کشمیر: پی ٹی آئی امیدوار اسمبلی کے ظاہر کردہ اثاثوں میں مسجد بھی شامل

الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی اثاثوں کی تفصیل میں دو کروڑ مالیت کی مسجد کو تنویر الیاس کی ملکیت ظاہر کیا گیا، تاہم علما کے مطابق شرعاً کوئی شخص مسجد پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

سردار تنویر الیاس کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے اور وہ قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے-15 باغ 2 سے نامزد امیدوار ہیں (فوٹو: سردار تنویر الیاس میڈیا سیل ٹوئٹر اکاؤنٹ)

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 25 جولائی کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات میں امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل مکمل ہو گیا ہے اور بیشتر امیدواروں نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروا دی ہیں۔

ان امیدواروں میں سب سے زیادہ امیر سمجھے جانے والے سردار تنویر الیاس نے اپنے اثاثوں میں ایک مسجد کو بھی شامل کرلیا جس کی مالیت انہوں نے دو کروڑ روپے ظاہر کی۔

ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی امیدوار نے اپنے اثاثوں میں مسجد کو بھی شامل کیا ہو۔

سردار تنویر الیاس کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے اور وہ قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے-15 باغ 2 سے نامزد امیدوار ہیں۔

تنویر الیاس کی جانب سے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی پانچ صفحات پر مبنی اثاثوں کی فہرست کے مطابق ان کے ملکیتی اثاثوں کی مجموعی مالیت لگ بھگ سات ارب روپے بنتی ہے۔ ان اثاثوں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جائیدادوں کے علاوہ راولپنڈی  اور اسلام آباد کے کئی علاقوں میں کروڑوں روپے مالیت کے فلیٹ، پلاٹ اور دکانیں شامل ہیں جبکہ اسلام آباد کے سب سے بڑے شاپنگ مال سینٹورس میں متعدد فلیٹس اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی ظاہر کی گئی ہے۔

جمع کروائی گئی تفصیلات میں ان کی اندرون و بیرون ملک جائیدادوں اور اثاثوں کی مجموعی مالیت ساڑھے سات ارب کے لگ بھگ بتائی گئی ہے، جن میں حیرت انگیز طور پر ان کے آبائی علاقے راولاکوٹ میں دو کروڑ روپے مالیت کی ایک مسجد بھی شامل ہے، تاہم ان اثاثوں میں بسا اوقات سردار تنویر الیاس کے زیر استعمال رہنے والے ہیلی کاپٹر کا کوئی تذکرہ ہیں۔

 

سردار تنویر الیاس کی جانب سے مسجد کو ذاتی اثاثوں میں شامل کرنے کے معاملے پر سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی ہے اور کئی لوگ اسے اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ قرار دے رہے ہیں جو بعض علما کے بقول ’شرعی اور ریاستی قوانین کے خلاف‘ ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے معروف عالم دین اور سابق ضلع مفتی میرپور مفتی رویس خان ایوبی نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’شرعی قانون کے لحاظ سے کوئی شخص مسجد کو ذاتی ملکیت ظاہر نہیں کر سکتا۔ جب کسی زمین پر مسجد تعمیر ہو جائے تو وہ کسی فرد کی ملکیت نہیں رہتی بلکہ وہ مسجد کے لیے وقف ہو جاتی ہے اور اس زمین پر تاقیامت مسجد کے علاوہ دیگر کسی قسم کی تعمیرات نہیں ہو سکتیں۔‘

کیا کوئی شخص مسجد کی تعمیر کے لیے زمین یا سرمایہ فراہم کرنے کے بعد اس پر ملکیت کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں عالم دین مفتی رویس خان ایوبی کا کہنا تھا: ’جو شخص مسجد کی تعمیر کے لیے زمین وقف کرتا ہے یا سرمایہ لگاتا ہے وہ اس مسجد کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری تو اپنے پاس رکھ سکتا ہے تاہم مسجد یا اس سے منسلک کسی چیز کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس پر کسی شخص کی جانب سے ملکیت کا دعویٰ درست نہیں، اگر ملکیت کا دعویٰ ہو گیا تو پھر وہ مسجد نہ رہی۔ جب ایک چیز آپ کی ملکیت میں نہیں تو آپ اس کو اثاثوں یا ٹیکس گوشواروں میں کیسے ظاہر کر سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈیپنڈنٹ اردو کی جانب سے متعدد کوششوں کے باوجود سردار تنویر الیاس یا ان کے خاندان کا کوئی بھی شخص اس معاملے پر بات کرنے کو تیار نہیں ہوا البتہ سردار تنویر الیاس کے میڈیا کوارڈینٹر یاسر عارف نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بھیجے گئے مختصر مراسلے میں لکھا: ’راولاکوٹ میں جو مسجد تعمیر کی گئی ہے اس کے تعمیراتی اخراجات سردار تنویر الیاس خان کے اکاؤنٹ سے (ادا کیے) گئے ہیں جن کی تفصیل ان (کے) اثاثہ جات میں درج کی گئی ہے۔‘

تاہم انہوں نے بھی اس حوالے سے مزید وضاحت یا تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

دوسری جانب ضلع مفتی مظفرآباد مفتی خطیب الرحمان نے اس بارے میں انڈپینڈنٹ اردو کے سوال کے جواب میں بتایا کہ مسجد کے حوالے سے شرعی قوانین بالکل واضح ہیں تاہم ریاستی قوانین میں زیادہ وضاحت نہیں۔

ان کے مطابق مساجد کی رجسٹریشن اور دیگر معاملات کی دیکھ بھال کرنے والا محکمہ امور دینیہ کسی بھی مسجد کی رجسٹریشن سے قبل یہ یقینی بناتا ہے کہ جس زمین پر مسجد تعمیر کی گئی  وہ کسی شخص کی ملکیت نہیں بلکہ مسجد وقف ہو اور اس کے انتظامات کی دیکھ بھال کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہو۔

انہوں نے بتایا: ’مسجد کی رجسٹریشن سے قبل محکمہ مال تصدیق کرتا ہے کہ اس زمین پر کسی کا دعویٰ ملکیت نہیں بلکہ یہ زمین وقف شدہ ہے اور محکمہ پولیس تصدیق کرتا ہے کہ اس مسجد کی تعمیر کسی قسم کے انتشار کا باعث نہیں بنے گی۔ اس کے بعد ہی محکمہ امور دینیہ مسجد کو رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے۔‘

سردار تنویر الیاس کون ہیں؟

سردار تنویر الیاس کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پونچھ کے علاقے بنگوئیں سے ہے۔ ان کے والد سردار الیاس سعودی عرب کے معروف کاروباری گروپ ’تمیمی‘ کے چیئرمین ہیں۔ ان کے چچا سردار صغیر چغتائی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں رکن تھے اور گذشتہ ماہ آزاد پتن کے قریب حادثے کا شکار ہوئے۔

ان کا نام پہلی مرتبہ اس وقت سامنے آیا جب اسلام آباد کے سب سے بڑے شاپنگ مال سینٹورس کی تعمیر شروع ہوئی۔ وہ اس شاپنگ مال کے شراکت داروں میں سے ایک ہیں۔

گذشتہ چند سالوں سے ان کی سیاست میں دلچسپی پیدا ہوئی اور انہوں نے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ سے قربت بڑھانا شروع کی۔ 2018 میں انہوں نے سینیٹ کے انتخابات میں پی ٹی آئی کا ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کی تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ 2018 ہی میں انہیں پنجاب کی نگران کابینہ کا حصہ بنایا گیا۔

پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت کے قیام کے بعد انہیں پہلے سرمایہ کاری بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا اور پھر وہ وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی مقرر ہوئے۔

انہوں نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی اور پاکستان تحریک انصاف کے مقامی صدر بیرسٹر سلطان کے ساتھ اختلافات کی بنا پر کئی تنازعات کا شکار ہوئے۔

سیاسی دوروں کے لیے ہیلی کاپٹر کے استعمال اور دوسری جماعتوں سے ’الیکٹ ایبلز‘ توڑ کر پی ٹی آئی میں شامل کرنے کے باعث وہ  ’ہیلی کاپٹر بابو‘ اور ’کشمیر کے ترین‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔

25 جولائی کو ہونے والے انتخابات جیتنے کی صورت میں سردار تنویر الیاس پی ٹی آئی کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے مضبوط ترین امیدوار تصور کیے جاتے ہیں۔  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان