دو خواتین پر تشدد کی وائرل ویڈیو کے پیچھے معاملہ کیا ہے؟

پاکستانی سوشل میڈیا پر دو خواتین پر تشدد کی وائرل ویڈیو میں متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی ان کے بھائی ان پر تشدد کر چکے ہیں۔

ٹوئٹر پر خاتون کی بیٹے محمد ارسلان کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو میں دو مردوں کو دو خواتین پر  ہتھوڑے اور ہیلمٹ سے تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے (ویڈیو سکرین گریب)

پشاور کی خاتون جن پر تشدد کی ویڈیو گذشتہ روز سے پاکستان کے سوشل میڈیا پر وائرل ہے کا کہنا ہے کہ یہ حملہ پہلا نہیں تھا اور ان کے بھائی اس سے پہلے 2017 میں بھی ان پر تشدد  کر چکے ہیں۔

متاثرہ خاتون بدر سلطان کے مطابق تنازع گھر کی ملکیت کا ہے جس کی وجہ سے ان کے بھائیوں نے ان پر تشدد کیا۔ بدر سلطان کے مطابق گھر انہوں نے خریدا تھا مگر بھائی گھر پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ملزمان میں سے ایک زاہد احمد کی اہلیہ فضیلت نے کہا ہے گھر ان کے شوہر کے نام ہے اور تشدد میں شامل نہیں تھے۔  

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے متاثرہ خاتون بدر سلطان نے بتایا کہ 2017 میں بھی ان کے بھائی اسی گھر میں حصے کے تنازعے پر ان پر تشدد کر چکے ہیں مگر تب وہ ویڈیو ثبوت نہیں ریکارڈ کر سکی تھیں۔

بدر سلطان ان خواتین میں سے ایک ہیں جن پر پشاور میں تشدد کی ویڈیو گذشتہ رات سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

وائرل ویڈیو

ٹوئٹر پر ان کی بیٹے محمد ارسلان کی جانب سے شیئر کی جانے والی ویڈیو میں دو مردوں کو دو خواتین پر  ہتھوڑے اور ہیلمٹ  سے تشدد کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ محمد ارسلان نے عوام سے مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ان کی غیر موجودگی میں ان کے تین ماموؤں نے ان کی والدہ اور نانی کو تشدد کانشانہ بنایا۔

ٹوئٹر پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہفتے کی رات کو ہی کیپیٹل سٹی پولیس نے بھی اپنے اکاؤنٹ سے ملزمان کی تصویر جاری کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے اعتراف جرم کرتے ہوئے دوران تفتیش بتایا کہ یہ معاملہ آبائی گھر میں حصہ مانگنے کے نتیجے میں پیش آیا۔

ویڈیو اپلوڈ کرنے والے محمد ارسلان نے پولیس پر الزام لگایا تھا کہ وہ ان کے ساتھ تعاون نہیں کررہی اور ایف آئی آر درج کرنے میں بھی پس وپیش سے کام لے رہی تھی۔

تاہم دوسری جانب، کیپٹل سٹی پولیس نے بتایا کہ خواتین کو طبی امداد اور معائنے کی خاطر ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا، جہاں سے ڈاکٹر کی طبی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

پشاور کے تھانہ بھانہ مانڑی کے اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بدر سلطان زوجہ سلطان محمد کی شکایت پر انہوں نے خاتون کے تین بھائیوں، ملزم آفتاب احمد، ارشد احمد اور زاہد احمد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 354، 506، اور 337 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

دفعہ 354 کے مطابق کسی بھی خاتون کے خلاف مجرمانہ قوت استعمال کرنا ایک قابل ضمانت جرم ہے جس کی سزا زیادہ سے زیادہ دو سال قید، جرمانہ یا دونوں ہی سزائیں ہوسکتی ہیں۔ دفعہ 506 کے مطابق، کسی فرد کو سنگین نتائج کی دھمکی دینا ایک جرم ہے، جس کی سزا سات سال قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ جبکہ دفعہ 337 میں کسی کے سر یا چہرے کو زخمی کرنے کی سزا کم سے کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ 14 سال قید ہے، جس کا تعین متاثرہ شخص پر لگائے گئے زخم کی نوعیت دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

معاملہ کیا ہے؟

بدر سلطان کے مطابق ان کے بھائیوں نے گھر کے تنازعے پر انہیں اس سے قبل 2017 میں بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا تاہم ان کے پاس کوئی ویڈیو ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ملزمان کو چھوٹ مل گئی تھی۔

بدر سلطان نے بتایا کہ ان پر تشدد کرنے والے ان کے سگے بھائی ہیں جن کی شادیاں تک انہوں نے کروائیں اور ملازمتیں بھی لگوائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بدر کے بقول وہ پاکستان کے سرکاری ٹیلی وژن کے پشاور سینٹر سے انجینیئر کے عہدے سے حال ہی میں ریٹائر ہوئی ہیں، اور انہوں نے کئی برسوں کی نوکری میں نہ صرف یہ گھر خریدا بلکہ والدین اور بھائیوں کی کفالت بھی کرتی رہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’10 مرلے کا یہ گھر میں نے 2004 میں 14 لاکھ میں خریدا تھا، جس پر اب بھائی حق جتا رہے ہیں اور مجھے گھر سے نکالنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔‘

بدر سلطان نے کہا کہ انہوں نے اپنی تنخواہ اور جمع پونجی سے یہ گھر خریدا تو انہوں نے والدین کو بھی اپنے ساتھ رہنے کا مشورہ دیا، جس کے بعد والد نے گھر کی مرمت اور دیکھ بھال میں اپنی رقم خرچ کی اور ایک بیٹے آفتاب احمد کو بھی گھر کی بالائی منزل میں رہنے کے لیے جگہ دی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دو بہنوں میں وہ دوسرے نمبر پر ہیں، لیکن گھر کی ساری ذمہ داریاں انہوں نے گھر کے کفیل کے طور پر اٹھائیں۔ ’مجھے کیا خبر تھی وہی بھائی مجھے ہی ایک دن مارنے پیٹنے لگیں گے۔‘

واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے بدر سلطان نے کہا کہ ہفتے کو نماز عصر کے وقت وہ والدہ کے ساتھ گھر پر اکیلی تھیں کہ ’موقع پاکر آفتاب احمد جو ویڈیو میں ہتھوڑے کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے، نے زاہد اور ارشد کو بلا کر پہلے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور پھر کمرے میں داخل ہوکر مجھے اور والدہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

بدر سلطان نے کہا کہ 2017 میں ان کے ساتھ تشدد کا واقعہ پیش آنے کے بعد ان کے بیٹے نے کمرے میں کیمرا نصب کروایا تھا کیونکہ انہیں ان کے بھائیوں کی جانب سے ہمیشہ دھمکیاں ملتی رہتی تھیں اور انہیں خدشہ تھا کہ ان پر جان لیوا حملہ ہوسکتا ہے۔

’اگر کیمرا نہ ہوتا تو آج کا واقعہ بھی 2017 کی طرح بغیر کسی ثبوت کے خاموشی سے گزر جاتا اور کسی کو خبر بھی نہ ہوتی کہ ہم پر کیا گزری۔‘

تاہم جب مقدمے میں نامزد ایک ملزم زاہد احمد کی اہلیہ فضیلت سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے متاثرہ خاتون کا دعویٰ غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ گھر انہوں نے اپنے پیسوں سے خریدا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہمارے پاس دستاویزات موجود ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ گھر میرے سسر کے نام ہے، جو کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹوں کے نام کر دیا تھا، ہمیں خود اس واقعے پر افسوس ہے لیکن میرے شوہر کسی قسم کے تشدد میں شامل نہیں تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کا سہارا یہ گھر ہے تاہم موجودہ حالات میں ان کو راضی نامہ کرنا پڑ رہا ہے اور یہ گھر وہ متاثرہ خاتون بدر سلطان کے نام انتقال کر دیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین