بھارت کی شکست کی وجہ ٹیم میں اختلافات؟

بھارتی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی ہیں کہ بھارتی ٹیم کی ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی کے پیچھے ٹیم میں پائے جانے والے اختلافات ہیں۔

31 اکتوبر 2021 کو نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے دوران بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کا ایک انداز (فوٹو:اے ایف پی)

بھارتی ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی ٹی 20 ورلڈ کپ کے مسلسل دو میچ ہارنے کے بعد سے سخت دباؤ میں ہیں اور یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ ٹورنامنٹ سے قبل فیورٹ سمجھی جانے والی ٹیم سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی نہیں کر پائے گی۔

ایک طرف تو کوہلی کے ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ اختلافات کی خبریں آ رہی ہیں تو دوسری جانب میدان میں کوہلی کے کیے جانے والے فیصلوں پر بھی شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

ٹیم کے سب سے تجربہ کار سپنر روی چندر ایشون کو باہر رکھنے کی وجہ کے بارے میں قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ اس کے پیچھے کپتان کوہلی کا ہاتھ ہے۔

سابق انگلش کھلاڑی نک کامپٹن نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ’کوہلی کے ساتھ مخاصمت کی وجہ سے ایشون کو بھارتی ٹیموں سے باہر رکھنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کپتانوں کو اس قسم کا اختیار ہونا چاہیے؟‘

ایشون بھارتی تاریخ کے کامیاب ترین سپنروں میں سے ایک ہیں اور وہ ٹیسٹ، ایک روزہ میچوں اور ٹی20 انٹرنیشنل میں کل ملا کر 615 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں۔

ایشون کو حال ہی میں انگلستان کے خلاف ہونے والی ٹیسٹ سیریز سے بھی باہر رکھا گیا تھا۔

یاہو سپورٹس کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کوہلی اور ایشون کے درمیان جھگڑے کی بنیاد ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل کے دوران پڑی، جس کے بعد ایشون نے ٹیم کی انتظامیہ سے شکایت کی تھی کہ کوہلی نے انہیں ڈانٹا تھا کہ انہوں نے میچ میں اچھی کارکردگی نہیں دکھائی۔

انڈیا سخت مقابلے کے بعد یہ میچ ہار گیا تھا۔

وراٹ کوہلی پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ورلڈ کپ کے بعد ٹی20 کی کپتانی سے مستعفی ہو جائیں گے۔ کوہلی نے اس کی وجہ تینوں فارمیٹس میں کپتانی کی وجہ سے ان پر پڑنے والا ورک لوڈ بتایا تھا تاہم بھارتی میڈیا میں یہ بازگشت سنائی دی تھی کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے انہیں کہا ہے کہ ٹی20 کی کپتانی چھوڑ دیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگرچہ بی سی سی آئی نے اس کی تردید کی تھی مگر یہ کہا گیا تھا کہ چند سینیئر کھلاڑیوں نے کوہلی کے رویے کی شکایت کی تھی، جس کی بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا۔

بھارتی ٹیم میں سپرٹ نظر نہیں آ رہی جس کے لیے وہ مشہور تھی۔ بھارتی مبصرین نے لکھا ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے دوران کھلاڑی بجھے بجھے دکھائی دیے، خاص طور پر بیٹنگ کے دوران 71 گیندوں تک کوئی باؤنڈری نہ لگنا حیرت انگیز بات ہے، حالانکہ اس وقت کریز پر جارحانہ بیٹنگ کے لیے مشہور ہاردک پانڈیا اور رشبھ پنت کریز بھی پر موجود تھے۔

اس کے علاوہ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں کوہلی کی ٹیم سلیکشن پر بھی تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔ خاص طور پر کہا جا رہا ہے کہ سینیئر کھلاڑی روہت شرما کو اوپننگ سے ہٹانا غلط فیصلہ تھا، جس سے ٹیم کا مورال خراب ہوا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ