ٹی 20 ورلڈ کپ: دوسری ٹیموں میں چمکتے پاکستانی ستارے

عرب کے صحرا میں جاری ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ایک ایسی ٹیم ہے جس میں اکثریت پاکستان میں پیدا ہونے والے کھلاڑیوں کی ہے۔

عمان کے بولر  اور دیگر ساتھی کھلاڑی بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں وکٹ لینے کے بعد خوشی مناتے ہوئے (اے ایف پی)

پاکستان اور بھارت میں کرکٹ کو جو درجہ حاصل ہے وہ کسی اور کھیل کو حاصل نہیں، یہی وجہ ہے کہ ان دونوں ممالک نے ایسے بے شمار کھلاڑی پیدا کیے ہیں جو قومی ٹیم میں جگہ نہ ملنے پر دوسرے ممالک ہجرت کر گئے اور وہاں کی ٹیمز کا اہم جز بن گئے۔

ایسے کھلاڑیوں کی فہرست کافی طویل ہے کیونکہ چند ایک ملک چھوڑ کر ہر ملک کی ٹیم میں دو، چار پاکستانی یا بھارتی کھلاڑی ضرور مل جائیں گے۔

عرب کے صحرا میں جاری ٹی 20 ورلڈ کپ میں ایک ایسی ٹیم ہے جس میں اکثریت پاکستان میں پیدا ہونے والے کھلاڑیوں کی ہے۔

عمان کی ٹیم شاید واحد ٹیم ہے جس میں مقامی پس منظر رکھنے والا کوئی کھلاڑی نہیں جبکہ 15 رکنی سکواڈ کے دس ارکان وہ ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے اور روزگار کی نیت سے عمان کا رخ کیا جہاں موقع ملنے پر کرکٹ کھیلنے لگے اور قومی ٹیم تک آ پہنچے۔

ایسے ہی چند کھیلاڑیوں کا مختصر تعارف یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

ذیشان مقصود

عمان کے کپتان ذیشان مقصود ساہیوال میں پیدا ہوئے اور نوجوانی کے اوائل میں عمان چلے گئے تھے۔

پاکستانی ٹیسٹ کرکٹرز منظور الہی اور سلیم الہی سے قربت کے باعث باصلاحیت کرکٹر بن گئے۔ 33 سالہ ذیشان مقصود بائیں ہاتھ کے عمدہ بولر ہیں اور ٹی 20 ورلڈ کپ کے ابتدائی میچ میں چار وکٹس لے کر مین آف دی میچ بھی بن چکے ہیں۔

ذیشان کہتے ہیں کہ ’ہم جب عمان کی طرف سے کھیلتے ہیں تو صرف عمانی ہوتے ہیں اس ملک نے ہمیں پالا ہے تو ہم بھی نمک حلال کرنا چاہتے ہیں، ہم بس عمانی ہوکر سوچتے ہیں ان کی خواہش ہے کہ سپر 12 کے لیے کوالیفائی کریں اور پاکستان کے خلاف کھیلیں۔‘

خاور علی

پنجاب میں پیدا ہونے والے خاور علی اوپننگ بلے باز ہیں اور عمان میں بہت مقبول ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں اگر پاکستان میں رہتا تو شاید قومی ٹیم تک پہنچ جاتا لیکن مالی مجبوریوں نے عمان پہنچا دیا، اب تو بس یہیں کا سوچتے ہیں۔‘

عاقب الیاس

سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے 29 سالہ عاقب الیاس ایک قابل اعتماد اوپنر ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے پہلے ہی میچ میں پاپوا نیوگنی کے خلاف نصف سنچری سکور کر چکے ہیں۔

عاقب الیاس بھی روزگار کے غرض سے عمان آئے اور قومی کرکٹر بن گئے۔

بلال خان

پشاور کے پیدائشی بلال خان فاسٹ بولر ہیں اور اپنی تیز گیند بازی کے باعث خطرناک بولرز میں شمار ہوتے ہیں اور اب تک ٹی 20 کیرئیر میں 53 وکٹیں لے چکے ہیں۔

سفیان ندیم

عمان کی ٹیم میں واحد کھلاڑی ہیں جو عمانی شہریت رکھتے ہیں وہ خود تو عمان میں پیدا ہوئے لیکن والدین کا تعلق راولپنڈی سے ہے۔

ان تمام کھلاڑیوں کے علاوہ محمد ندیم، نسیم خوشی، آیان خان، فیاض بٹ، کلیم اللہ اور خرم نواز کا بھی پاکستان سے تعلق ہے اور عمان کی قومی ٹیم کے مستقل رکن ہیں۔

جبکہ کئی دوسرے کھلاڑی نیدرلینڈ، زمبابوے، ڈنمارک، متحدہ عرب امارات، ہانگ کانگ اور امریکہ کی طرف سے بھی  ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے کوالیفائرز میں حصہ لے چکے ہیں جن میں سے امریکہ کے علی خان تو پی ایس ایل میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستانی کھلاڑی بہت سے ایسوس ایٹ ممالک کی ٹیموں میں بھی اپنے جوہر دکھا رہے ہیں جن میں جرمنی آسٹریا، بلجیئم، فرانس اٹلی، ناروے، سوئیڈن کی ٹیمیں قابل ذکر ہیں اکثر ٹیموں کے کپتان بھی پاکستانی نژاد کھلاڑی ہیں۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر محمد وسیم بھی نیدرلینڈ کی طرف سے کھیل چکے ہیں۔ 2014 میں نیدرلینڈ کی شہریت ملنے کے بعد انہوں نے سکاٹ لینڈ کے خلاف میچ کھیلا تھا۔

محمد وسیم سوئیڈن کے قومی کوچ بھی رہ چکے ہیں۔

جرمنی کی قومی ٹیم بہت عرصہ پاکستانی کھلاڑیوں پر مشتمل رہی اور اب بھی چار پاکستانی کھلاڑی اہم ارکان ہیں۔

پاکستان کے سابق اوپنر سمیع اسلم بھی امریکہ منتقل ہوچکے ہیں اور اگلے سال سے قومی ٹیم کے لیے کھیل سکیں گے۔

ان تمام ممالک میں کھیلنے والے باصلاحیت کھلاڑیوں کے پاکستان سے باہر جانے کی کچھ بھی وجوہات ہوں لیکن اکثر کو یہی شکایت ہے کہ ان کی صلاحیت سے ان کے ملک نے تو فائدہ نہیں اٹھایا اور نظر انداز کر دیا لیکن غیر ممالک نے ان کی قدر کی اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ