کیا ہم نے فرشتہ کے ساتھ قتل کے بعد بھی زیادتی کی؟

پولیس نے کہا کہ 10 سالہ فرشتہ ’کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی‘ اور ٹی وی چینلوں نے کہا اس کا خاندان پختون نہیں افغان ہے۔ انصاف کی بات کسی نے نہیں کی۔

بعض نجی ٹی وی چینلز پرفرشتہ کیس سے زیادہ پی ٹی ایم کو موضوع بحث بنایا گیا( اے پی)

15 مئی سے اسلام آباد سے لاپتہ فرشتہ کی لاش تین دن قبل جنگل سے ملی۔ پولیس نے گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرنے میں پانچ دن لگا دیے کیونکہ ایس ایچ او کا خیال تھا کہ 10 سالہ فرشتہ اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی۔

کیس پہلے سے ہی تاخیر کا شکار تھا لیکن چند عناصرکے لیے بچی کو انصاف دلانے سے زیادہ ضروری تھا اس بات کا تعین کرنا کہ بچی آخر پختون تھی یا افغان اور اس کے باپ کا پی ٹی ایم سے کیا تعلق تھا۔ لیکن کیا معصوم فرشتہ کو انصاف دلانے کے لیے یہ سب جاننا ضروری ہے؟

لواحقین نے فرشتہ کی لاش ترامڑی چوک پر رکھ کر مبینہ زیادتی اور قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بچی کو انصاف نہ ملنے کی ذمہ دار پولیس ہے۔

پانچ دن تاخیر سے درج کی جانے والی ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اہل ِخانہ نے تھانے کے کئی چکر لگائے تاکہ بچی کو ڈھونڈنے کا عمل شروع کیا جا سکے اورگمشدگی کی ایف آئی آر درج کرائی جائے لیکن پولیس اہلِ خانہ کو انتظار کراتی رہی۔

پانچ دن بعد پولیس نے ایف آئی آر درج کی جس میں لواحقین نے پولیس پر مجرمانہ غفلت برتنے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

اس حوالے سے فرشتہ کے بھائی کی ٹوئٹر پر ویڈیو بھی شیئر ہوئی جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ 15 مئی کو پیش آیا۔ عصر کے وقت سے فرشتہ غائب تھی اور افطار کے بعد اسے ڈھونڈنا شروع کیا لیکن وہ نہیں ملی۔

انہوں نے کہا:’ ہم شہزاد ٹاؤن تھانے گئے جہاں پولیس نے گھنٹوں انتظارکرانے کے بعد ہماری درخواست جمع کی۔ پانچ دن ہم ذلیل ہوتے رہے، پانچویں دن ہم ایس ایچ او کے پاس گئے جو تھانے میں اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، ہم نے پوچھا کہ ہماری بہن کا کیا ہوا، تو ہمیں جواب دیا گیا کہ فرشتہ اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ کیا اتنی چھوٹی بچی اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ بھاگ سکتی ہے؟‘

دوسری طرف کچھ نجی میڈیا چینلز پر فرشتہ کے والد گل نبی کے حوالے سے مختلف خبریں سامنے آئیں۔

یہ دعویٰ کیا گیا کہ فرشتہ کے والد گل نبی کا تعلق مہمند ایجنسی سے نہیں بلکہ افغانستان سے ہے اور وہ اپنے خاندان سمیت جعلی آئی ڈی بنا کر پاکستان میں رہ رہے تھے۔ نجی ٹی وی چینل اے آر وائے نیوز نے کہا کہ ’فرشتہ کے قتل میں افغانوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس صورت حال میں یہ سوالات جنم لیتے ہیں کہ اگر یہ ثابت ہو بھی جائے کہ بچی اور اس کے اہل خانہ کا تعلق افغانستان سے ہے تو کیا بچی کو انصاف نہیں ملے گا؟ یا پھر انصاف ملنے کا تقاضا کچھ اور ہوگا؟ کیا یہ ضروری نہیں کہ بچی کو بروقت انصاف ملے اور اس کیس کا رخ کسی اور جانب موڑنے کی کوشش نہ کی جائے؟ لواحقین نے پولیس پر مجرمانہ غفلت برتنے کا الزام عائد کیا لیکن کیا میڈیا چینلز نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ریٹنگ کی دوڑ میں صحیح کردار ادا کیا؟

فرشتہ کیس میں پی ٹی ایم کا کردار

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کو جنوری 2018، کراچی میں نقیب اللہ محسود کے ماورائےعدالت قتل کیس کے خلاف احتجاج کرنے سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا۔

پشتونوں کے حقوق کے لیے اس تحریک نے اب تک ملک کے کئی شہروں میں ریلیاں منعقد کیں۔ حال ہی میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس تحریک کے عزائم کو ملک دشمن قرار دے کر اس کے حوالے سے سخت الفاظ  بھی استعمال کیے۔

جس نجی ٹی وی چینل نے فرشتہ کے والد پر افغان ہونے کا شبہ ظاہر کیا تھا ان ہی کی جانب سے یہ خبر بھی نشر ہوئی کہ ’فرشتہ کی موت پر پی ٹی ایم کے واویلے کا بھانڈا پھوٹ گیا۔‘

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک 10سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور قتل کے بعد پی ٹی ایم کا بھانڈا پھوڑنا زیادہ اہم ہے یا بچی کو انصاف دلانے کے لیے آواز اٹھانا؟

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی ایم کے خلاف پراپیگنڈا کرنا اس نجی ادارے کی اپنی پالیسی ہے یا یہ ادارہ کسی اور کی پالیسی کو ہوا دے رہا ہے؟

پی ٹی ایم کے حوالے سے نجی ٹی وی چینلز پر گفتگو کرنا یا تصاویر دکھانا ممنوع ہے لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ فرشتہ کیس سے زیادہ پی ٹی ایم کو موضوع بحث بنایا گیا۔ کیا یہ ہے اس معاشرے میں انسانیت اور صحافت کے تقاضے؟ کیا اتنی جلدی ہم نے زینب اور عاصمہ کے قاتلوں کو فراموش کردیا کہ آج معصوم فرشتہ کے نام پر سیاست کی جاری ہے؟

لوگوں نےا س حوالے سے برہمی کا بھی اظہار کیا اور BoycottARYNews# اور #میں_بھی_افغان_ہوں ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بنے رہے۔

 

پی ٹی ایم نے فرشتہ کو انصاف دلانے کے لیے ضلع ٹانک، ڈی آئی خان، پشاور اورمختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔

لیکن اگر پورے معاملے کا جائزہ لیا جائے تو کیا پی ٹی ایم نے واقعی اس کیس پر سیاست کرنے کی کوشش کی؟ پی ٹی ایم کی حامی سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کی تقریر کی ویڈیو بھی منظرِعام پر آئی جس میں انہوں نے پی ٹی ایم کی روایت کے مطابق افواجِ پاکستان کے خلاف گفتگو کی جبکہ احتجاج صرف فرشتہ کیس پر تھا۔

کیا پی ٹی ایم نے فرشتہ کے اہلِ خانہ کا ساتھ صرف اس لیے دیا کہ 2018 میں نقیب اللہ محسود قتل کے خلاف احتجاج سے ملنے والی شہرت کی طرح اس بار بھی پی ٹی ایم منظرِعام پر آسکے؟

اگر آپ اب بھی یہ سوچ رہے ہیں کہ آخر یہ معاملہ ہے کیا تو بس اتنا سمجھ لیجیے کہ اصل مقصد فرشتہ اور اس کے لواحقین کو انصاف دلانا تھا لیکن اب یہ معاملہ پی ٹی ایم اور اے آر وائے نیوز کی جنگ بن کر رہ گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ