آپریشن تھیئٹر میں رکشہ کیسے آیا؟ سوشل میڈیا پر بحث

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل کی جانب سے شیئر کی گئی تربت کے مرکزی ہسپتال کے آپریشن ٹھیئٹر سے نکلتے ایک چنگچی رکشے کی تصویر آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور لوگ اس پر مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔

یہ تصویر بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے ٹوئٹر پر شیئر کی(فوٹو: سردار اختر مینگل ٹوئٹر)

بلوچستان کے ضلع کیچ میں تربت کے مرکزی ہسپتال کے آپریشن تھیئٹر سے نکلتے ایک چنگچی رکشے کی تصویر آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

یہ تصویر بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور رکن قومی اسمبلی سردار اختر مینگل نے ٹوئٹر پر شیئر کی اور ساتھ میں لکھا: ’ٹیچنگ ہسپتال تربت، یہاں آپ سب دیکھ سکتے ہیں کہ سی پیک اپنے عروج پر ہے۔‘

یہ ٹویٹ ایک دلچسپ بحث کا باعث بنی ہوئی ہے جہاں کچھ لوگ سردار اختر مینگل کو تصویر شیئر کرنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے بدتر صورت حال تو ان کے اپنے علاقے وڈھ میں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک صارف شہزاد خان غلامانی نے ٹوئٹر پر ایک تصویر شیئر کی، جس میں ایک شخص لیٹا ہوا ہے اور اسے گدھا گاڑی کے ذریعے لے جایا جارہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سردار اختر مینگل کو مخاطب کیے بغیر لکھا: ’انہیں تو پھر بھی چنگچی رکشہ نصیب ہوا لیکن جناب یہ تصویر آپ کے اپنے حلقے وڈھ کی ہے، جس کے آپ سیاہ و سفید کے مالک کہلواتے پھرتے ہیں۔‘

ایک اور صارف نے وڈھ کی تصویر شیئر کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے لکھا: ’مطلب تربت کے ہسپتال میں بھلے ہی رکشے کھڑے ہوں، مسئلہ وڈھ کا ہے۔‘

میر عزیز لہڑی نے ایک شعر لکھا  ؎

ایک ہی الو کافی تھا برباد گلستان کرنے کو

ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا

انہوں نے ایک ٹویٹ کو بھی شیئر کیا، جس میں بولان میڈیکل کمپلیکس کی تصویریں ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’بی ایم سی ہسپتال کوئٹہ میں صفائی کی ناقص صورتحال اور شراب کی درجنوں بوتلیں ہیں۔ مریضوں کا نشے میں کیا اور کیسے علاج ہوتا ہوگا۔ سوچنے کی بات ہے؟‘

مجف نامی صارف لکھتے ہیں کہ ’آپ اسے بہتر بناسکتے ہیں۔ اپنی گاڑی عطیہ کرکے۔‘

معاملہ صرف ٹوئٹر صارفین اور سرداراختر مینگل تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں حکومتی نمائندے بھی شامل ہوگئے، جن کا اصرار ہے کہ یہ تصویر حقیقی نہیں ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے سردار اختر مینگل کو ٹویٹ کے ذریعے جواب دیا: ’محترم سردار اختر مینگل صاحب میں ہمیشہ آپ سے التجا کرتا رہا ہوں کہ چیزوں کی پہلےتصدیق کرلیں اور بعد میں انہیں ٹویٹ لیکن۔۔۔‘

انہوں نے مزید لکھا: ’میں نے ابھی تربت ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے رابطہ کیا۔ انہوں نے سادہ سا جواب دیا کہ اگر یہ تربت ہسپتال کی تصویر ہے تو وہ اپنےعہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ مقامی صحافیوں نے بھی ان سے رابطہ کیا اور انہوں نے چیلنج کیا کہ ’اسے ثابت کیا جائے۔ پلیز اسے ثابت کریں۔‘

دوسری جانب صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی نے ٹوئٹر پر لکھا: ’یہ فوٹو شاپ شدہ تصویر ہے۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال تربت صحت کی تمام سہولیات فراہم کر رہا ہے، جہاں نہ صرف تربت بلکہ پورے مکران ڈویژن سے مریض آتے ہیں۔ ہسپتال میں روزانہ او پی ڈی میں 1500 مریضوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ ایک اور سٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال حکومت پنجاب اور بلوچستان حکومت کے تعاون سے بن رہا ہے۔‘

یہاں پر صورتحال تبدیل ہوگئی اور صارفین نے صوبائی وزیر خزانہ سے سوالات شروع کردیے کہ کیا وہ اس تصویر کو غیر حقیقی ثابت کرسکتے ہیں؟

جلیلہ حیدر نے ظہور بلیدی کوجواب دیتے ہوئے لکھا: ’کیا آپ اصل تصویر کے ذرائع شیئر کرسکتے ہیں تاکہ ہمیں معلوم ہوسکے کہ یہ فوٹو شاپ ہے؟‘

ایک دوسرے صارف میر بہرام لہڑی بحث میں پڑھنے کی بجائے لکھتے ہیں کہ ’ہم اس قسم کی فوٹو شاپ والے تصاویر کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔‘

احمد جمیل نامی صارف نے لکھا کہ ’موقع ملے تو آپ یا وزیراعلیٰ یا لیاقت شہوانی سول ہسپتال کوئٹہ کا دورہ کریں۔ مین گیٹ سے لے کر آخر تک منشیات کے عادی افراد ہر وقت موجود ہوتے ہیں اور ہسپتال کا سارا گند گیٹ کے باہر ہر آنے اور جانے والے مریضوں کا استقبال کرتا ہے۔‘

فہدخان نامی صارف نے لکھا کہ ’اگر یہ فوٹو شاپ  تصویر ہے تو پھر ایڈیٹر کون ہے۔ بہترین کام اس نے کیا ہے۔ ان میں نہ حیا ہے نہ شرم۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل