’افغان پناہ گزینوں کو قبول نہیں کرنا چاہیے‘:سینیٹ رپبلکن امیدوار

امریکی سینیٹ کے رپبلکن امیدوار جم لیمن نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ’افغان پناہ گزینوں کو ان ممالک میں جانا چاہیے جو ان کے اور ہمارے لیے دوستانہ ہیں۔ ہم دنیا کا مہاجر کیمپ نہیں بن سکتے۔‘

24 اگست 2021 کو امریکی ایئرفورس کی جانب سے جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ فوٹو میں کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر افغان شہری امریکی فضائیہ کے سی 17 طیارے میں سوار ہوتے ہوئے (فوٹو: اے ایف پی/ امریکی ایئرفورس/ ماسٹر ایس جی ٹی ڈونلڈ آر ایلن)

امریکی سینیٹ کے رپبلکن امیدوار جم لیمن نے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو افغان پناہ گزینوں کو قبول نہیں کرنا چاہیے۔ ان میں مترجمین اور 20 سالہ جنگ کے دوران امریکی فوج کی مدد کرنے والے افغان بھی شامل ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق لیمن نے کہا کہ ’امریکہ کو جنگ میں مدد کرنے والے افغانوں کو اپنی سرزمین پر لانے کی بجائے، ان کی اس لحاظ سے مدد کرنی چاہیے کہ وہ طالبان سے فرار ہوکر مشرق وسطیٰ میں آباد ہو جائیں۔‘

لیمن نے کہا: ’انہیں ان ممالک میں جانا چاہیے جو ان کے اور ہمارے لیے دوستانہ ہیں۔ ہم دنیا کا مہاجر کیمپ نہیں بن سکتے۔‘

ایک شمسی توانائی فرم کے بانی لیمن 2022 کی سینیٹ نشست کی دوڑ میں ڈیموکریٹک امیدوار سین مارک کیلی سے مقابلہ کر رہے ہیں۔

پناہ گزینوں کے بارے میں ان کا موقف اس وقت سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں رپبلکن امیدوار اس حوالے سے کشمکش کا شکار ہیں کہ کس طرح امیگریشن کے شکوک و شبہات کو متوازن کیا جائے تاکہ ان افغانوں کو پناہ دی جا سکے جنہوں نے امریکہ کی مدد کرتے ہوئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔

بہت سے رپبلکنز نے سوال کیا ہے کہ آیا پناہ گزینوں کی جانچ پڑتال درست انداز میں کی جارہی ہے جبکہ کچھ نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ امریکہ بہت زیادہ افغانوں کو قبول کر رہا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ ان لوگوں کو بھی، جنہوں نے امریکی فوجیوں کی بہت زیادہ مدد کی، ان کو بھی خارج کر دیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سابق صدر ٹرمپ انتظامیہ کے مٹھی بھر عہدیدار رپبلکنز کو افغان مہاجرین کے خلاف کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، جو افغانستان کی حالیہ صورت حال کو ایک سخت گیر امیگریشن ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے ایک موقع کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ان افغانوں کو امریکہ میں سکونت دینے کی حمایت کرتے ہیں، جنہوں نے خصوصی تارکین وطن ویزا حاصل کیا ہے۔

لیمن بھی جارحانہ انداز میں ٹرمپ کی توثیق کر رہے ہیں اور ان کے بیانات رپبلکن پارٹی میں دیگر ارکان کے ساتھ اختلافات کا باعث بنتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ پناہ گزینوں کو قبول کرنا مسیحی تعلیمات کے مطابق ہے۔

ریاست ایریزونا کے گورنر ڈوگ ڈوسی اور ہاؤس سپیکر رسٹی بوورز، جو دونوں رپبلکنز ہیں، نے گذشتہ ماہ ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا کہ ایریزونا پناہ گزینوں کی آبادکاری میں ’منصفانہ حصہ‘ ادا کرے گا۔

ڈوسی اور بوورز نے کہا تھا: ’انہوں (افغانوں) نے اپنے ملک میں ہمارے فوجیوں کی مدد کی اور اب ہم ان کی مدد کے لیے تیار ہیں۔‘

لیمن کہتے ہیں کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، لہذا ان ممالک کو ’انہیں (افغان پناہ گزینوں) کو آباد کرنے میں ہماری مدد کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’میں جو چیز تجویز کروں گا وہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے ہماری مدد کی ، ہم ان کی پڑوسی ممالک میں جانے میں مدد کریں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا