’افغان ہوں، افغان ہی مروں گا‘ ہلمند کے گلوکار سلیمان شاہ کوئٹہ منتقل

سلمان شاہ کے مطابق کوئٹہ میں بھی پشتو موسیقی کو چاہنے لوگ موجود ہیں اس لیے ہمارا کام چل رہا ہے ’لوگ ہمیں عزت دیتے ہیں، شادی بیاہ میں بلاتے ہیں۔ ہم یہاں پہلے بھی آتے رہے ہیں۔‘

’افغان ہوں، افغان رہوں گا اور افغان ہی مروں گا۔‘ وطن اور قوم کی تعریف پر مشتمل یہ گانا گانے والے پشتو زبان کے معروف نوجوان گلو کار ’سلیمان شاہ وطن دوست‘ ہیں جو افغانستان کے صوبہ ہلمند سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ کوئٹہ میں منعقد ہونے والےایک شادی کی محفل میں اپنے فن کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

کوئٹہ میں اس وقت افغان گلوکاروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ جنہوں نے اپنے علاقے کو طالبان کے خوف سے ترک کردیا ہے۔

سلیمان شاہ چند روز قبل افغانستان میں اپنے علاقے کو چھوڑ کر کوئٹہ آئے ہیں۔ چونکہ افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد موسیقی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد خوف کا شکار ہیں اس لیے وہ نقل مکانی کرکے دوسرے علاقوں کو جارہے ہیں۔

سلیمان شاہ نے بتایا کہ ہلمند میں پشتوموسیقی گانے والے اور دیگرمتعلقہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے۔ وہاں کے لوگ موسیقی کے دلدادہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جب ملک میں حالات خراب ہوئے، جنگوں میں لوگ قتل ہونے لگے اور پھر طالبان کی حکومت آئی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ اب یہاں گزارہ کرنا مشکل ہے۔

سلیمان شاہ اپنے  خاندان اور دیگر لوگوں کے ہمراہ ہلمند سے قندھار اور وہاں سے سرحد عبور کرکے چمن میں داخل ہوئے اور پھر کوئٹہ پہنچ گئے۔

انہوں نے بتایا کہ  جب امن وامان کی صورتحال خراب ہوئی اور لوگ پریشان تھے کہ کیا کریں کیا نہ کریں تو ہم سب نے مل بیٹھ کر سوچا کہ کیا کرنا چاہیے۔ جس پر یہ فیصلہ ہوا کہ ملک کو چھوڑ دینا ہی بہتر راستہ ہے۔

سلیمان کہتے ہیں کہ اپنے علاقے اور جائے پیدائش کو ترک کرکے کسی اور جگہ جانا مشکل کام ہے اور ہم نے کوئٹہ تک پہنچنے میں بھی بہت سے مسائل کا سامنا کیا۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں موسیقی سے تعلق رکھنے والے افراد کی زیادہ تعداد ہلمند کندھاراورکابل میں ہے جن میں سے اکثر نے ملک کو چھوڑدیا ہے۔

سلیمان کے بقول: ہلمند اور قندھار میں رہائش پذیر موسیقی سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کوئٹہ منتقل ہوچکےہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ مزید کہتے ہیں کہ جو لوگ افغانستان میں رہ گئے ہیں جیسے کابل اور دوسرے علاقوں میں، انہوں نے موسیقی ترک کرکے محنت مزدوری اور دوسرے کام کرنا شروع کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کا گزر بسر کا ذریعہ صرف موسیقی ہی ہے، ان میں سے اکثر افغانستان سے نکل کر دوسرے ملکوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔

انہوں کا کہنا تھا کہ موسیقی کو وہاں فروغ ملتا ہے جہاں امن ہو اور لوگ خوشحال ہوں یا چاہنےوالے زیادہ ہوں یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں گلوکار،موسیقی کے آلات بجانے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

 سلیمان کہتے ہیں کہ افغانستان میں شادی بیاہ کی محفلیں موسیقی کےبغیر نہیں ہوتی ہیں اس لیے ہلمند میں بھی گلوکاروں کے بہت سےگروپ بن گئے تھے جو وہاں جاکر اپنے آواز کا جادو جگاتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ میں بھی پشتو موسیقی کو چاہنے لوگ موجود ہیں اس لیے ہمارا کام چل رہا ہے ’لوگ ہمیں عزت دیتے ہیں، شادی بیاہ میں بلاتے ہیں۔ ہم یہاں پہلے بھی آتے رہے ہیں۔‘

یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد ابھی تک حکومت قائم نہیں ہوسکی اور لوگ سابقہ ادوار کو دیکھتے ہوئے خوف کا شکار ہیں۔

سلیمان شاہ گزشتہ 14 سالوں سے گلو کاری کے شعبے سے وابستہ ہیں، وہ روایتی پشتو گانے گاتے ہیں اور ہارمونیم بجانےمیں مہارت رکھتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی موسیقی