بلوچستان کس گنتی میں ہے؟ 

کیا بات ہے کہ بلوچ عوام کے شکوے جاننے ہوں تو ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس پہ جانا پڑتا ہے جن سے فارن فنڈنگ کی بو آتی ہے؟

کسی بھی وزیر اعلیٰ کے لیے بلوچستان میں اپنی مدت پوری کرنا سب سے بڑا چیلنج رہا ہے اور جام کمال بھی آج کل اسی مشکل میں ہیں (تصویر: حکومت بلوچستان)

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 


سوشل میڈیا قومی اہمیت کے معاملات کی فہرست بڑی بے ڈھب سی بنا دیتا ہے، ایک ہوا چلتی ہے اور سارے یوٹیوبرز باجماعت کسی ایک موضوع کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑ پڑتے ہیں۔ پھر کسی خبر کی اگلی لہر آجاتی ہے جس میں سارے یوٹیوبرز اجتماعی غوطہ زن ہوجاتے ہیں۔ 

چاہے وہ طالبان کی فتح ہو یا نئے آئی ایس آئی چیف کی مدح سرائی، سارے طوطے ایک ساتھ ہی ٹیں ٹیں کریں تو خبر خبر نہیں مہم لگتی ہے اور شک یہ ہوتا ہے کہ ایسی مہم کا فیول اور کچھ نہیں ہمارے ہی ٹیکس کا پیسہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ ایسی منظم مہم کے شور میں اصل خبر کہاں جاتی ہے؟ جواب کراچی کا سڑک چھاپ بھی دے سکتا ہے یعنی 'تیل لینے'۔ 

ہفتہ بھر نوٹیفیکشن کو روئے، اس سے قبل ایک نازیبا ویڈیو زیر بحث رہی، اس سے قبل ایسا ہی کچھ اور تھا، نہیں تھا تو ایک بلوچستان نہیں تھا۔ 

بلوچستان کا موضوع اتنا غیرمقبول ہے کہ زلزلہ بھی آ کر اسے جھنجھوڑ جائے تو خبر چار پانچ گھنٹے سے زیادہ نہیں ٹکتی۔ وزیراعلی جام کمال کے خلاف عدم اعتماد اور ان کے استعفی آنے نہ آنے کی خبر کو میڈیا پھر بھی پوچھ لیتا ہے کہ اس سے مرکز کی سیاست جڑی ہے۔ 

مگر بلوچ عوام کے نعروں، مطالبوں، دھرنوں اور احتجاج کو پاکستان کے مین سٹریم میڈیا تو کیا سوشل میڈیا میں بھی جگہ نہیں مل پاتی۔ ہماری قریب کی نظر اتنی کمزور ہے کہ ہم فلسطینی بچوں کی تصاویر کو تو بڑے اہتمام سے رو پیٹ لیتے ہیں مگر جب اپنے ہی گھر کے بلوچ اپنے بچوں کی لاشیں سڑکوں پہ لیے بیٹھے ہوں تو ہمیں رونا نہیں آتا۔ رونا تو دور کی بات ہمیں نظر نہیں آتا۔ 

ہم نے یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ سانحہ ہوشاب کیا گزرا؟ پچھلے دو ہفتوں میں بلوچستان میں بچوں کی میتیں سڑکوں پہ رکھ کر دھرنا دینے والے کون ہیں، اس سے قبل ایک میت کندھوں پہ رکھ کر کوئٹہ تک کیوں پہنچے، گوادر والے کیوں سڑکوں پہ آگئے؟ یہ اتنا شور مچانےو الے مولانا ہدایت الرحمن کون ہیں؟ 

کبھی یہ جاننے کی سعی کی کہ ہرنائی میں زلزلے کے بعد زخمیوں کو ہسپتال پہنچنے کے لیے کس راستے سے گزرنا پڑا یا پھر آواران کے گاوں میں بیٹھی لڑکی کے لیے انٹرنیٹ کنکشن ارو فاصلاتی تعلیم کس ناممکن چیلنج کا نام ہے۔ یہ صوبہ خراب سول گورننس کا مارا کیوں ہے؟ 

ذرا بھی کسی کو دلچسپی ہو یہ جاننے میں کہ بلوچستان کے ماہی گیروں پہ کیا گزر رہی ہے؟ مقامی بلوچوں کے لیے مکران بارڈر کی کیا اہمیت ہے؟ ایران سے تیل لانے والے کون ہیں؟ یہ تجارت نہیں تو کیا کریں گے؟ 

کیا بات ہے کہ بلوچ عوام کے شکوے جاننے ہوں تو ان سوشل میڈیا اکاونٹس پہ جانا پڑتا ہے جن سے فارن فنڈنگ کی بو آتی ہے؟ وہ کیا وجوہات ہیں کہ بلوچ طلبہ کے مطالبات اور ریلیوں کو پاکستانی میڈیا بلیک آوٹ کر دیتا ہے، پھر چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی علیحدگی پسندوں کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کھنگالنے پڑتے ہیں جہاں مظاہرین کو خوب کوریج ملتی ہے، بعض نعروں اور مظاہروں کو پڑوسی ملک اُچک لیتا ہے۔ 

عجیب بات ہے کہ یہ دل جلے، دکھی، غصے میں بھرے، ناراض بلوچ بہن بھائی ہمارے ساتھ ہی بیٹھے ہیں مگر انہیں منانے والے ہم نہیں۔ یہ مطالبات کرتے ہیں مگر سننے والے ہم نہیں۔ یہ ریاست سے جمہوری، آئینی سوال کرتے ہیں مگر جواب دینے کے روادار ہم نہیں۔ 

 یہ بلوچستان کی مرکزی شاہراہیں بلاک کر دیتے ہیں مگر ان راستوں سے ہمیں کیا واسطہ، وہاں جاتا کون ہے۔ یہ تربت کی کے کسی چوک چوراہے کے اندھِرے میں جتنی مرضی شعلہ بیانی کریں یہ چیخیں مرکز تک جانے والی نہیں۔ مرکز اور چکر دھندوں میں الجھا ہے جیسے کہ طالبان، الیکڑانک ووٹنگ مشین، چیئرمین نیب، نواز شریف کی واپسی، مریم کی پیشی، وغیرہ وغیرہ۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوستو شاید مصروف سیاست دانوں اور فیصلہ سازوں کی طرح ہم بھی بہت مصروف ہوگئے ہیں کہ ہمیں اتنی بھی فرصت نہیں کہ وہ چڑیا ہی بن جائیں جو ایک بوند سے نار نمرود بجھانے کی کوشش کرتی رہی اور کامیاب ہوئی۔ میں بھی شاید یہ کالم نہ لکھتی اگر بلیدہ کے صحافی امجد بلیدی کا وزیراعظم عمران خان کے نام یہ پیغام نہ پڑھا ہوتا، تحریر کا اختتام اسی پیغام کے ساتھ: 

'عمران خان صاحب 

مجھے غرض نہیں طالبان حکومت بنائیں یا نہیں، مجھے پرواہ نہیں کہ نیب چیئرمین یہی رہیں یا بدل جائیں۔ 

میرا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ الیکشن ای وی ایم سے ہوں یا دھاندلی سے، نواز شریف آئیں نہ آئیں، بلاول وزیراعظم بنیں یا نہ بنیں۔ 

لیکن وزیراعظم صاحب 

آئے روز میری بستی میرے کوچے میں رونما واقعات سے میں مایوسیوں کے دلدل میں دھنستا جا رہا ہوں، کبھی کسی نوجوان کو اٹھایا جاتا ہے تو کبھی سانحہ ہوشاب ہوجاتا ہے، لوگ سراپا ہیں لیکن ذمہ داران وزارت اعلیٰ کی جنگ لڑنے میں‏ مصروف ہیں۔  

ہمارے پاس پہلے ہی روزگار کے کوئی دوسرے ذرائع نہیں، ہم سمگلر نہیں ایران سے تیل لاتے ہیں تب ہی ہمارے گھر چلتے ہیں۔ ہم گوادر میں بجلی کے لیے سراپا احتجاج ہیں، بلیدہ میں منشیات کے خلاف، کوئٹہ اور تربت میں نوجوانوں کی ‏لاشیں رکھ کر۔ میں گھبرا چکا ہوں خان صاحب۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ