کچھ لوگ ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں: جنرل باجوہ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ’ہم بیرونی دشمنوں کے تمام حربوں اور چالوں سے آگاہ ہیں مگر ہمیں اندرونی انتشار پھیلانے والے کچھ عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنا ہوگا۔‘

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 23 مارچ 2019 کو یوم  پاکستان کے موقع پر منعقدہ تقریب میں شرکت کے موقع پر (فائل فوٹو: اے ایف پی)

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک و قوم کو ایک بار پھر ہائبرڈ یا ففتھ جنریشن وار کے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ لوگ ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں، جو ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

چھ ستمبر کو یوم دفاع پاکستان کے موقع پر جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کی مراد کن لوگوں سے ہے لیکن کہا کہ ’عوام کے تعاون کے بغیر کوئی بھی فوج ریت کی دیوار ثابت ہوتی ہے۔ فوج کی کامیابی بڑی حد تک عوام کی حمایت پر منحصر ہے، ہمیں اس حقیقت کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا کہ موجودہ دور میں جنگ کی نوعیت بدل گئی ہے۔‘

’اب براہ راست حملے کے بجائے کسی قوم کی یکجہتی اور نظریاتی سرحدوں کو کمزور، اس کے مختلف طبقات میں انتشار پھیلانے، شہریوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے دیگر حربوں کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن کے ذرائع کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔‘

آرمی چیف نے مزید کہا: ’ہمارے دشمن بھی غیر روایتی ہتھکنڈوں جیسے کہ پروپیگینڈا اور ڈس انفارمیشن کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم بیرونی دشمنوں کے تمام حربوں اور چالوں سے آگاہ ہیں مگر ہمیں اندرونی انتشار پھیلانے والے کچھ عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹنا ہوگا، یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ کچھ لوگ ملک دشمن عناصر کے ہاتھ میں استعمال ہورہے ہیں، اسے ہائبرڈ یا ففتھ جنریشن وار کہا جاتا ہے اور اس کا مقصد پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا اور ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان کے عوام کی سلامتی اور ترقی کی امید طاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری خواہش ہے کہ افغان قیادت تمام معاملات افہام و تفہیم کے ذریعے طے کرتے ہوئے افغان عوام کو امن و اور خوشحالی سے ہمکنار کرے۔‘

مشرقی پڑوسی بھارت کو خبردار کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ’ہماری امن پسندی کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔‘

انہوں نے مسئلہ کشمیر پر بھی گفتگوکی اور کہا کہ ’ہم ہر سطح پر اپنے کشمیری بھائیوں کی، سیاسی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان