وزیر اعظم کے نوٹس کے باوجود چینی کی قیمتیں کم کیوں نہ ہوئیں؟

وزیر اعظم عمران خان کے نوٹس لینے کے باوجود چینی کی قیمت 100 روپے فی کلو سے کم نہ ہو سکی۔ اس پر پنجاب حکومت اور شوگر ملز کیا کہتی ہیں؟

شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطابق ملیں چینی 88سے 90روپے فی کلو تک مارکیٹ میں فراہم کر رہی ہیں (اے ایف پی)

پاکستان میں گذشتہ سال کے آخر میں 52 روپے کلو ملنے والی چینی کی قیمت اچانک رواں سال کے آغاز پر 75 سے 80 روپے فی کلو ہوئی تو وزیر اعظم عمران خان نے 'شوگر مافیا' کے خلاف  تحقیقات کروائی اور ذمہ داروں کے خلاف مختلف اداروں کو کارروائی کا حکم دے دیا۔

حکومتی اقدامات کے بعد توقع تھی کہ  بازار میں چینی کی قیمتیں کم ہوں گی، تاہم ایسا نہ ہوا اور قیمتیں بڑھتی چلی گئیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے چند روز پہلے اس اضافے کا نوٹس لیا لیکن اس کے باوجود قیمتیں 85 روپے فی کلو سے 100روپے سے زائد تک پہنچ چکی ہیں۔ یوٹیلٹی سٹورز پر البتہ سبسڈی کے بعد چینی 68روپے فی کلو فروخت ہورہی ہے۔

صوبائی وزیر صنعت وتجارت میاں اسلم اقبال کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت قیمتیں مقرر کرے گی تو پھر صوبے میں اس پر عمل درآمد کرایا جائے گا جبکہ ضلعی انتظامیہ اشیائے خردونوش کی قیمتوں پر مبنی ریٹ لسٹ میں چینی کی قیمت شامل نہیں کر رہی۔

اس صورت حال میں شوگر ملز مالکان بھی قیمتیں کم کرنے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت تک پہلے ہی اپنے تحفظات پہنچا چکے ہیں اور جب تک تین لاکھ ٹن چینی درآمد نہیں ہوتی اس وقت تک قیمتوں میں کمی کا کوئی امکان نہیں۔

وزیر اعظم کے نوٹس پر قیمتیں کم ہوسکتی ہیں؟

شوگر ملز مالکان ایسوسی ایشن کے مرکزی عہدے دار اسلم فاروق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ شوگر ملز چینی 88سے 90روپے فی کلو تک مارکیٹ میں فراہم کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ قیمتیں مانگ بڑھنے کے باعث زیادہ ہیں، شوگر ملز مانگ پوری کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن پھر بھی ملک بھر میں سپلائی پوری نہ ہونے پر حکومت نے تین لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ان کے خیال میں جب تک باہر سے چینی نہیں آتی چینی کی قیمتوں میں کمی کا امکان نہیں۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ وزیر اعظم نے قیمتوں میں اضافے کا نوٹس لیا ہے تو کیسے کم نہیں ہوں گی؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ شوگر ملز مالکان چینی انکوائری کمیشن اور عدالتوں میں اپنی وضاحت پیش کر چکے ہیں، زمینی حقائق کے مطابق شوگر ملز مالکان نے گنے کی قیمتوں اور دیگر اخراجات کے حساب سے چینی کی قیمتوں کا ریکارڈ بھی پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملز سے نکلنے والی چینی مارکیٹ میں مزید مہنگی کرنے کے ذمہ دار ریٹیلر ہیں، ان کے خلاف کارروائی کا اختیار حکومت کا ہے۔

پنجاب حکومت چینی سستی کیوں نہیں کروا پا رہی؟

صوبائی وزیر صنعت وتجارت میاں اسلم اقبال نے بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان کے نوٹس پر ہم چینی کی قیمتیں کم کرانے کو تیار ہیں لیکن وفاقی حکومت نے ابھی تک چینی کی قیمتیں مقرر کر کے ہدایات جاری نہیں کیں۔

'جب وفاقی حکومت قیمتیں مقرر کر کے صوبوں کو ہدایات جاری کرے گی تو فوری کارروائی شروع کی جائے گی اور مہنگی چینی فروخت کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز ایکشن ہوگا۔'

ان سے پوچھا گیا کہ کب تک قیمتیں مقرر ہونے کا امکان ہے؟ توانہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے اس بارے میں کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی، جب بھی ہدایت ملی اس پر عمل درآمد کرادیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت