’بچے کی پیدائش پر گھر رکنے کی بجائے ڈولفن بچانے نہر پر چلا گیا‘

ماہی گیروں کی کوششوں سے معدومی کے خطرے سے دوچار دریائے سندھ کی نایاب ڈولفن اب خوب پھل پھول رہی ہے۔

ماہی گیروں کی کوششوں سے معدومی کے خطرے سے دو چار دریائے سندھ کی نایاب ڈولفن اب خوب پھل پھول رہی ہے۔

ایک دور میں میٹھے پانیوں میں رہنے والی لمبی چونچ والی بلائنڈ ڈولفن ہمالیہ سے لے کر بحیرہ عرب تک دریائے سندھ میں تیرتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں لیکن اب یہ زیادہ تر پاکستان کے جنوبی صوبے کی 180 کلو میٹر آبی گزرگاہ تک محدود ہو گئی ہیں۔

سکھر کے قریب دریائے سندھ کے کنارے گدلے پانی کی سطح پر چھلانگیں لگاتی ڈولفنز کا نظارہ اب باقاعدگی سے دیکھنے کو ملتا ہے لیکن آس پاس کے زیادہ تر دیہاتیوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کے قریب رہنے والی اس نوع کی نسل معدوم ہونے کے دہانے پر تھی۔

ڈولفن ریسکیو ٹیم میں ملازمت کے لیے ماہی گیری ترک کرنے والے عبدالجبار نے دادو کینال کے کنارے اے ایف پی کو بتایا: ’ہمیں ماہی گیروں کو یہ سمجھانا پڑا کہ یہ ایک نایاب نوع ہے جو صرف دریائے سندھ میں پائی جاتی ہے۔‘

دہائیوں سے کیے جانے والے بے دریغ شکار، آلودگی اور ڈیمز کی تعمیر سے اپنے وسیع مسکن سے محرم ہونے والی انڈس ڈولفنز کی تعداد اس صدی کے آغاز پر سکڑ کر محض 12 سو رہ گئی تھی۔

انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کی جانب سے انڈس ڈولفنز کی خطرے سے دوچار انواع کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے۔

عالمی ادارے کے مطابق ان کی تعداد 1940 کی دہائی سے اب تک 50 فیصد تک کم ہو چکی ہے۔ 

اس میمل (دودھ پلانے والے) جانور کی بقا کے لیے پاکستان کے محکمہ وائلڈ لائف کے عہدیداروں نے دریا کے کنارے اور اس سے نکلنے والی نہروں کے قریب بسنے والی مقامی ماہی گیربرادری کے ساتھ مل کر گھر گھر جا کر ایک انتھک آگاہی مہم چلائی تھی۔

انہوں نے مچھلی کے شکار کے لیے ڈولفن فرینڈلی جال کے بارے میں مشورے اور غیر قانونی زہریلے مواد کے استعمال کے بارے میں انہیں خبردار کیا۔

عالمی ادارے ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر نے بھی 10 لاکھ روپے مالیت کے قرض کی پیش کش کی ہے جس سے ماہی گیروں کو متبادل کاروبار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

صوبائی محکمہ جنگلی حیات کی مدد سے انہوں نے 100 رضاکاروں اور مٹھی بھر تنخواہ دار عملے کی مدد سے ڈولفن مانیٹرنگ نیٹ ورک قائم کیا ہے۔ کسی مصیبت میں گرفتار ڈولفن کی مدد کے لیے 24 گھنٹے ہیلپ لائن سروس بھی متعارف کرائی گئی ہے۔

عبدالجبار کی اس مہم وابستگی اب نے مثال ہے۔ وہ حال ہی میں اپنے بچے کی پیدائش کے موقعے پر گھر نہیں رک سکے کیوں کہ انہیں دریا سے نکلنے والی ایک نہر میں پھنس جانے والی ڈولفن کو بچانے کے لیے جانا تھا۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’ڈاکٹر سیزرین آپریشن کی تیاری کر رہے تھے اور اس موقعے پر مجھے اپنی اہلیہ کے ساتھ رہنے کی ضرورت تھی۔ لیکن جب فون آیا تو میں اس رات ڈولفن کو بچانے کے لیے سب چھوڑ کر نکل پڑا۔‘

2017 کے تازہ ترین سروے کے مطابق انڈس ڈولفنز کی تعداد بڑھ کر 18 سو ہوگئی تھی اور محکمہ جنگلی حیات کے حکام سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ان کی آبادی مزید بڑھی ہے۔

مقامی کہاوت مشہور ہے کہ کسی زمانے میں دریائے سندھ کی پہلی ڈولفن دراصل ایک عورت تھی جسے ایک بزرگ نے کھانا نہ کھلانے کی وجہ سے بددعا دی تھی اور وہ دریائی مخلوق بن گئی تھی۔

پچھلی نسلیں اس وجہ سے ڈولفن کو جسے مقامی زبان میں بُلن کہا جاتا ہے، ملعون قرار دیتی تھیں۔ 

انڈس ڈولفن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ایک ارتقائی عمل سے مکمل اندھی ہو گئی جس کے بعد اس نے ایک ایسا سینسر پیدا کر لیا جس کے ذریعے وہ دریا کے گدلے پانیوں میں شکار کر پاتی ہے۔

ماہی گیری کے مضر طریقوں سے ہی ڈولفن کو خطرات کا سامنا نہیں ہوتا ہے بلکہ ہر سال جنوری میں جب دریا میں پانی کی سطح انتہائی نچلی سطح پر پہنچ جاتی ہے تو صفائی کے لیے بیراجوں کے فلڈ گیٹ بند کر دیے جاتے ہیں جس سے دریا تالاب اور جھیلوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو ان میں پھنسے ہوئے آبی حیات کے لیے موت کا جال بن جاتے ہیں۔

محکمہ وائلڈ لائف کے عہدیدار عدنان حامد خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ڈولفن کی آبادی میں لگاتار اضافہ ’کامیابی کی ایک کہانی‘ ہے۔

لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’ان کی بڑی آبادی کے ساتھ ہی خوراک کی قلت، نقل و حرکت محدود ہونا اور بریڈنگ کے لیے مسکن کا سکڑنا بڑے مسائل ہیں۔‘

انڈس ڈولفن کو برطانیہ کی نوآبادیاتی حکومت کے دوران سب سے پہلے اس وقت خطرہ لاحق ہوا تھا جب آبی گزرگاہوں کے بہاو کو کنٹرول کرنے کے لیے ڈیمز اور بیراج تعمیر کیے گئے تھے اور بعد میں جب اس کے کنارے کارخانے قائم کیے گئے تو ان سے خطرناک کیمیکل خارج ہونے سے دریا میں آلودگی پھیل گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدنان حامد خان نے کہا تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں اور قصبوں کا نکاسی کا پانی بغیر صاف کیے دریا میں ڈال دیا جاتا ہے۔

لیکن ماہی گیروں کی جانب سے کی جانے والی کوششیں ڈولفن کی بقا کے لیے امید کی کرن ہیں۔

ایک اور رضاکار غلام اکبر نے کہا: ’اب ہم اتنی ہی لگن کے ساتھ ڈولفنز کو بچاتے ہیں جس لگن سے ہم انسانوں کو بچاتے ہیں۔‘

ان کے بقول: ’وہ بھی ہم انسانوں کی طرح سانس لیتی ہیں۔ ہر ہمدرد انسان کو انہیں بچانا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات