موسیقی کا قدیم ساز ’چنگ‘ جسے خاص انداز میں ہلا کر آواز نکالی جاتی ہے

زمانہ قدیم کے ایجاد کردہ سازوں میں سے ایک چنگ ہے۔ اس میں بظاہرلگتا ہےکہ بجانے والا شخص منہ سے آواز نکال رہا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ آواز ایک باریک تار سے نکل رہی ہوتی ہے جسے ایک مخصوص طریقے سے ہلا کر آواز نکالی جاتی ہے۔

بلوچستان کے لوگوں میں موسیقی کا شوق زمانہ قدیم سے موجود ہے جو وقت کے ساتھ جدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

زمانہ قدیم کے ایجاد کردہ سازوں میں سے ایک چنگ ہے۔ اس میں بظاہرلگتا ہے کہ بجانے والا شخص منہ سے آواز نکال رہا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو یہ آواز ایک باریک تار سے نکل رہی ہوتی ہے جسے ایک مخصوص طریقے سے ہلا کر آواز نکالی جاتی ہے۔

یہ آلہ کبھی یہاں کی علاقائی موسیقی کا لازمی جز ہوا کرتا تھا جس کا استعمال اب آہستہ آہستہ کم ہوتا جا رہا ہے۔

محمد اقبال چنگ بجانے میں مہارت رکھتے ہیں یہ فن ان کو ان کے والد سے ملا۔ وہ اس خاندان کی تیسری نسل سے ہیں جنہوں نے چنگ کا فن زندہ رکھا ہوا ہے۔

اقبال سمجھتےہیں کہ چنگ کا فن خاتمے کی طرف گامزن ہے کیوں کہ اس کے بجانے والے اب صرف وہ ہی رہ گئے ہیں۔

ان کے والد ریڈیو اور پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے ریکارڈ ہونے والے گانوں میں چنگ بجاتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ جب یہ فن عروج پر تھا تو بلوچی اور براہوی زبان میں گائے جانے والے تمام گانوں میں چنگ کا ساز بھی شامل ہوتا تھا۔ اب آہستہ آہستہ جدت آنے اور نئے ساز آنے کے بعد یہ ختم ہو رہا ہے۔

اقبال کو جہاں ایک طرف چنگ بجانے میں مہارت حاصل ہے وہاں وہ اس کو بناتے بھی خود ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ چنگ ایک تار سے بنتا ہے جو ریتی سے بنایا جاتا ہے۔ یہ منہ میں رکھ کر بجاتے ہیں، زبان سے سانس دیتے ہیں، جس سے سر بنتا ہے۔

اقبال نے بتایا کہ جب قدیم زمانے میں لوگ پہاڑوں میں رہتے تھے تو اس وقت چنگ بنایا گیا اور چرواہے مال مویشیوں کو جب چرانے پہاڑوں پر چلے جاتے تھے تو وہ چنگ بجاتے تھے۔

اقبال کے بقول ’جب کوئی سٹوڈیو والے پرانا بلوچی پرانا گانا ریمکس کرتے ہیں تب وہ ہمیں کبھی کبھی بلا لیتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ پاکستان کی سطح پر جب کوئی ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا جاتا ہے تو اس میں ہم اپنے وفد کے ہمراہ شرکت کرتے ہیں۔

اقبال کےمطابق: پہلے پہل ہمارے دادا وغیرہ جو گدانوں( بلوچستان کے خانہ بدوشوں کا جھونپڑی نما گھر) میں رہائش رکھتے تھے اور اس وقت ٹی وی اور ریڈیو کی سہولت موجود نہیں تھی تو انہوں نے وقت گزارنے کے لیے چنگ بجانا شروع کیا، بعد میں یہ ساز گانوں کے موسیقی میں استعمال ہونے لگا۔

اقبال نے بتایا کہ اس زوال پذیر ساز کو اگر مزید لوگوں کو سکھانے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے تو آنے والے دور میں یہ قصہ پارینہ بن کر میوزیم کی زینت بن جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی