’ہم بھی سدپارا کی طرح پہاڑ چڑھنا چاہتی ہیں‘

وال کائمنبگ کے مقابلے میں شرکت کرنے  والی بچیوں کا مزید کہنا تھا کہ وہ وال کلائمبنگ کی مشق کر رہی ہیں کیونکہ وہ بھی محمد علی سدپارا کی طرح پہاڑ چڑھنا چاہتی ہیں۔ 

اسلام آباد سپورٹس کمپلیکس میں لڑکیوں میں کوہ پیمائی کے فروغ کے لیے وال کلائمبنگ کے مقابلے کا انعقاد کیا گیا جس میں معروف کوہ پیما علی سدپارا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ 

الپائن کلب کے سیکریٹری کرار حیدری نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’پاکستان میں چھ ہزار میٹرز سے بلند 120 چوٹیاں موجود ہیں اس لیے یہاں کوہ پیمائی مقبول کھیل سمجھا جاتا ہے جو ہمارے یوتھ اور بچوں میں بھی مقبول ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہاں وال کلائمبنگ کا مقابلہ رکھا گیا ہے۔‘

نویں جماعت کی طالبہ رباب نے بتایا کہ وہ پہلی مرتبہ کلائمبنگ کے لیے آئی ہیں اور بہت زیادہ پر جوش ہیں۔ گیارہویں جماعت کی طالبہ سونیا نے کہا کہ ’آج ہمارا کمپٹیشن ہے میں بالکل کنفیوز نہیں ہوئی بلکہ دو دن سے مشق  کر رہی ہوں اللہ کرے میں کامیاب ہو جاؤں۔‘

سونیا نے کہا کہ ’اس کے علاوہ مجھے بہت شوق ہے کہ میں کے ٹو کے پہاڑوں پر بھی جاؤں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ساتویں جماعت کی طالبہ نیہا مریم نے کہا کہ سہیلیوں کو دیکھ کر ان میں شوق اور اعتماد  پیدا ہوا کہ وہ بھی کلائمبنگ کریں۔ 80 فٹ اونچی وال پر کلائمبنگ ربر لگے تھے جن پر پاؤں رکھ کر دیوار پر چڑھنا تھا۔

وال کلائمبنگ میں سکولز اور کالجز کی بچیوں نے شرکت کی۔ مقابلے میں شرکت کرنے  والی بچیوں کا مزید کہنا تھا کہ وہ وال کلائمبنگ کی مشق کر ہیں ہیں کیونکہ وہ بھی محمد علی سدپارا کی طرح پہاڑ سر کرنا چاہتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین