ریپ انویسٹی گیشن یونٹ کے لیے نہ پیسے ہیں، نہ وسائل: پنجاب پولیس

لاہور ہائی کورٹ میں ریپ کے ملزم کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے جسٹس علی ضیا باجوہ کا کہنا تھا کہ ریپ اور جنسی تشدد کے مقدمات میں اضافہ لمحہ فکریہ ہے اور حکومت اور سکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے۔

رواں برس کے پہلے سات ماہ میں صوبہ پنجاب میں 13 ہزار 307 اور 20 ہزار 942 کیسز شیڈول ون اور ٹو کے تحت رجسٹرڈ ہوئے(فائل فوٹو: اے ایف پی)

لاہور ہائی کورٹ میں سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) پنجاب کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ محکمہ پولیس کے پاس اینٹی ریپ انویسٹی گیشن یونٹ بنانے کے لیے نہ تو فنڈز ہیں اور نہ ہی وسائل۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس علی ضیا باجوہ نے بدھ کو ریپ کیس کے ایک ملزم کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے کرمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کرنے اور سقم دور کرنے کا حکم جاری کیا۔

جسٹس علی ضیا باجوہ نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ ’ریپ اور جنسی تشدد کے مقدمات میں اضافہ ملک اور معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور حکومت اور سکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے ہدایت کی کہ ’ایسے مقدمات کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تفتیشی ٹیمیں بنائی جائیں، جن کی سربراہی ایس پیز کریں اور اس میں ڈی ایس پیز، انسپیکٹرز اور خاتون پولیس افسران بھی شامل ہوں۔‘

 بدھ کو ہونے والی سماعت میں اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل، آئی ٹی او) آرڈینینس 2020 پر بحث کے دوران بیرسٹر محمد احمد پنسوتا عدالتی معاون کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بیریسٹر احمد پنسوتا نے بتایا کہ ’ریپ کیس میں ایک ملزم نے اپنی ضمانت کی درخواست دی تھی، جس کی سماعت کے دوران معزز جج جسٹس علی ضیا باجوہ نے استفسار کیا کہ اس ریپ کیس کی تفتیش نئے اینٹی ریپ آرڈیننس 2020 کے تحت کیوں نہیں ہوئی؟‘

پنسوتا کے مطابق: ’معزز جج نے اس سوال کا جواب پولیس سے طلب کیا، جس کے جواب میں پولیس والوں کا کہنا تھا کہ انہیں اس نئے قانون کا علم نہیں تھا۔ یہ قانون 2020 میں آیا تھا لیکن ہمیں اس کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا تھا۔‘

عدالتی معاون وکیل نے بتایا کہ ’اس کے بعد جسٹس علی ضیا باجوہ نے ڈی آئی جی لیگل کو بلایا اور ان سے پوچھا کہ انہوں نے اس قانون کے حوالے سے پولیس کے شعبہ جات کو کیوں مطلع نہیں کیا؟‘

بیرسٹر احمد پنسوتا نے بتایا کہ ’اس کیس میں عدالت نے میری معاونت اس حد تک مانگی تھی کہ کیا آرڈیننس لانا اچھا عمل ہے یا نہیں؟ دوسرا انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ اگر ایک قانون موجود ہے اور اس کے تحت آپ تفتیش کرنے میں ناکام ہو جائیں تو اس کے قانونی نتائج کیا ہوتے ہیں؟‘

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اگر قانون کے تحت تفتیش نہیں کی جاتی تو پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 22 کے تحت جرمانے اور تین سال کی سزا ہو سکتی ہے۔

عدالت کی معاونت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عموماً تو آرڈیننس کی تین شرائط پوری کرنی ہوتی ہیں، جن کے تحت آرڈیننس لایا جاسکتا ہے اور اس کیس میں یہ شرائط اس لیے پوری ہوسکتی تھیں کیونکہ زینب ریپ اور قتل کیس اور اس کے بعد موٹر وے ریپ کیس کے تناظر میں ایک الارمنگ صورتحال تھی جس کے لیے جلد از جلد قانون سازی کی ضرورت تھی۔

بدھ کو اینٹی ریپ (آئی ٹی او) آرڈیننس کے حوالے سے عدالت نے وفاقی، صوبائی حکومت اور آئی جی آفس سے بھی جوابات طلب کیے۔ سی پی او کی جانب سے پنجاب بھر کے 36 اضلاع کا کرمنل ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سی پی او پنجاب کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ کے مطابق رواں برس کے پہلے سات ماہ میں صوبے بھر میں 13 ہزار 307 اور 20 ہزار 942 کیسز شیڈول ون اور ٹو کے تحت رجسٹرڈ ہوئے، جس میں سے کسی ایک کیس کی تفتیش بھی انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل آرڈیننس 2020 کے تحت نہیں کی گئی۔ جس پر معزز جج کا کہنا تھا کہ ’یہ بہت حیران کن انکشاف ہے کہ کسی بھی کیس کا اب تک فیصلہ نہیں ہوسکا، جو کہ تفتیشی اداروں کی نااہلی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔‘

سی پی او پنجاب کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ پولیس کے پاس اینٹی ریپ انویسٹی گیشن یونٹ قائم کرنے کے نہ تو پیسے ہیں اور نہ ہی وسائل۔ یونٹ قائم کرنے کے لیے پولیس  کو ابتدائی طورپر 4.9 ارب روپے اور سالانہ 2.85 ارب روپے درکار ہوں گے تاکہ وہ اس آرڈیننس پر عملدرآمد کروا سکیں۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا کہ 13 اگست سے قبل سینیٹ میں یہ آرڈیننس پاس ہو جائے گا۔

عدالتی معاون بیریسٹر احمد پنسوتا نے عدالت کو بتایا کہ انویسٹی گیشن ایجنسی  نے شفافیت کے اصولوں اور اپنے فرائض کے مطابق کام نہیں کیا اور تفتیشی افسر نے قانون کے مطابق تفتیش بھی نہیں کی۔ انہوں نے عدالت سے سفارش کی کہ تفتیشی افسر کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی ہونی چاہیے۔

جسٹس علی ضیا باجوہ نے اینٹی ریپ (آئی ٹی او) آرڈیننس 2020 کے نفاذ کے لیے نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں لکھا گیا کہ اینٹی ریپ (آئی ٹی او) آرڈیننس نافذ ہوئے سات ماہ گزر گئے مگر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اینٹی ریپ آرڈیننس پر عملدرآمد نہ کرنے کے پولیس کے تمام جواز ناقابل قبول ہیں۔

فیصلے کے مطابق اینٹی ریپ آرڈیننس پر عمل نہ کرکے پولیس نے سات ماہ کے دوران 34 ہزار 249 بار قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سنٹرل پولیس آفس پنجاب کی رپورٹ نے انویسٹی گیشن ایجنسی کی کند ذہنی اور نااہلی کا انکشاف کیا ہے اور اربوں روپے ملنے کے باوجود قانون پر عملدرآمد نہ کرنے کے استفسار پر ڈی آئی جی نے تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کو بھی ہدایت کی کہ وہ فیصلے کی روشنی میں اینٹی ریپ آرڈیننس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا کہ زیادتی کے مقدمات میں شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے لیے اعلیٰ پولیس افسران کو تحقیقات کرنی چاہییں اور گریڈ 17 سے کم کے افسر سے تحقیقات نہیں کروانی چاہییں۔

ریپ کیسز کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن شیڈول کے تحت جے آئی ٹی بنائی جانی چاہییں، جس میں ایک ایس پی انویسٹی گیشن، ایک ڈی ایس پی، ایک ایس ایچ او اور ایک خاتون پولیس افسر شامل ہو۔

مزید کہا گیا کہ ملک میں خواتین پر جنسی زیادتی کے واقعات میں متعلقہ قوانین پر سختی سے عملدر آمد ہونا چاہیے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین