بھائی صاحب، یہ والی موسیقی حرام نہیں ہے!

خیبر پختونخوا کے دور افتادہ ضلع کالا ڈھاکہ کے ایک گاؤں کی روداد، جہاں کچھ نہیں بدلا اور بہت کچھ بدل گیا ہے۔

ترکی کا ڈرامہ 'ارطغرل غازی' پاکستان میں نہایت پسند کیا گیا(تصویر: Tekden Film)

گاؤں پختونخوا وطن کا ہو یا پنجاب کا، بزرگ ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ طبعیت کے سادے اور زمانے کے سیدھے۔

ان بزرگوں کا دین دھرم ثقافتی سا ہو تو یہ گاؤں کے حکیمِ دانا ہوتے ہیں۔ اِن کے دین دھرم سے ثقافت نکل جائے تو یہ خدا کی پناہ ہو جاتے ہیں۔ تور غر کالا ڈھاکہ میں ہمارا گاؤں بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ ہمارا گاؤں بالکل نہیں بدلا۔ اللہ کے فضل سے قورمے اور بریانی کے معدہ کُش مصالحے، دودھ دہی کے زہریلے ڈبے، برائلر مرغیاں اور جعلی مشروبات وہاں بھی پہنچ گئی ہیں۔ ڈش انٹینا تو ایک آدھ گھر وں کی چھتوں پر بہت پہلے ہی نظر آنا شروع ہو گئے تھے اب تو سمارٹ فون کا دور دورا ہے۔

رہن سہن بدل گیا ہے مگر چال چلن نہیں بدلا۔ مطلب کہ تمام تر مواصلاتی سہولیات میسر ہونے کے باوجود بھی وہاں لوگوں کا گزر بسر افواہوں پر ہی ہے۔ سیدھی اور ستھری بات سنتے ہیں تو چہرے پر ایک طرح کی مایوسی پھیل جاتی ہے۔ کوئی سازشی بوباس والی سنسنی خیز کہانی سن لیں تو آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔ ایسی کہانی میں آپ کو بس انترہ اٹھانا پڑتا ہے، اس کے بعد آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کب شمع آپ کے آگے سے کھسکا دی گئی ہے۔

اب کوئی آرگینِک علم رکھنے والی شخصیت تسبیح کے دانے پھیرتی جائے گی اور آپ پر آپ ہی کے شعر کا مفہوم کھولتی جائے گی۔ اس کی گفتار میں اعتماد اتنا ہو گا کہ خود آپ کو یقین ہونے لگے گا کہ واقعی شعر کہتے ہوئے میری یہی مراد تھی۔ کبھی صحافیوں اور اداکاروں کی محفل میں وزیر اعظم کو تسبیح پھیرتے ہوئے مغربی تہذیب پر بات کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ بس بس، بالکل یہی منظر ہوتا ہے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہمارے علاقوں میں مولانا فضل الرحمٰن کا مقام و مرتبہ دیوتا سمان ہے۔ ان کا فرمایا ہوا وہاں کے لوگوں کے لیے بالکل ویسا ہی ہوتا ہے جیسے ابھی ابھی آسمان سے وحی اتری ہو۔ کبھی کبھی تو وہ یہ سوچ کر بہت اداس ہو جاتے ہیں کہ اگر اس کائنات میں مولانا فضل الرحمٰن نہ ہوتے تو یہ دنیا کس قدر بے کیف و بے نور ہوتی۔ پھر اچانک سے خوش بھی ہو جاتے ہیں کہ مالک کا شکر ہے ہماری دنیا ادھوری نہیں ہے۔ وہ بہت دل سے اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ دنیا کی یہ واحد اسلامی سلطنت مولانا فضل الرحمٰن ہی کے سینگوں پر کھڑی ہے، خدانخواستہ کسی دن انہیں ہلکی سی چھینک بھی آ گئی تو اس مملکت کی طنابیں ٹوٹ کے ایسے بکھریں گی کہ سمیٹنا مشکل ہو جائے گا۔

 پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں کالا ڈھاکہ کے کچھ علاقوں میں آپریشن کا فیصلہ ہوا تو مولانا فضل الرحمٰن چین میں تھے۔ وہ شیڈول کے مطابق واپس آئے تو اگلے دن پارلیمنٹ کے اجلاس میں انہوں نے اس ممکنہ آپریشن پر رد عمل دیا۔ کالا ڈھاکہ میں آپریشن ہونا تھا اور نہ ہوا۔ اب اس کہانی کو ہمارے گاؤں کے بزرگوں، جوانوں اور خاص طور سے خواتین نے سینہ بہ سینہ کیسے آگے پھیلایا، ملاحظہ کیجیے۔

’حکومت انتظار میں تھی کہ کسی طرح مولانا کی ہلکی سی آنکھ حھپکے یا وہ دائیں بائیں کہیں مصروف ہوں تو ہم آپریشن شروع کریں۔ مولانا جیسے ہی چین گئے تو ان اسلام دشمنوں نے آپریشن کا اعلان کردیا۔ کسی نے چین میں مولانا کو ایک اہم اجلاس کے دوران اطلاع دی تو بے چین ہو کر انہوں نے چینی صدر سے کہا، حبیبی، اب مجھے جانا ہو گا۔‘

چینی صدر ہکا بکا چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑا رہ گیا اور مولانا ہوا کے گھوڑے پہ بھاگے چلے آئے۔ ائیرپورٹ سے وہ بھاگم بھاگ جیسے ہی سیدھا پارلیمنٹ میں اترے تو ایک سناٹا چھا گیا کہ یہ کیا، یہ آدمی تو چین میں تھا یہ یہاں کہاں سے نازل ہو گیا۔ مولانا نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، سیدھا گئے اور وزیر اعظم گیلانی کا گریبان سے پکڑ کے پارلیمنٹ کی راہداریوں میں کھینچا۔ وازیراعظم کی کرسی اٹھا کر زمین پر ایسے پٹخی کہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔

پھر چیخ کر وزیر اعظم سے کہا، ’آپریشن رکواتے ہو یا باقی کرسیاں بھی توڑوں؟‘

وزیر اعظم گیلانی پھٹا گریبان اور ٹوٹا چشمہ لے کر واپس اپنی جگہ پر آئے اور آپریشن کی منسوخی کا اعلان کر دیا۔ اس طرح ایک بڑی قیامت ہمارے سر سے ٹل گئی۔‘

 اس بار گاؤں گیا تو لوگوں کی زبانوں پر دو ہی چیزیں تھیں۔ ایک کرونا (کورونا) اوردوسرا ارطغرل ڈراما۔ ارطغرل ڈرامے کے اثرات تو لوگوں کے لچھن اور بھاشن میں واضح نظر آ رہے تھے۔ ملتے ملاتے وقت لوگ حال احوال بعد میں کرتے تھے پہلے ارطغرل ڈرامے کا پوچھتے تھے۔ ’کتنا دیکھا، دیکھا بھی ہے کہ نہیں دیکھا؟‘

ان کے بیچ آہستہ آہستہ مجھے اپنا آپ دوسرے درجے کا ایک شہری لگنے لگا۔ اس عالمِ ناپائیدار میں ایک میں ہی کم بختی کا مارا تھا جس نے ارطغرل نہیں دیکھا تھا۔

 یہ نوجوان دور سے گاؤں میں داخل ہوتی ہوئی گاڑیوں پر ایسی گھوریاں ڈالتے جیسے اطمینان کر رہے ہوں کہ کہیں منگول تو نہیں آ رہے۔ اکڑی ہوئی گردن کے ساتھ نسوار کی چٹکی بناتے تو بالکل ایسا لگتا کہ ابھی یہاں یہ کلے میں گولی دبائیں گے اور وہاں قسطنطنیہ فتح مبین کے ڈنکے پٹ جائیں گے۔

ایک دن نمازِ عصر کے بعد کچھ لوگ مسجد کے باہر کسی بات پر الجھے ہوئے تھے۔ پتہ چلا کہ عین نماز کے دوران ایک جوان کا موبائل بج گیا تھا اور اس پر چمک چھلو قسم کی کوئی رنگ ٹون لگی ہوئی تھی۔ بزرگ طیش میں تھے کہ اسلام میں موسیقی اور ڈھول تاشے حرام ہیں مگر یہ ہماری نئی نسل کے بچے اتنے دین بیزار ہو گئے ہیں کہ اپنی ڈم توبیاں (میراثی پن) اپنے ساتھ مسجد میں لے آئے ہیں۔

مجھے تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اس پورے خلجان میں اکثریت اس جوان کے ساتھ کھڑی تھی جس کے موبائل میں کال آنے پر گانا بجا تھا۔ یعنی یہاں کے لوگوں میں اتنی وسعت پیدا ہو گئی ہے کہ نماز کے دوران بجنے والی موسیقی کا بھی دفاع کر رہے ہیں؟ یہ جسارت تو ابھی تک پاکستان کے ان مذہبی سکالرز نے بھی نہیں کی جو یہود ونصاری کے ایجنٹ وغیرہ ہیں۔

جستجو ہوئی کہ دیکھوں تو سہی کہ اس اکثریت کے پاس اپنے مقدمے کے حق میں دلیل کیا ہے۔ میری جستجو کو بھانپتے ہوئے ایک کڑیل جوان نے کہا، ’یرا خو بس کیا بتاؤں۔ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ گانا حرام ہے۔ ٹھیک ہے وہ تو حرام ہے، لیکن اب انہیں میں کیسے سمجھاؤں کہ اس بندے کے موبائل پر جو گانا بجا تھا یہ وہ والا گانا تو نہیں ہے۔ یہ تو ارطغرل ڈرامے والا گانا ہے۔‘

 یہ کہتے ہی جوان نے میرا بازو پکڑ کے کہا، ’ہماری زبان میں تو یہ لوگ نہیں سمجھ رہے تمھی انہیں کسی طرح سمجھا دو۔‘ میں نے بغلیں جھانکتے ہوئے کہا، ’نہیں بھئی میں نے تو ارطغرل ڈراما دیکھا ہی نہیں ہے میں کیسے سمجھاؤں گا۔‘

دوسرے جوان نے ہنس کر کہا، ’پھر تو تمہیں بھی لگتا ہو گا کہ ارطغرل والا گانا بھی حرام ہے۔ ہے نا؟‘

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ