سی ڈی اے اسلام آباد کے مسائل کیوں نہیں حل کر پایا؟

اگر آپ شہر کے پوش علاقوں میں بستے ہیں تو خوش نصیب ہیں لیکن اسی شہر کے دوسرے سیکٹر والوں کے ساتھ سی ڈی اے کا سلوک سوتیلی ماں جیسا ہے۔

اسلام آباد کا ترقیاتی ادارہ سی ڈی اے اپنے 27 ہزار ملازمین کے ساتھ اس شہر کو سنوارنے میں مکمل ناکام ثابت ہوا ہے (تصویر: پکسا بے)

پاکستان کا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھی مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ یہاں کے سیکٹروں میں صاف پانی کی قلت ہے اور سردیوں میں 70 فیصد شہر میں گیس نہیں ہوتی۔

اگر تو آپ شہر کے وسطی علاقے ایف سکس سے ایف الیون تک کے درمیان بستے ہیں تو خوش نصیب ہیں لیکن اسی شہر میں آئی، جی اور ایچ سیکٹروں میں رہنے والوں کے ساتھ سی ڈی اے کا سلوک سوتیلی ماں جیسا ہے۔ جو سیکٹر ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے ڈویلپ کیے ان میں تو سڑکیں بھی تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں۔ جبکہ ایک سیکٹر پولیس فاؤنڈیشن نے ڈویلپ کیا جنہوں نے نالوں پر بھی تجاوزات قائم کر دیں، جس کا نتیجہ اسی سال تباہ کن سیلاب کی صورت میں نکلا۔ اسی طرح وہ شہر جو مسلسل پھیلتا جا رہا ہے اور یہ پھیلاؤ بہارہ کہو سے ترنول اور روات سے شاہ اللہ دتہ کی طرف جاری و ساری ہے۔

شہر کی دو بنیادی شہ رگیں ہیں۔ ایک روات سے فیصل مسجد کی طرف آنے والی اسلام آباد ایکسپریس وے کہلاتی ہے اور دوسری بہارہ کہو سے نئے اسلام آباد ایئرپورٹ کی طرف جانے والی کشمیر ہائی وے کہلاتی ہے۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ صبح اور شام کے دفتری اوقات میں ٹریفک کی لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں۔ 15 منٹ کا سفر گھنٹوں پر پھیل جاتا ہے۔

اسلام آباد کے تعمیراتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی مشرف دور میں دیکھی گئی جب کامران لاشاری کو لاہور سے لا کر سی ڈی اے کا چیئرمین لگایا گیا۔ انہوں نے نہایت مختصر وقت میں شہر کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ اسلام آباد ایکسپریس وے کو پانچ رویہ کرکے کورال چوک تک سگنل فری کیا گیا۔ کشمیر ہائی وے کو بھی پانچ رویہ کرنے کا منصوبہ شروع ہوا۔ سیونتھ ایونیو بنایا گیا۔ کئی جگہ سگنل فری فلائی اوور بنائے گئے۔ ایف نائن پارک کو ڈویلپ کیا گیا۔ شکرپڑیاں کی قومی یادگار بنائی گئی۔ لوک ورثہ میوزیم جیسے منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچے۔

مگر اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے اسلام آباد کو نظر انداز کیا۔ بالخصوص پیپلز پارٹی کی حکومت کے دور میں تو ایک اینٹ بھی نہیں لگائی گئی۔ نوازشریف نے شہر کو میٹرو جیسا بڑا منصوبہ دیا، بلکہ اسلام آباد کے لیے ایک بڑے ماس ٹرانزٹ منصوبے پر عمل در آمد شروع کیا گیا۔ پشاور موڑ سے میٹرو بس جس کا 80 فیصد کام نواز شریف دور میں مکمل ہو چکا تھا، اس کا باقی 20 فیصد کام ہنوز تکمیل طلب ہے۔ جبکہ روات سے فیصل مسجد تک مونو ریل پراجیکٹ جسے نوازشریف شروع کرنا چاہتے تھے، موجودہ حکومت نے آ کر اسے بھی طاق پر رکھ دیا ہے۔

اسلام آباد ایکسپریس وے کو کورال چوک کے بعد روات ٹی چوک تک سگنل فری کرنے کا منصوبہ بھی نوازشریف دور میں شروع ہوا تھا مگر اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس پر کام یہ کہہ کر رکوا دیا تھا کہ اس دور میں پی ٹی آئی کے دھرنوں کا کراؤڈ جن آبادیوں سے آتا تھا وہ اسی اسلام آباد ایکسپریس وے پر واقع تھیں۔

پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو ان آبادیوں کے مکینوں کی امید بندھی مگر آج تین سال ہونے کو آئے ہیں پی ٹی آئی نے پی ڈبلیو ڈی انڈر پاس کا جو منصوبہ شروع کیا تھا اس کی تکمیل کا دورانیہ تو پانچ ماہ کا تھا مگر ایک سال گزرنے کے باوجود بھی یہ ادھورا پڑا ہے۔ اسی انڈر پاس سے پہلے کورنگ برج کا منصوبہ بھی تکمیل کی راہ دیکھ رہا ہے اور کمپنی نے اپنا تمام زور راول ڈیم چوک فلائی اوور کی تکمیل میں لگایا ہوا ہے۔

سی ڈی اے نے ایف نائن پارک کے سامنے والی بیلٹ پر نئے بلیو ایریا کی تعمیر بھی شروع کر رکھی ہے۔ یہاں کئی ایک کمرشل منصوبے زیر تکمیل ہیں تاہم اسلام آباد میں بلیو ایریا کی توسیع اگر اسلام آباد ایکسپریس وے کے ارد گرد کی جاتی تو شہر پر ٹریفک کا بہاؤ کم رکھنے میں مدد ملتی، کیونکہ شہر کی جدید آبادیاں بحریہ ٹاؤن، ڈی ایچ اے، میڈیا ٹاؤن، پی ڈبلیو ڈی، کورنگ ٹاؤن، گلبرگ، جناح گارڈن، سواں گارڈن وغیرہ اسی ایکسپریس وے کے گرد واقع ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس لیے سی ڈی اے اگر اسلام آباد ایکسپریس وے کے گرد نیا بلیو ایریا بناتا تو اسے اربوں روپے کا فائدہ ہوتا اور ٹریفک کے بہاؤ کو بھی شہر سے ہٹایا جا سکتا تھا مگر سی ڈی اے نے اس طرح کے گیم چینجر منصوبے شروع کرنے کی بجائے ایسے منصوبوں پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے جو دوررس اثرات کے حامل نہیں ہیں۔

شیخ رشید اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود لئی ایکسپریس وے کا منصوبہ شروع نہیں کروا سکے۔ راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ بھی کسی آسیب کا شکار ہو چکا ہے۔ جس منصوبے کی تکمیل کی نوید دو سال میں سنائی جا رہی تھی اسے متنازع بنا کر اس کے سارے فنڈز روک لیے گئے ہیں۔ یہ آسیب ہی تو ہے کہ جو منصوبہ سب سے پہلے1984 میں بنایا گیا تھا وہ 2021 میں بھی شروع نہیں ہو سکا۔

کورال سے روات تک ایک نیا شہر وجود میں آچکا ہے جسے سوسائیٹیوں نے ڈویلپ کیا ہے مگر یہاں ایک بھی سرکاری ہسپتال، کالج، یونیورسٹی نہیں ہے جس کی وجہ سے تمام لوگوں کو اسلام آباد کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اسلام آباد میں عرصے سے کوئی نیا ہسپتال یا یونیورسٹی نہیں بنی۔ ترلائی میں ایک بڑا قطعہ اراضی ہسپتال کے لیے وقف پڑا ہے جس کے بارے میں شنید تھی کہ اسے متحدہ عرب امارات زلزلہ زدگان کے فنڈ سے بنائے گا مگر یہ منصوبہ بھی ہنوز کاغذوں کی فصیل پار نہیں کر سکا۔

اسلام آباد کا ترقیاتی ادارہ سی ڈی اے اپنے 27 ہزار ملازمین کے ساتھ اس شہر کو سنوارنے میں مکمل ناکام ثابت ہوا ہے اور جوں جوں وقت گزر رہا ہے، مسائل کے انبار لگتے چلے جا رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان