عمران خان نے اہم ترین تقرریوں پر ملک کو تماشا بنایا ہے: مریم نواز

پی ڈی ایم سے متعلق سوال پر مریم نواز نے کہا کہ ’پی ڈی ایم میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ پی ڈی ایم میں تمام سیاسی جماعتیں ایک ایجنڈے پر قائم ہیں۔ ‘

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’ ایک شخص کی تقرری سے ملکی وقار تباہ کیا ہے۔ یہ آئینی اور وزیراعظم کے اختیارات کا مسئلہ نہیں اپنی حکومت کو مہلت دینے کا مسئلہ ہے‘(تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے الزام لگایا ہے کہ عمران خان توہمات پر یقین رکھتے ہیں اور وہ ملک کی اہم ترین تقرریوں کے فیصلے جادو ٹونے اور جھاڑ پونک کے ذریعے کرتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں منگل کو پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’اگر جادو ٹونا کامیاب ہے توعوام کی بھلائی کے لیے کیوں استعمال نہیں کرتے۔ محض تقرریاں کرنے کے لیے کیوں جادو ٹونے کو استعمال کرتے ہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جادوٹونے کا استعمال کیجیے۔‘

مریم نواز نے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے تناظر میں کہا کہ ’یہ اپنی ذات اور حکومت کو چند دن اور مہلت دینے کا بہانہ ہے۔ پورا ملک اور پاکستان کا تماشہ بن گیا۔ ایک شخص کی تقرری سے ملکی وقار تباہ کیا ہے یہ آئینی اور وزیراعظم کے اختیارات کا مسئلہ نہیں اپنی حکومت کو مہلت دینے کا مسئلہ ہے۔ عمران خان اپنی حکومت بچانے کے لیے سیاسی سٹنٹ کر رہےہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آئین قانون جو اختیارات دیتا ہے آئینی وزیراعظم کو جو حقوق حاصل ہے اس میں کوئی دورائے نہیں۔ عمران خان آئینی اور منتخب وزیراعظم نہیں ایسا شخص ہے نوازشریف کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر قابض ہے۔ ایک شخص جو وزیراعظم کی کرسی پر قابض ہے۔‘

پی ڈی ایم سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ’پی ڈی ایم میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ پی ڈی ایم میں تمام سیاسی جماعتیں ایک ایجنڈے پر قائم ہیں۔ ‘

اس کے کچھ دیر بعد وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شہباز گل نے ملیکہ بخاری کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران مریم نواز کے الزامات کا جواب دتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف کے خاندان نے اپنے سیاسی مخالفین کی ذاتی زندگی، ان کے مذہبی عقائد اور خیالات کو ہمیشہ نشانہ بنایا ہے۔‘

انہوں نے گذشتہ دنوں لیک ہونے والی ویڈیوز کے تناظر میں کہا کہ ’ہر عزت دار شخص فکر مند ہے کیونکہ آپ اپنوں کی بھی ویڈیو نکال دیتے ہیں اور مخالفین کی بھی۔ تو یہ جادو ٹونے کی باتیں آپ ہمیں نہ سنائیں۔‘

آج کی سماعت میں کیا ہوا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامرفاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں اپیلوں پردرخواست گزار وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر نیب سے دلائل طلب کر لیے۔

کپٹن صفدراورمریم نواز ان کے وکیل عرفان قادر جب کہ نیب کی طرف سے عثمان غنی اور سردار مظفر عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔

 عرفان قادر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’نیب کے حالیہ کنڈکٹ پر بھی بات کرنا چاہوں گا، پری ٹرائل سٹیج پربہت ساری غلطیاں کی گئیں۔ درخواست میں پولیٹکل انجینئرنگ کی بات کی گئی ہےاس کے حوالہ سے کچھ نہیں کہنا چاہتا، ایسے واقعات ہوئے جس سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔‘

 جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ ’اب تو نیب ہر کسی کو گرفتار کرنے چلا ہےاس کے خلاف ثبوت ہو یا نہ ہو،اب نیب والے بھی تھانے کی طرح چلتے ہیں۔‘

 جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’ضمانت خارج کیس تواب سامنے نہیں، جب سامنے ہوتو دیکھا جائے گا۔‘

 عدالت نے دلائل سُن کر کہا کہ ’آپ نے جو بھی دلائل دینے ہیں وہ ہم اپیل اور درخواست دونوں میںرکھیں گے۔‘

 انہوں نے مزید کہا کہ ’بریت تو آپ دونوں میں مانگ رہے ہیں۔ اسی لئے دونوں پر فیصلہ ہوگا، ہم یہ تو نہیں کرسکتے کہ درخواست پر فیصلہ کریں اور اپیل زیر سماعت رہے۔‘

عرفان قادرایڈووکیٹ نے کہا کہ ’مریم نواز اور میاں نواز شریف کی ملکیت کا کوئی دستاویز موجود نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ’یہ اپارٹمنٹ آف شور کمپنی کے ذریعے خریدے گئے تھے، نیلسن اور نیسکول کے ذریعے یہ اپارٹمنٹس خریدے گئے۔‘

جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ ’ان آف شورکمپنیز سے اپیل کنندگان کا تعلق کیسے بنتا ہے؟‘

 جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’جب ہم دونوں کو سن لیں گے تو ہی فیصلہ کریں گے کہ کیس میں کیا کرنا ہے۔‘

جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ ’ہم نے دیکھنا ہے کہ ریکارڈ پر کیا چیز ہے اور پراسیکیوشن نے کیا ثابت کیا؟ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف کیا کیس ہے؟‘

عدالت نے نیب کو عرفان قادر کے اٹھائے گئے سوالات کےجواب میں دلائل کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت17 نومبر تک کیلئے ملتوی کردی۔

اس موقع پر سماعت ختم ہونے سے قبل ہی لیگی کارکنوں کی طرف سے کمرہ عدالت سے باہر نکلنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ ’مت کریں۔ ایسے نہ کریں۔ عرفان قادر صاحب ہمیں معلوم ہے کہ آپ کی موکلہ پبلک فِگرہیں۔ آپ یہ بتا دیں کہ کارکنان عدالت کے اندر ایسے نہ کریں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست