گھر سے خطوط کے ذریعے انتخابی مہم چلانے والی کشمیری خاتون امیدوار

رائیدہ ریاض کے والد محمد ریاض منہاس نے بتایا کہ ’ہم نے کوئی جلسہ کیا ہے نہ کوئی کارنر میٹنگ۔ بلکہ میری بیٹی مجھے خط لکھ کر دیتی تھی جو میں پرنٹ کروا کر گھر گھر پہنچا دیتا تھا۔ میں نے حلقہ وسطی باغ کے چودہ ہزار گھروں میں خطوط پہنچائے ہیں۔

نائلہ شاہ زمان کا تعلق مظفر آباد کے علاقے لچھراٹ سے ہے اور وہ قانون ساز اسمبلی کے لیے عام آدمی پارٹی کی امیدوار ہیں (انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے جس میں ایک خاتون امیدوار نے گھر سے خطوط کے ذریعے اپنی انتخابی مہم چلائی ہے۔  

انڈپینڈنٹ اردو نے جب حلقہ وسطی باغ سے پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی واحد خاتون امیدوار رائیدہ ریاض سے رابطہ کیا تو فون ان کے والد محمد ریاض منہاس نے اٹھایا۔ جب رائیدہ ریاض سے بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو ان کے والد نے کہا ’میں اپنی بیٹی کو میڈیا پر نہیں لانا چاہتا۔ آپ نے جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھ لیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کے استفسار پر محمد ریاض منہاس نے بتایا کہ ان کی بیٹی رائیدہ ریاض نے ایجوکیشن میں ماسٹر کر رکھا ہے اور وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔

’میری بیٹی نے مجھے خط لکھ کر دیے جو میں نے حلقہ وسطی باغ کے 14 ہزار گھروں میں تقسیم کیے ہیں۔ میں نے اپنی بیٹی کو الیکشن مہم کے دوران کہیں پر بھی سامنے نہیں آنے دیا۔‘

بھرپور انتخابی مہم چلانے والی خاتون امیدوار

نائلہ شاہ زمان کا تعلق مظفر آباد کے علاقے لچھراٹ سے ہے اور وہ قانون ساز اسمبلی کے لیے عام آدمی پارٹی کی امیدوار ہیں۔

نائلہ شاہ زمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ وہ لچھراٹ کی تاریخ کی پہلی خاتون امیدوار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’خاتون امیدوار ہونے کی وجہ سے انتخابی مہم چلانے میں کافی دشواریاں پیش آتی ہیں۔ مگر مجھے زیادہ مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ میں صحافت کے پیشے سے سیاست میں آئی ہوں۔‘

نائلہ شاہ زمان نے بتایا کہ ’میں انتخابی مہم کے دوران گھر گھر گئی ہوں اور اپنے حلقے کی خواتین اور نوجوان ووٹرز کو اپنا پیغام پہنچایا ہے۔‘

نائلہ شاہ کے مطابق : ’میں پہلے تحریکِ انصاف سے منسلک تھی مگر انتخابات سے پہلے پارٹی ٹکٹس کی غیر منصفانہ تقسیم پر بطور احتجاج اس سے الگ ہو گئی۔‘

رائیدہ ریاض نے گھر بیٹھ کر انتخابی مہم کیسے چلائی؟

انتخابی مہم کی سرگرمیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے قانون ساز اسمبلی کی خاتون امیدوار رائیدہ ریاض کے والد محمد ریاض منہاس نے بتایا کہ ’ہم نے کوئی جلسہ کیا ہے نہ کوئی کارنر میٹنگ۔ بلکہ میری بیٹی مجھے خط لکھ کر دیتی تھی جو میں پرنٹ کروا کر گھر گھر پہنچا دیتا تھا۔ میں نے حلقہ وسطی باغ کے چودہ ہزار گھروں میں خطوط پہنچائے ہیں۔ ان خطوط میں حلقے کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو مخاطب کر کے اپنے حالات بدلنے کے لیے رائیدہ کو ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کے استفسار پر خاتون امیدوار کے والد نے بتایا کہ ’پوری انتخابی مہم کے دوران رائیدہ ریاض کو سامنے نہیں لایا گیا۔ حلقے کے ریٹرننگ آفیسر کے سامنے بھی میں خود پیش ہوا اور تمام دستاویزات جمع کروائیں۔

’رائیدہ کو سامنے نہ لانے کی کوئی خاص وجہ نہیں۔ ہمارے حلقے کا ماحول دیہاتی ہے۔ یہاں پر بڑی بڑی گاڑیاں اور اشتہار دیکھ کر لوگ سہم جاتے ہیں۔ اس لیے ہم نے ریڈیو، سوشل میڈیا، ویڈیو پیغامات اور موبائل فون پر تحریری پیغامات کے ذریعے ہی اپنی مہم چلائی۔‘

محمد ریاض منہاس کے مطابق ویڈیو پیغامات اور ریڈیو اشتہارات میں بھی کہیں پر رائیدہ کی تصویر، آواز یا جھلک موجود نہیں ہے۔ انتخابی مہم کے دوران پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے محمد ریاض نے بتایا کہ ’ہمارے بینرز اور اشتہارات جو سڑکوں کے کنارے آویزاں کیے گئے تھے راتوں رات اتار لیے گئے ہیں۔‘

انڈپینڈٹ اردو کے ایک سوال کے جواب میں محمد ریاض نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی قیادت کو رائیدہ کی جانب سے بذات خود مہم نہ چلانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی کشمیر شاخ کے صدر منیر حسین چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ ’غنویٰ بھٹو ہماری سربراہ ہیں جو خود ایک خاتون ہیں۔ اس لیے ہم خواتین کی پارلیمانی نمائندگی پر بھرپور یقین رکھتے ہیں۔‘

رائیدہ ریاض کی جانب سے بذات خود کمپین نہ چلانے پر بات کرتے ہوئے منیر حسین چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ہم اسی ذہنیت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس الیکشن میں تو نہیں لیکن آئندہ الیکشن میں آپ دیکھیں گے کہ پڑھی لکھی خواتین الیکشن میں بھرپور حصہ لیں گی۔‘

انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے والی خواتین امیدوار

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لیے 45 نشستوں پر براہِ راست انتخابات کا انعقاد 25 جولائی کو گا۔ الیکشن کمیشن کی دستاویزات کے مطابق 45 نشستوں پر تقریباً 700 امیدوار مد مقابل ہیں جن میں سے صرف 11 خواتین کے پاس مختلف سیاسی جماعتوں کے ٹکٹس ہیں۔

سیاسی جماعتوں کی جانب سے ٹکٹس حاصل کرنے والی خواتین میں مہرالنسا کا تعلق مسلم کانفرنس، نورین عارف کا مسلم لیگ نواز، لائبہ کوثر کا جعفریہ سپریم کونسل، صائمہ مختار کا جموں کشمیر عوامی اتحاد اور نبیلہ ارشاد کا جموں کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔ نبیلہ ارشاد اپنی پارٹی کی بانی بھی ہیں۔

اسی طرح نازیہ نیاز، نسیمہ خاتون اور شاہدہ صغیر کا تعلق پاکستان تحریکِ انصاف سے ہے۔ شاہدہ صغیر پارٹی ٹکٹ کے لیے تحریک انصاف کی پہلی پسند نہیں تھیں بلکہ انہیں اپنے شوہر سردار صغیر کی حادثاتی موت کے بعد خلا پُر کرنے کے لیے ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔

عام آدمی پارٹی کی جانب سے نسرین فاروق اور نائلہ شاہ زمان کو ٹکٹ جاری کیے گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر