بیٹے کے علاج کے لیے کروڑوں کے عطیات جمع کرنے والی ماں

نمرہ نے اپنے چار سالہ بیٹے آسلان کی انتہائی پیچیدہ بیماری کے علاج کے لیے سوشل میڈٰیا کے ذریعے چندہ اکھٹا کیا اور اب وہ علاج کے لیے امریکہ جا رہی ہیں۔

آج ہم آپ کو ایک ایسی ماں سے ملوا رہے ہیں جنہوں نے اپنے بیمار بچے کے علاج کے لیے چندہ جمع کر کے ایک بڑی رقم اکٹھی کی اور اب اسے آپریشن کی خاطر بیرون ملک لے جا رہی ہیں۔

راولپنڈی کی نمرہ ایک ورکنگ وومن ہیں اور ان کا اکلوتا بیٹا چار سالہ سید محمد آسلان ایک ایسی پیچیدہ بیماری کا شکار ہے جو لاکھوں لوگوں میں سے صرف ایک شخص کو ہو سکتی ہے۔

پیدائش کے 13ویں روز آسلان کے پیٹ میں مسئلہ پیدا ہوا اور اسے ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا، جنہوں نے تفصیلی معائنے کے بعد والدین کو دل کے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ لینے کی ہدایت کی۔

اس کے بعد نمرہ اور ان کے شوہر کے لیے ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کے چکر لگانے کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا کیونکہ آسلان کی بیماری کی تشخیص نہیں ہو رہی تھی، اور یوں ڈھائی سال گزر گئے۔

اس مشکل وقت کے دوران وہ اپنے بیٹے کو پاکستان کے ہر بڑے ہسپتال اور ماہر ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے اور تب کہیں جا کر عارضے اور علاج سے متعلق کچھ معلوم ہوا۔

نمرہ نے آسلان کی بیماری کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے بیٹے کا دل اور معدہ جسم کے بائیں نہیں دائیں طرف ہیں جبکہ دل سینے میں الٹا ہے یعنی دل کا رخ آسلان کی کمر کی جانب ہے۔

اسی طرح دل میں ایک بہت بڑا سوراخ ہے جس کے باعث اس کا صاف اور گندا خون دل میں اکٹھا ہو جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بچے کے جسم میں لبلبہ اور پتہ بھی نہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی بیماری آسانی سے ہونے کے خدشات زیادہ ہیں۔

بیماری کی تشخیص کے بعد اس کے علاج کا مرحلہ آیا تو پہلے سے پریشان والدین کو بتایا گیا کہ آسلان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں بلکہ اس خطے کے کسی بھی ملک میں ایسا کوئی ہسپتال نہیں جہاں معصوم بچوں کے بے ترتیب اعضا کی ترتیب کو درست کیا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم ڈاکٹروں سے معلوم ہوا کہ امریکہ میں بوسٹن چلڈرن ہسپتال کے ماہرین نے دل کی سرجری کا ایک مخصوص طریقہ ایجاد کیا ہے جس کے ذریعے آسلان کو نارمل زندگی کی طرف واپس لایا جا سکتا ہے۔

نمرہ کا کہنا تھا کہ علاج ہونے کے امکانات کا سن کر انہیں بہت خوشی ہوئی۔ ’ہم نے سوچا چلو ہمارے بچے کی زندگی بچ جائے گی اور وہ ایک صحت مند انسان بن جائے گا۔‘

لیکن ابھی مشکلات اور مسائل ختم نہیں ہوئے تھے کیونکہ بوسٹن چلڈرن ہسپتال رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ علاج پر کم از کم ساڑھے تین کروڑ روپے کا خرچ اٹھے گا۔

نمرہ کہتی ہیں: ’خرچے کا سن کر ہمارے پیروں تلے سے زمین نکل گئی، اتنے پیسے ہم کہاں سے لاتے، ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں تھا، علاج کیسے کروا سکیں گے۔‘

نمرہ اور ان کے شوہر نے علاج کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کا سوچا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے سوشل میڈیا کو استعمال کیا۔

انہوں نے ٹوئٹر، انسٹاگرام، فیس بک کو استعمال کیا۔ نمرہ کا کہنا تھا: ’کسی نے سو روپے دیے، کسی نے ہزار اور کسی نے ایک لاکھ روپے، ہر کوئی پیسے دے رہا تھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی کئی معروف شخصیات جن میں فنکار، کھلاڑی، سیاست دان اور ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے آسلان کے علاج کے لیے چندہ دیا۔

ماہ رواں کی 12 تاریخ کو نمرہ نے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم ختم کرنے کا اعلان کیا کیونکہ ان کو مطلوبہ رقم مل گئی ہے۔

آسلان اسی سال ستمبر میں امریکہ جا رہا ہے جہاں اس کے پیچیدہ عارضوں کا علاج کیا جائے گا۔

اپنے بچے کے لیے چندہ اکٹھا کرنے میں کامیابی کے بعد نمرہ کا کہنا ہے کہ وہ اور آسلان اب پاکستان کے ایسی ہی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا بچوں کا علاج ممکن بنانے کا کام کریں گے تاکہ انہیں عمدہ سہولتیں پاکستان میں میسر ہو سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا