ سوال اٹھایا گیا کہ جب قوم ایک ہے تو نصاب چار کیوں ہوں گے؟ مادری زبانوں کے حق کو ہمارا آئین تسلیم کرتا ہے، مشکل مگر یہ ہے کہ ہم آئین کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہم تمام طبقوں کی مشاورت سے بننے والے آئین پر آئین پر اشرافیہ کے داغے گئے بیانیے کو دس درجے فضیلت دیتے ہیں۔

بیانیہ کہتا ہے اپنی زبان، شناخت اور تاریخ پر اصرار کرنے سے قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ تاریخ کا سبق البتہ یہ ہے کہ تکثیریت کو حقیقت مان کر جن ریاستوں نے مختلف قوموں کی شناخت، تاریخ، ثقافت اور نصاب کے حق کو تسلیم کیا ہے وہاں سیاسی استحکام پیدا ہوا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ بیانیہ چاہتا ہی نہیں ہے کہ وسائل و اختیار اور منصفانہ تقسیم کا شعور لوگوں میں پیدا ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لوگوں کو بس اتنا شعور ہونا چاہیے کہ آتے جاتے سیاست دان کو پکڑ کے پوچھے، 70 سال سے ہمارے حالات کیوں نہیں بدلے؟ بھئی کیسے بدلیں، کیا 70 سالوں میں ہم بدلے ہمارا بیانیہ بدلا؟

بیانیے نے یہ تشویش بھی بے وجہ پیدا کر رکھی ہے کہ اگر یہاں مادرری زبانوں میں پڑھنے لکھنے کے اختیار کو قبول کرلیا گیا تو اردو مرجائے گی اور رابطے کا بحران پیدا ہوجائے گا۔ یہ بات اس لیے بھی غیر منطقی ہے کہ یہاں یہ شعور موجود ہے کہ رابطے اور ابلاغ کے لیے اردو کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

لوگوں میں انگریزی کا رجحان اگر پیدا ہوا ہے تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انگریزی نصاب کا کوئی لازمی سوال ہے۔ لوگ یہ بات اپنے شعور سے جانتے ہیں کہ انگریزی ایک اور سطح پر رابطے اور ابلاغ کا ذریعہ ہے۔ گلگت بلتستان میں شرح خواندگی نوے فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ انگریزی میں تعلیم حاصل کرنے کا رجحان وہاں عام ہے۔ اس کے باوجود وہاں باہمی ربط ضبط کے لیے اردو ہی بولی جاتی ہے۔ وہاں پہاڑوں اور بیابانوں میں جانور چرانے والے چرواہے بھی اردو بولتے ہیں۔

 امارات میں بے شمار عرب اس لیے اردو بولتے ہیں کہ وہاں بھارتیوں اور پاکستانیوں کے بیچ رابطے کی زبان اردو ہے۔ اب وہاں کوئی مارواڑی ہو یا پشتون ہو، عرب شہری اس سے اردو بولنے کی ہی کوشش کرتا ہے۔ اس معاملے میں عرب شہری پر کوئی جبر ہے اور نہ مارواڑی اور پشتون کو کوئی اعتراض ہے۔ یہ تو فطرت کا چلن ہے، جو ایسے ہی چلتا ہے، ایسے ہی چلے گا۔

 میری مادری زبان پشتو ہے۔ میں پشتو بولتا بھی ہوں اور پڑھتا بھی ہوں۔ پشتو میں ہی مجھے میری ماں نے لوریاں سنائی ہیں۔ مگر زبانوں میں جس زبان سے مجھے عشق ہے وہ اردو ہے۔ عشق تو رابطے اور ابلاغ سے بھی اوپر کی بات ہوتی ہے۔ پڑھنا لکھنا اپنی جگہ، اکثر میں سوچتا بھی اردو میں ہوں۔ مگر یہ کہنے میں کیا مضائقہ ہے کہ اردو میری زبان نہیں ہے۔  

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ