مہنگائی کا عوامی انقلاب

قصور کسی کا بھی نہیں ہے۔ ملک میں زندگی گزارنا ایک چیلنج ہمیشہ سے رہا ہے، مگر کبھی بےبسی اور پریشانی اپنی تباہ کن وسعتوں کے ساتھ ایسے حاوی نہیں ہوئی جیسے آج کل ہو رہی ہے۔

عوام کے پاس پاکستان میں رہنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ کراچی سٹاک ایکسچینج میں ایک بروکر پریشان بیٹھا ہے (فائل فوٹو:اے ایف پی)

مہنگائی ہماری زندگی کا حصہ بن گئی ہے، ایسا حصہ جس سے اب جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔ مہنگائی میں زندگی گزارنا مشکل ہے۔

بجلی اور پیٹرولیم کی مصنوعات میں مسلسل ہوشربا اضافے مہنگائی کو ایک ایسے سمندری طوفان میں بدل چکے ہیں، جس نے سب کچھ تہس نہس کر دیا ہے۔ حالت یہ ہے کہ نام نہاد یوٹیلٹی سٹورز پر بھی حکومت خود اپنے نرخوں میں اضافہ کر رہی ہے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی حکومت تین سال سے ہر ماہ عوام سے مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کا وعدہ کرتی رہی ہے اور ہر دوسرے مہینے قیمتوں میں اضافے کرکے اپنی صداقت کے خلاف شواہد بھی مہیا کرتی رہی ہے۔ اس مرتبہ یہ دوغلا پن مزید کھل کر سامنے آیا ہے۔

ایک ماہ پہلے پنجاب میں بیوروکریسی کے سربراہ کو تبدیل کیا، پولیس کی ہائی کمانڈ کو ایک مرتبہ پھر تبدیلی کی زد میں لایا گیا۔ کہا یہ گیا کہ پچھلی ٹیم مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہی تھی لہذا ہم نے کچھ نیا اہتمام کرنا تھا۔ نئی ٹیم نے ایک بریفنگ دی جس میں مہنگائی کو آٹھ سے 12 ہفتے میں لگام ڈالنے کے بلندوبانگ دعوے کیے گے۔ سب کو پتہ تھا کہ یہ سب کچھ فسانہ ہے۔

چونکہ خانہ پری ہی اب پالیسی بن گئی ہے لہذا سب نے اس پر تالیاں بجائیں۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ بجلی، گیس، کھانے پینے کی اشیا، کرائے سب کچھ اب ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ پہلے چادر سر یا پاؤں میں سے ایک ڈھانپنے کے لیے کافی تھی اب ستر بھی چھپ جائے تو غنیمت ہے۔

مانا کہ آئی ایم ایف نے گردن پر پاؤں رکھا ہے اور اس نے پاکستان کے حالات کے پیش نظر جو مطالبے کیے ہیں ان کا جواب دینے کے لیے اس کے نامزد کردہ افراد جو ملک کے کلیدی اداروں میں موجود ہیں، کسی طور نہ تیار ہیں اور نہ ہی باصلاحیت۔ اس مذاکراتی ٹیم کے چند ممبران کو پتہ ہے کہ انہوں نے اس پاکستان سے ایک وقتی ناطہ جوڑا ہوا ہے جو حالات کی تبدیلی کے بعد ختم ہو جائے گا۔ دوسرے ممبران اتنے مالدار ہیں کہ ان کی صحت پر قیامت خیز مہنگائی کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔ وہ ڈالروں میں کماتے ہیں، لوگوں کے پیسوں سے بینک چلاتے ہیں، سٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے اپنے خزانے بھرتے ہیں، ان کی بلا سے ٹماٹر کی قیمت کیا ہے۔ یا سات ہزار بجلی کا بل جب 14 ہزار روپے کا بن جاتا ہے تو اس سے ایک خاندان کی نیندیں کیسے حرام ہوتی ہیں۔

یہ بھی مان لیتے ہیں کہ کووڈ کی نحوست نے معیشت کو ہچکولے دیے، اگرچہ کرونا (کورونا) کے نام پر قرضوں کی ادائیگی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف سے مہیا کردہ امداد نے ریاست کے کھاتوں پر کوئی خاص اثر نہیں ڈالا۔

اس کے باوجود اس وقت مہنگائی کی صورت حال کی ذمہ داری فیصلہ سازی کے اس نظام کے علاوہ کسی اور پر نہیں ڈالی جا سکتی، جس کا سر پیر سمجھنا اب کسی کے بس کی بات نہیں رہی۔ جس ملک میں وزیر خزانہ کے عہدے کی مدت چھ مہینے سے زیادہ نہ ہو اور جہاں معاشی معاملات کو نہ ختم ہونے والی بےمغز احتساب کی گردان کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہو، جہاں عوام کی ابتر حالت کو پروپیگنڈے کے ڈھولوں پر ناچ گانے کے ذریعے چھپایا جاتا ہو، وہاں سے آپ معاشی خیر کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں۔

معاشی پالیسی سازی وژن اور لائحہ عمل کے تحت طے پاتی ہے۔ یہاں حالت یہ ہے کہ وزیراعظم کاشت کاروں کو براہ راست سبسڈی دینے کا اعلان اسی دن کرتے ہیں جب ان کی کابینہ بجلی میں ایک روپیہ انتالیس پیسے فی یونٹ بڑھانے کا اعلان کرتی ہے۔ اسی دن گھی، کوکنگ آئل، شو پالش، سرف، صابن، شیمپو، مصالحے، شربت، اچار اور درجنوں دوسری اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جاتا ہے۔

یہ وہی دن ہے جب شوکت ترین جو واشنگٹن میں پاکستان کے معاشی نمائندے کی حیثیت سے بات چیت کر رہے ہوتے ہیں، بطور وزیر خزانہ اپنے عہدے کی مدت کے اختتام کے تین دن بعد کسی نئے عہدے کے بغیر ڈٹ کر پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاشی پالیسیوں کی تعریفوں کے سنے سنائے پہاڑے مشینی روبوٹ کی طرح دہرا دیتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ کیسا نظام ہے جو فیصلہ سازی کے انداز کو کم ترین معیار پر چلانے سے بھی قاصر ہے؟ یہ کون سے سیاست دان ہیں جو اپنے حلقوں میں سے عوام کی پریشانی کے ابلتے ہوئے جذبات کو سننے کی صلاحیت نہیں رکھتے؟ یہ کیسی قیادت ہے جو مشکل زندگیوں کو جہنم میں تبدیل کرکے ان کو حوصلے اور استقلال کے لیکچر دیتی ہے؟

عوام کے پاس پاکستان میں رہنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ جن کے پاس کچھ وسائل موجود ہیں وہ اپنے بچوں کو یہاں سے نکال کر باہر بھیجنے کے چکروں میں رہتے ہیں۔ باوسائل طبقے نے یہ انتظام پہلے سے کرلیا ہے اور وہ سر پھرے جنہوں نے سہولت کے باوجود متبادل زندگی کا بندوبست نہیں کیا اب افسوس کرتے ہیں کہ کیا بھیانک غلطی کی۔

قصور کسی کا بھی نہیں ہے۔ ملک میں زندگی گزارنا ایک چیلنج ہمیشہ سے رہا ہے، مگر کبھی بےبسی اور پریشانی اپنی تباہ کن وسعتوں کے ساتھ ایسے حاوی نہیں ہوئی جیسے آج کل ہو رہی ہے۔ مستقبل میں ہر وہ شخص جس نے موجودہ تاریخ کو بھگتا ہے، بطور مورخ یا بطور گواہ یہ لکھے گا کہ کیسے ایک چلتے ہوئے نظام کو مفلوج کیا گیا، کیسے سیاسی انقلاب کے نام پر بربادی کا بندوبست بنایا گیا، کیسے عوام کی معیشت کو ریزہ ریزہ کرکے ان کو اول فول اور بے پر کے فلسفے کی گولیاں دی گئیں تاکہ وہ اپنا درد بھول جائیں۔

مورخ اور گواہ یہ بھی لکھے گا کہ سب کچھ اس ملک کے چلانے والوں نے اپنے ہاتھوں سے کیا۔ باوجود اس کے ہر ذی شعور شخص ان کو بتا رہا تھا کہ ملک کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں، آپ کو کرسی کا مزہ مل جائے گا مگر عوام رل جائے گی۔ یہ سب مشورے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیے گئے۔

کہا ہم نے ملک میں انقلاب لانا ہے۔ ہم نے نیچے کی مٹی کو اوپر کرنا ہے، نیچے کی مٹی یقیناً اوپر آئی ہے مگر اس کے انبار کے نیچے قوم کے لیے سانس لینا دوبھر ہے۔ یہ دنیا کا واحد انقلاب ہے جس نے خلقت کو سولی پر لٹکا کر خود کو کامیاب قرار دیا ہے۔


نوٹ: اس تحریر میں دی جانے والی رائے مصنف کی ذاتی رائے ہے ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ