انڈین ایئر فورس کی خاتون افسر کا مبینہ ریپ اور ’ٹو فنگر ٹیسٹ‘

ریپ کا الزام 29 سالہ فلائٹ لیفٹیننٹ امیتش ہرمکھ پر ہے جنہیں 26 ستمبر کو گرفتار کرنے کے بعد جیل بھیج دیا گیا تھا۔

بھارت میں انسانی حقوق کی کارکن  2019 میں مبینہ ریپ اور قتل کے خلاف مظاہرہ  کرتے ہوئے ( اے ایف پی/ فائل فوٹو)

بھاری ریاست تمل ناڈو میں ایئر فورس کی ایک خاتون افسر کو ان ہی کے ساتھی نے مبینہ طور پر ریپ کیا اور بعد میں انہیں اس واقعے کی تصدیق کرانے کے لیے غیرقانونی ’دو فنگر‘ ٹیسٹ کرانے کا کہا۔

پولیس میں اس واقعے کی شکایت 28 سالہ خاتون نے 20 ستمبر کو درج کروائی۔ درج کرائی گئی شکایت کے مطابق خاتون کا کہنا ہے کہ انہیں تمل ناڈو کے ضلع کوئمبتور میں ایئر فورس ایڈمنسٹریٹیو کالج کے کیمپس میں مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

ریپ کا الزام 29 سالہ فلائٹ لیفٹیننٹ امیتش ہرمکھ پر ہے جنہیں 26 ستمبر کو گرفتار کرنے کے بعد جیل بھیج دیا گیا تھا۔

خاتون آفیسر نے پولیس کو دی جانے والی درخواست میں ایئر فورس ہسپتال (اے ایف ایچ) کے ڈاکٹر پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے خاتون کو ’ٹو فنگر‘ ٹیسٹ کا کہا۔ اس ٹیسٹ پر پابندی عائد ہے کیونکہ یہ متاثرہ شخص کے پرائیویسی حق کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔

ٹو فنگر ٹیسٹ ریپ کے بارے میں جاننے کا ایک غیر سائنٹفک طریقہ ہے اور بھارتی سپریم کورٹ نے 2013 اس پر پابندی عائد کر دی تھی۔

خاتون کا کہنا ہے کہ ان سے ان کی ’سیکچوئل ہسٹری‘ کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے اور انہیں کالج انتظامیہ نے کہا کہ اگر وہ چند گھنٹے پہلے ٹخنے پر لگنے والی چوٹ برداشت کر سکتی ہیں تو وہ کیمپس میں اپنے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کرنے والے کو دیکھنے کا درد بھی برداشت کر سکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں زبردستی پولیس کے پاس بھیجا گیا کیونکہ انڈین ایئر فورس کی جانب سے کی جانے والی کارروائی تسلی بخش نہیں تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ انہیں کالج کے کمانڈنٹ اور دیگر سینیئر افسران نے مبینہ طور پر اپنی شکایت واپس لینے کو کہا تھا۔

پولیس کے پاس درج شکایت کے مطابق یہ واقعہ 10 ستمبر کی رات پیش آیا۔ خاتون افسر کو نو ستمبر کو باسکٹ بال کی تربیت کے دوران چوٹیں لگی تھیں۔ انہوں نے اس کے لیے درد کش ادویات لیں اور بعد میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ میس بار میں ملیں، جہاں ملزم نے انہیں دوسری ڈرنک کے پیسے دینے کی آفر کی۔

وہ اپنی درخواست میں کہتی ہیں کہ انہوں نے اس دوران قے کی اور ان کے دو دوست انہیں ان کے کمرے تک چھوڑنے آئے اور جاتے ہوئے کمرے کو باہر سے بند کر گئے۔

درخواست کے مطابق جب وہ سو رہی تھیں اس دوران ملزم ان کے کمرے میں داخل ہوا اور انہیں جگا کر بوسہ لینے لگا۔ انہوں نے ملزم کو ہٹانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی چوٹ کے باعث انہیں ہٹا نہ سکیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ انہیں اس سب کے بعد جو چیز یاد ہے وہ یہ کہ ان کی ایک خاتون دوست ان سے اگلے روز پوچھ رہی تھیں کہ کیا یہ شخص ان کے کمرے میں ان کی مرضی سے تھا۔ ان کی دوست نے ان کے بستر پر لگے سیمن کے دھبوں کی جانب اشارہ بھی کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ ملزم کے خلاف کھڑی ہوئیں جنہوں نے مبینہ طور پر ’خاتون کی پرائویسی پر حملہ آور‘ ہونے پر ندامت کا اظہار کیا۔

اس کے بعد خاتون آفیسر کو اے ایف ایچ جانے کا کہا گیا۔

انہوں نے باضابطہ شکایت میں کہا ہے کہ ’اس وقت جب مجھے معلوم ہوا کہ ٹو فنگر ٹیسٹ ریپ کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے نہیں کیا جاسکتا۔ اس ایکشن کی وجہ سے میں دوبارہ ریپ کیے جانے کے ٹرامہ سے گزری۔‘

گاندھی پورم پولیس سٹیشن نے انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 376 کے تحت ملزم کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کیا ہے۔

نیوز چینل این ڈی ٹی وی پر چلنے والے انڈین ایئر فورس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انڈین ایئرفورس پولیس کی تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہی ہے اور محکمہ جاتی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں۔ چونکہ یہ معاملہ زیر سماعت ہے اس لیے ہم اس پر مزید تبصرہ نہیں کر سکتے۔‘

دریں اثنا انڈین ایئر فورس نے پیر کو ایڈیشنل مہیلا (خواتین) کورٹ سے بھی رابطہ کیا تاکہ ملزم کے خلاف اپنی قانونی کارروائی کے لیے حکم نامہ حاصل کیا جا سکے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا