بھارت: شامی کا دفاع مذہبی عصبیت کے خلاف اہم

ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شکست کے بعد بھارتی ٹیم کے واحد مسلمان محمد شامی کو سوشل میڈیا پر بدتمیزی کا نشانہ بنایا گیا جس پر ان کے کپتان وراٹ کوہلی دفاع میں سامنے آئے۔ کیا یہ اہم موقع یا موڑ ہے؟

کولکتہ میں ایک طالب علم نے بھارت کے مسلمان کرکٹر محمد شامی کی حمایت میں پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے(تصویر: اے ایف پی)

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی کا اپنے مسلمان ساتھی کھلاڑی محمد شامی کا بھرپور دفاع ملک میں ہندو مذہبی عصبیت کی بڑھتی ہوئی لہر کے خلاف جنگ میں ایک اہم لمحہ بن سکتا ہے۔

ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شکست کے بعد بھارتی کرکٹ ٹیم کے اکیلے مسلمان کھلاڑی شامی کو سوشل میڈیا پر نشانہ بنایا گیا اور بہت سے لوگوں نے الزام لگایا کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے انہوں نے جان بوجھ کر بری کارکردگی کا مظاہرہ کیا تاکہ پاکستان میں ان کے ساتھی مسلمان جیت سکیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ان کی ٹیم کے دیگر 10 ہندو ساتھیوں نے بھی انتہائی بری کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کو ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف پہلی کامیابی دلائی۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان کے خلاف کھیلنے والے بھارتی مسلمان کی حب الوطنی پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ جب بھی دونوں ممالک نے کھیلا ہے، چاہے وہ کرکٹ ہو یا ہاکی، جہاں بھی ان کے درمیان زبردست دشمنی ہے، بہت سے ہندوؤں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا کوئی بھارتی مسلمان واقعی ہندوستان کے سب سے بڑے مسلم حریف کے خلاف اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ 1960 کی دہائی میں اس رویے نے اس وقت بھارتی کرکٹ کے ابھرتے ہوئے ستاروں میں سے ایک عباس علی بیگ کے کیریئر کو اتنا متاثر کیا کہ وہ واقعی کبھی سنبھل نہیں سکے۔

یقیناً بھارتی کرکٹ میں مذہب کا ہمیشہ بہت متجسس کردار رہا ہے۔ بھارت کی کرکٹ کے ابتدائی سالوں میں ہندوؤں، مسلمانوں اور پارسیوں کے لیے علیحدہ ٹیمیں بنائی جاتی تھیں۔ ان مذہبی ٹیموں نے ایک برطانوی ٹیم کے خلاف ایک ٹورنامنٹ میں کھیلا، جس نے ملک میں کرکٹ کی بنیاد رکھی، جہاں خالص یورپی خون والے کھلاڑی ہی حصہ لے سکتے تھے۔ یہ ٹورنامنٹ گاندھی کے اصرار پر روک دیا گیا تھا، جنہوں نے محسوس کیا کہ اس سے مذہبی تعصب کو ہوا ملتی ہے۔

تاہم 1980 کی دہائی میں جب میں بھارتی کرکٹ کی تاریخ پر تحقیق کر رہا تھا تو میری ملاقات بہت سے کرکٹرز سے ہوئی جو ٹورنامنٹ میں کھیل چکے تھے اور انہوں نے اصرار کیا کہ اس سے مذہبی عصبیت کی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی ہے۔ اب ستم ظریفی یہ ہے کہ اگرچہ اس طرح کا ٹورنامنٹ ناممکن ہوگا لیکن مذہبی عدم رواداری میں اضافہ ہوا ہے جس کو ہندو مت کے انتہا پسندوں نے ہوا دی ہے۔ ان کی نریندر مودی کی بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بہت حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

اور مسلمانوں کی حب الوطنی پر یہ سوال ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب بھارت کے لیے کھیلنے والے مسلمانوں کی تعداد میں ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے۔ 60 کی دہائی میں، جب میں ممبئی میں پرورش پا رہا تھا، اور کھیل کے بارے میں پرجوش تھا، بھارت میں کئی ممتاز مسلمان کرکٹرز تھے، جن کی قیادت کرشماتی پٹودی کے نواب کر رہے تھے جنہوں نے ایک مردہ، بورنگ کھیل کو بہت دلچسپ بنا دیا تھا۔ انہوں نے ایک مشہور ہندو اداکارہ سے بھی شادی کی، جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کیا۔ اس وقت ایسا لگتا تھا کہ پٹودی نے کرکٹ اور زندگی دونوں میں جادو بھر دیا ہے۔

یہ اس بات کا پیمانہ ہے کہ ملک میں کتنی تبدیلی آئی ہے کہ آج ہندو جنونی شاید پٹودی کو ایک مسلمان ’جہادی‘ قرار دے دیتے جو ہندو خواتین کو پھنسانے اور ہندو مذہب کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہندو مذہبی عصبیت اور پاکستان مخالف احساس اتنا زہریلا ہے کہ کھیل چلانے والے عالمی ادارے آئی سی سی کے زیر اہتمام بین الاقوامی مقابلوں سے باہر بھارت اپنے پڑوسی سے کرکٹ نہیں کھیلتا۔ پاکستانی کرکٹرز کو دنیا کے کامیاب ترین کرکٹ ٹورنامنٹ آئی پی ایل میں کھیلنے کی بھی اجازت نہیں ہے جو دنیا کے بیشتر ممتاز کرکٹرز کے لیے شاندار شو ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کچھ عرصہ قبل بھارتی ٹیلی ویژن پر میں نے مشورہ دیا تھا کہ چونکہ بھارت کے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں اس لیے اسے پاکستان کے ساتھ کرکٹ بھی کھیلنی چاہیے۔ میری ایک ملک دشمن کے طور پر مذمت کی گئی اور الزام عائد کیا گیا کہ چونکہ میں اس طرح کے میچوں پر کمنٹری کرکے پیسہ کماؤں گا لہذا میں یہ بات کر رہا ہوں۔

اس طرح کے ماحول کے خلاف وراٹ کوہلی نے نہ صرف شامی کی حمایت میں آواز اٹھنے کا فیصلہ کیا بلکہ ان کی جانب سے خاص طور پر مذہبی عصبیت کی مذمت کرنا بھی اہم ہے۔ اس کے نتیجے میں انہیں بھی خوفناک بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ ممتاز سابق بھارتی کرکٹرز کے بالکل برعکس ہے جنہوں نے شامی کا دفاع کرتے ہوئے مذہب کے کسی بھی ذکر سے گریز کیا ہے۔

یقیناً کوہلی ہمیشہ سے ہی ان کے اپنے آدمی رہے ہیں۔ گذشتہ سال انہوں نے آسٹریلیا میں ایک اہم ٹیسٹ سیریز سے وقت نکال کر اپنی اہلیہ کے ساتھ زچگی کے دوران رہنے کا فیصلہ کیا۔ انگلینڈ کے ماضی کے دورے میں انہوں نے معین علی کے ساتھ وقت گزارا جو ایک دین دار مسلمان ہیں اور انہوں نے مذہب اور اس سے لوگوں کی زندگیوں پر کیا اثر پڑتا ہے اس پر تبادلہ خیال کیا۔

ایک ایسے ملک میں جہاں کرکٹ کی جنون کی حد تک پیروی کی جاتی ہے اور بھارت جو کھیل کا معاشی پاور ہاؤس ہے، کوہلی کی آواز وسیع پیمانے پر گونجی ہے۔ لیکن کیا ان کی مداخلت دوسرے ممتاز بھارتیوں کو ہندو مذہبی عدم رواداری کے خلاف بولنے پر آمادہ کرے گی، یہ دیکھنا باقی ہے۔


مہیر بوس ’دی نائن ویوز: ایکسٹرا آڈنیری سٹوری آف انڈین کرکٹ‘ کے مصنف ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ