کشمیر: ڈھائی صوبوں کا انتخابی حلقہ، ایک ووٹر کے لیے پولنگ سٹیشن

25 جولائی کو انتخابات پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہو رہے ہیں مگر پولنگ پاکستان بھر کے مختلف علاقوں میں ہو گی۔

21 جولائی 2016 کو ہونے والے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن میں ایک معمر شخص مظفر آباد میں اپنا ووٹ کاسٹ کر رہے ہیں (اے ایف پی/ فائل)

25 جولائی کو ہونے والے انتخابات اگرچہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے ہیں تاہم ان کے لیے پولنگ پورے پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہو گی۔

قانون ساز اسمبلی کی 45 براہ راست نشستوں میں سے 12 نشستیں ان کشمیری پناہ گزینوں کے لیے مختص ہیں جنہوں نے 1947 سے لے کر 1989 کے درمیان مختلف اوقات میں بھارت کے زیر انتظام علاقوں سے نقل مکانی کی اور اب پاکستان کے کئی شہروں میں آباد ہیں۔

ان انتخابی نشستوں میں سے چھ نشستیں صوبہ جموں اور چھ وادی کشمیر سے نقل مکانی کر کے آنے والے پناہ گزینوں کے لیے مختص ہیں۔ مہاجرینِ جموں کے لیے مختص حلقوں میں ووٹرز کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے اور ہر حلقے میں اوسطاً 50 سے 60 ہزار ووٹ درج ہیں۔

جبکہ وادی کشمیر کے مہاجرین کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ان کے لیے مخصوص چھ انتخابی حلقوں میں کل ووٹس کی اوسط تعداد پانچ سے چھ ہزار فی حلقہ ہے۔

پاکستان میں مقیم کشمیریوں کے 12 حلقوں میں ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 3 ہزار 456 ہے اور یہاں 56 آزاد امیداروں سمیت کل 121 امیدوار آمنے سامنے ہیں۔

ڈھائی صوبوں پر مشتمل ایک انتخابی حلقہ

اگرچہ ان انتخابی حلقوں میں سے زیادہ تر بالائی پنجاب خصوصاً راولپنڈی ڈویژن میں ہیں تاہم ایک انتخابی حلقہ ایسا بھی ہے جو پاکستان کے ڈھائی صوبوں، یعنی رقبے کے لحاظ سے لگ بھگ پونے پاکستان پر مشتمل ہے۔

حلقہ ایل اے 34 جموں 1 کے نام سے جانے جانے والے اس حلقے کی حدود لاہور سے شروع ہو کر کراچی اور کوئٹہ تک پھیلی ہوئی ہے۔ 

اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹس 17 ہزار 700 ہیں اور پی ٹی آئی کے ریاض احمد، پیپلز پارٹی کے زاہد اقبال، مسلم لیگ (ن) کے ناصر حسین ڈار، پاک سر زمین پارٹی کے شاہ عبدالطیف فیصل، کالعدم ٹی ایل پی کے فضل الرحمٰن، پاکستان عوامی تحریک کے محمد طاہر کھوکھر اور مسلم کانفرنس کے محمد عجائب کے درمیان مقابلہ ہے۔ 

ان امیدواروں میں سے طاہر کھوکھر 2006 اور 2011 میں ایم کیوایم کے ٹکٹ پر الیکشن جیت چکے ہیں جبکہ ناصر ڈار نے 2016 میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔

اگرچہ زیادہ تر ووٹس پنجاب کے شہروں لاہور، خوشاب، چنیوٹ کے علاوہ  سندھ میں کراچی اور بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ہیں تاہم  ملتان، بہاولپور، رحیم یار خان، بہاولنگر، سندھ کے چھوٹے شہروں گھوٹگی اور ڈہرکی وغیرہ میں بھی اس انتخابی حلقے کے  ووٹ رجسٹرڈ ہیں۔

اس کے علاوہ بلوچستان کے شہروں قلات، سبی اور گوادر کے ارد گرد مقیم کشمیری خاندانوں کے ووٹ بھی اس ہی حلقے میں رجسٹر ہیں۔

دوہرے ووٹ کے اخراج سے ووٹروں کی تعداد میں کمی

اس حلقے سے ماضی میں دو مرتبہ انتخاب جیتنے والے امیدوار طاہر کھوکھر نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ جموں ون حلقے میں 2006 میں رجسٹرڈ ووٹس کی تعداد 58 ہزار تھی اور 2011 میں 71 ہزار تھی اور ان میں سے زیاد تر ووٹ کراچی شہر میں تھے۔

یہی وجہ سے کہ اس نشست پر دو مرتبہ ایم کیو ایم نے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان میں کئی ووٹر ایسے تھے جن کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تھا اور وہ کراچی اور دوسرے شہروں میں روزگار کے لیے مقیم تھے۔

ایسے ووٹرز کے ووٹ نقل مکانی کرکے آنے والوں کے حلقوں کے ساتھ ساتھ ان کے آبائی حلقوں میں بھی درج تھے۔ 2016 میں دوہرے ووٹ کے اخراج کے بعد اس حلقے میں ووٹروں کی تعداد 29 ہزار رہ گئی ہے اور سندھ کے بجائے پنجاب میں ووٹروں کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے یوں مسلم لیگ (ن) نے اس حلقے سے پہلی مرتبہ کامیابی حاصل کی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ 2012 میں نئی ووٹر لسٹس کی تیاری کے بعد اس حلقے میں ووٹرز کی تعداد صرف 17 ہزار 700 رہ گئی ہے اور ان میں سے زیادہ تر ووٹ پنجاب میں جبکہ سندھ اور بلوچستان میں تقریباً دو ہزار ووٹس رجسٹرڈ ہیں۔

ایک ووٹر کے لیے پولنگ سٹیشن

پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے کئی شہروں میں اس حلقے کے ووٹروں کی تعداد 10 سے بھی کم ہے تاہم مقامی سطح پر ان کے لیے بھی پولنگ سٹیشن قائم کر کے پولنگ عملے کا تقرر کیا گیا ہے تا کہ وہ اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں۔ طاہر کھوکھر کے بقول لاڑکانہ شہر میں صرف ایک ووٹ درج ہے مگر پولنگ سٹیشن قائم کیا گیا ہے۔ اسی طرح بلوچستان کے شہروں قلات، سبی اور گوادر میں وٹروں کی تعداد ایک درجن سے کم ہے مگر وہاں بھی پولنگ سٹیشن موجود ہیں۔

مہاجرین کے حلقوں میں انتخابات کا طریقہ کار

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان حلقوں میں انتخابی عمل کے انتظامات کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے الیکشن کمیشن کو براہ راست رسائی نہیں اور یہ انتخابات مقامی صوبائی انتظامیہ کی مدد سے ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن ان حلقوں میں انتخابات منعقد کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ کی مدد حاصل کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مہاجرین کے ان حلقوں کے بارے میں ہمیشہ سے یہ تاثر مضبوط رہا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں ان حلقوں کے نتائج پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔

چونکہ 9 انتخابی حلقے پنجاب، 2 سندھ/ بلوچستان اور ایک انتخابی حلقہ خیبر پختونخوا میں واقع ہے، اس لیے پنجاب کی صوبائی حکومت اور ممبران صوبائی و قومی اسمبلی ان حلقوں کے انتخابات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں حالیہ عرصے میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج اور مسلم لیگ (ن) کی ان ضمنی انتخابات میں دلچسپی اور سرگرمی کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس مرتبہ پنجاب کے 9 انتخابی حلقوں میں نتائج کا کسی ایک جماعت کے حق میں یکطرفہ طور پر سامنے آنا کافی مشکل ہو گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے موجودہ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر سمیت کئی سیاسی قائدین ان نشستوں پر انتخابات کے طریقہ کار میں تبدیلی لا کر وفاق کی مداخلت کا راستہ بند کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں مگر اقتدار میں آنے کے بعد عملاً کوئی اقدامات نہیں کرسکے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ نشستیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت سازی میں اسٹیبلشمنٹ کا اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں اور اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ ایسی کوششوں کا ناکام کیا جن کے ذریعے ان نشسستوں پر انتخابات کے طریقہ کار کو بدلنے کی کوشش کی گئی ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست