جارج اورویل کا نیا پاکستان؟

یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کہیں بچے بھوک سے مر رہے ہوں اور مریض ادویات کی عدم دستیابی سے، اور کہیں کسی کروڑ پتی شخص کے لیے ایئر ایمبولینسیں بھجوائی جا رہی ہوں۔

پاکستان میں عام آدمی کے لیے صحت کی سہولیات ناگفتہ بہ ہیں (اے ایف پی)

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں:

 


کوئی مشہور یا مقتدر آدمی بیمار ہوتا ہے تو ریاست ماں کی طرح اسے آغوش میں لے لیتی ہے۔ کوئی سیاست دان کرپشن پر جیل میں ہو تو وہاں خصوصی میڈیکل یونٹ تعینات کر دیا جاتا ہے۔

کوئی اہل ہنر جیل سے باہر ہو تو ایئر ایمبولینس تک اس کی دہلیز پر حاضر کر دی جاتی ہے لیکن عام آدمی زندگی اور موت سے دوچار ہو تو ریاست لاتعلق سی ہو کر ایک طرف کھڑی ہو جاتی ہے۔ کسی کے حفظ مراتب، قومی خدمات اور شخصی وجاہت کا انکار ممکن نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ کم ازکم انسانی جان کو بچانے کے سلسلے میں عام اور خاص کی تمیز ختم کر دی جائے؟

کوئی فنکار ہو، گلوکار ہو، اداکار ہو یا کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتا ہو، اس کے چاہنے والوں کی ایک کثیر تعداد ملک میں موجود ہوتی ہے۔ فطری امر ہے کہ وابستگی کا احترام کیا جائے۔ ان میں سے کوئی علیل ہو جائے تو اس کی خدمات کے اعتراف کا ادنیٰ تقاضا یہ ہے کہ اس کا درد مندی سے علاج کیا جائے لیکن یہ بھی غلط نہیں کہ اس میں ایک توازن لازمی ہے کیونکہ ریاست اور اس کے وسائل پر چند طبقات کا حق نہیں، پوری قوم کا ہے۔

اس حق میں حفظ مراتب کے تحت تھوڑی بہت کمی بیشی تو ہو سکتی ہے لیکن اتنا فرق نہیں ہونا چاہیے کہ کسی کے لیے تو جیل میں خصوصی ہسپتال بن جائے اور اس کی دہلیز پر ایئر ایمبولینس حاضر کر دی جائے لیکن کہیں خواتین بے بسی کے عالم میں ہسپتال کی پارکنگ میں بچوں کو جنم دینے پر مجبور ہوں۔ فرق بڑھے گا تو لازم ہے کہ سوالات اٹھیں گے۔

ادویات مہنگی ہو رہی ہیں۔ قیمتوں میں یہ اضافہ اتنا خوفناک ہے کہ کئی نادار اور حتیٰ کہ سفید پوش لوگوں کے لیے ادویات کے اخراجات اٹھانا ممکن نہیں رہا۔ سرکاری ہسپتالوں میں اتنا رش ہے کہ باری آتے آتے آدمی نمک کی طرح گھل چکا ہوتا ہے۔ اکنامک سروے کے مطابق ہم جی ڈی پی کا صرف ایک اعشاریہ دو فیصد صحت پر خرچ کرتے ہیں۔ عالم یہ ہے کہ 42 فیصد خواتین کو زچگی کے دوران تربیت یافتہ طبی عملے کی سہولت نہیں ہوتی۔

پیدائش کے وقت بچوں کی شرح اموات میں ہم نیپال، بھوٹان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور حتیٰ کہ افغانستان سے بھی بدترین سطح پر کھڑے ہیں۔ یہ اعدادو شمار درد کا دیوان ہیں، کوئی کہاں تک بیان کرے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ریاست کی بے نیازی کا یہ عالم ہے کہ آئین میں جن حقوق کو بنیادی انسانی حقوق قرار دیا گیا ہے، ان میں صحت کا حق شامل ہی نہیں۔ آئینی ماہرین سے سوال کیا جائے تو وہ اس کا حیلہ نکال لاتے ہیں کہ زندگی کا حق چونکہ بنیادی حق قرار دیا گیا ہے تو اسی میں صحت کا حق بھی شامل ہو جاتا ہے۔

اس بد تر عذر گناہ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ صحت کے جن مسائل سے انسان زندگی سے محروم نہیں ہوتا صرف اپاہج ہو جاتا ہے یا دیگر پیچیدگیوں سے دوچار ہو جاتا ہے، بسترسے جا لگتا ہے، بس سانس چلتی رہتی ہے وہاں کیا حکم نافذ ہوگا۔ زندگی تو موجود ہے لیکن صحت کا حق نہیں مل رہا۔

آئے روز یہاں آئین کی بالادستی کے رجز پڑھے جاتے ہیں لیکن آئین کی بالادستی سے مراد غالباً صرف یہ ہے کہ سیاسی اشرافیہ کے حق اقتدار کو، کوئی آمر پامال نہ کرے۔ آئین کی بالادستی کے اس پورے بیانیے میں عوام کہیں نہیں ہیں۔ عوام کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ جس آئین کے لیے وہ سڑکوں پر نکلتے ہیں اس آئین میں ابھی تک صحت کو ان کا بنیادی انسانی حق تسلیم ہی نہیں کیا جا سکا۔ سیاسی اور صحافتی بیانیے میں بھی آزادی رائے کے حق کو صحت کے حق پر عملاً فوقیت حاصل ہے۔

سرکاری ہسپتالوں میں، کارٹل بنتے جا رہے ہیں۔ ایک روز اعلان ہوتا ہے فلاں ہسپتال میں اب صحافیوں کا علاج مفت ہو گا، ایم او یو سائن ہو گیا ہے۔ اگلے روز خبر ملتی ہے وکلا کو خوش خبری ہو فلاں سرکاری ہسپتال میں معزز وکلا کا علاج بھی مفت ہو گا۔ یہ بندوبست اس وی آئی پی نظام کی ادنیٰ ترین شکل ہے جو بہت اوپر بیٹھی اشرافیہ سے شروع ہوتا ہے اور یہاں نیچے آ کر ختم ہو جاتا ہے۔

پمز جیسے ہسپتال میں جائیں تو ایک عدد ’کرٹسی سینٹر‘ بنا ہے جہاں سیاسی اشرافیہ، سینیٹر، ایم این ایز اور پھر اہل صحافت کو الگ سے ٹریٹ کیا جاتا ہے۔ عوام باہر لائنوں میں ذلیل ہو رہی ہوتی ہے اور اشرافیہ چند منٹوں میں مراد پا جاتی ہے۔

سرکاری ملازمتوں میں بھی یہی حال ہے۔ صحت کا الاؤنس گریڈ دیکھ کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ بیماری تو درجہ چہارم کے ملازم کو ہو یا 21ویں گریڈ کے افسر کو ایک جیسی ہوتی ہے۔ باقی کے الاؤنسز اور تنخواہ بھلے درجات اور گریڈز کے مطابق ہو لیکن صحت الاؤنس تو یکساں ہونا چاہیے۔ بیماری کا تعلق گریڈ سے نہیں انسانیت سے ہے۔ میڈیکل سائنس میں کہیں نہیں لکھا کہ گریڈ فور کے بندے کو لاحق مرض کی شدت گریڈ بیس کے افسر کو لاحق مرض سے کم ہوگی۔

ہر مشہور اورمقتدر شخص کا احترام اپنی جگہ لیکن کم از کم صحت کے معاملے میں سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔ کہیں بچے بھوک سے مر رہے ہوں اور مریض ادویات کی عدم دستیابی سے، اور کہیں ایئر ایمبولینسیں بھجوائی جا رہی ہوں اور جیلوں میں کسی ایک شخص کے لیے خصوصی میڈیکل یونٹس قائم کیے جا رہے ہوں، یہ رویہ غیر انسانی ہے اور اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ اداکار ہو فنکار ہو، گلوکار ہو، یا مزدور ہو، اپنی اپنی حیثیت میں سبھی نے خدمت کی ہوتی ہے۔

 حفظ مراتب کا کچھ فرق تو گوارا ہے لیکن اس فرق کا حجم ہمالیہ جتنا نہیں ہونا چاہیے۔ چاغی میں بچے بھوک سے ڈھانچے ہو کر مر رہے ہوں اور ایسے شخص کے لیے ایئر ایمبولینس بھیجی جا رہی ہو جو وراثت میں کروڑوں مالیت کا جائیداد چھوڑ کر جا رہا ہو تو یہ اعتدال نہیں، ظلم ہے۔ ایسے مواقع پر وراثت پر الجھتے ورثا سے اتنا تو کہا جائے کہ آدھی جائیداد بیچ کر کچھ خرچ آپ اٹھائیں، کچھ ریاست اٹھا لیتی ہے۔

عمران خان سے لوگوں کو بہت امیدیں تھیں، انہیں اپنے عمل سے ثابت کرنا ہو گا کہ یہ عمران خان کا نیا پاکستان ہے، جارج اورویل کا نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ